بشار الاسد کے ایران دورے پر صہیونی ذرائع ابلاغ کا رد عمل




اسرائیلی اخبار “ہاۤرتض” نے لکھا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ تہران میں آیت اللہ خامنہ ای، بشار الاسد، حسن روحانی اور قاسم سلیمانی نے باہمی طور پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کے لبوں پر مسکراہٹ محسوس کی گئی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، شام کے صدر بشار الاسد کا اچانک ایران دورہ عالمی میڈیا کے تبصروں کا موضوع بن چکا ہے اسی اثنا اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی اس دورے پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔
شام کے صدربشار الاسد نے ایسے حال میں ایران کا دورہ کیا اور رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای سے ملاقات کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو روس کا دورہ کر کے شام میں ایران کی موجودگی کے بارے میں گفتگو کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
اسرائیلی اخبار “ہاۤرتض” نے اس بارے میں لکھا: شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ تہران میں آیت اللہ خامنہ ای، بشار الاسد، حسن روحانی اور قاسم سلیمانی نے باہمی طور پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کے لبوں پر مسکراہٹ محسوس کی گئی، اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے سربراہان نے مختلف سطح پر باہمی تعاون پر اتفاق کیا۔
اس نیوز ایجنسی نے مزید لکھا کہ ایسی ملاقات وہ بھی ایسے حالات میں جب شام میں امریکی پالیسیوں کی شکست ہو چکی ہے اور “دولت اسلامیہ عراق و شامات” (داعش) بھی تشکیل پانے میں ناکام ہو چکی ہے، یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ داخلی جنگوں میں طاقت کا توازن بالکل بدل رہا ہے۔

صہیونی اخبار “والا” نے بھی اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بشار الاسد نے اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کی مبارک باد کے لیے آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے، اس ملاقات میں دونوں سربراہان نے دشمن ممالک کے مقابلے میں ایران و شام کے باہمی تعاون اور مشرق وسطیٰ میں دھشتگردی سے مقابلے کی راہوں پر گفتگو کی ہے۔

اسرائیل کی تجزیاتی ویب سائٹ “معاریو” نے بھی بشار الاسد کی آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کو اہم سرخی قرار دیتے ہوئے لکھا: اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنما نے بشار الاسد نے کہا: ” آپ عرب دنیا کے ہیرو ہیں” اسی طرح ایرانی رہنما نے مزید کہا: شام میں امریکہ کو شکست شام کے عوام کی استقامت اور پائیداری کی وجہ سے ہوئی ہے، ایران اور شام کا اتحاد اور دشمنوں کے مقابلے میں دونوں ملکوں کی استقامت اور مزاحمت دھشتگردوں کی نابودی کا سبب بنے گی۔
صہیونی اخبار “اسرائیل ہیوم” نے بھی بشار الاسد کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کے عنوان کے ذیل میں سپاہ پاسداران انقلاب کی تصویر بھی لگا کر انہیں شام میں داعش کے مقابلے میں لڑنے والے جنگجووں کا نام دیا ہے۔
اسرائیل ہیوم نے مزید لکھا کہ بشار الاسد کا تہران دورہ شام اور ایران کے گہرے روابط کی عکاسی کرتا ہے اور آیت اللہ خامنہ ای کے بیانات کی بنا پر یہ تعلق مزید گہرا ہو جائے گا۔

اسرائیلی اخبار “جروزالم پوسٹ” نے اس بارے میں لکھا: بشار الاسد نے ایک اہم دورہ کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات پولینڈ میں ایران مخالف کانفرنس کے ایام میں ایران اور شام کے تعلقات کو مزید مستحکم بنائے گی اور ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں پر اس کا گہرا اثر پڑے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/گ/۱۰۰۰۳