برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا برصغیر میں نقطہ آغاز




برطانوی ملکہ الزبتھ اول کی قائم کردہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۶۰۰ء میں جب برصغیر کی سرزمین پر پاؤں رکھا تھا تو کسی کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سورت اور مدراس میں مسالہ جات کے تجارتی مراکز قائم کرنے والی یہ بے ضرر سی کمپنی کسی دن پورے ہندوستان پر برطانوی راج کی راہ ہموار کر دے گی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: برطانیہ کی بیرون ملکی تجارت کی تاریخ در حقیقت تیرہویں صدی عیسویں اور ‘لندن تجارتی کمپنی’ کی طرف پلٹتی ہے۔ سولہویں صدی میں برطانیہ کے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات، بھارت اور ایران کے ساتھ تجارت کا بھی نقطہ آغاز شمار ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے جس انگریز نے بھارت کا سفر کیا وہ “توماس اسٹفنس” (۱۵۷۹) تھے۔
کچھ عرصہ تجارتی سرگرمیوں کے بعد، ۳۱ دسمبر ۱۶۰۰ میں الزبتھ کے حکم سے لندن تجارتی کمپنی نے انڈیا کے ساتھ باضابطہ تجارتی معاملات شروع کئے۔ درحقیقت یہ کمپنی وہی “ایسٹ انڈیا کمپنی” تھی جس نے بعد میں ہندوستان کو اپنا مرکز انتخاب کیا۔ اس کمپنی نے اس وقت جنم لیا جب ۲۱۸ انگریز تاجروں نے الزبتھ کو خط لکھا کہ وہ برصغیر میں ایک تجارتی کمپنی کی تاسیس کے ذریعے ایشیا کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کمپنی برطانوی ملکہ کے براہ راست حکم سے وجود میں آئی اور اس کا اکثر منافع برطانیہ کی حکومت کو جاتا تھا۔ یہ کمپنی بہت جلد اس قدر طاقتور ہو گئی کہ سالانہ دس ہزار اشرفیاں حکومت کے خزانے میں دیتی تھی۔ اور یہ اشرفیاں ان رشوتوں کے علاوہ تھیں جو یہ کمپنی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے حکومتی کارندوں کو دیتی تھی۔ اور رشوتوں کا یہ سلسلہ سبب بنا کہ حکومت برطانیہ شدت سے اس کمپنی سے وابستہ ہو جائے۔ لہذا اس دوران (۱۶۸۵-۱۶۶۰م) میں حکومت برطانیہ اور خود ملکہ کی جانب سے اس کمپنی کو حاصل حمایت قابل تعجب نہیں ہے۔ اس کی اصلی وجہ یہ تھی کہ یہ تعلق اور وابستگی دوطرفہ تھی، ایک طرف سے برطانوی بادشاہ کو اس کمپنی کے پیسے اور دولت کی ضرورت تھی اور دوسری طرف سے ایسٹ انڈیا کمپنی کو حکومت کی سیاسی حمایت درکار تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا نفوذ اس قدر وسیع ہو گیا تھا کہ “چارلز دوم” کے دور میں اس کمپنی نے زمینیں قبضانے کے حق سے لیکر، اعلان جنگ اور ملک کے اندرونی امور اور عدلیہ تک امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے مشرقی ایشیا یا برصغیر میں تجارتی نفوذ بڑھانے کے لیے پہلی تلاش و کوشش، ‘جان میلڈن ہال (John Mildenhall) نامی شخص کو بھیجنے کے ذریعے شروع ہوتی ہے۔ لیکن ‘میلڈن ہال’ کی تلاش و کوشش پرتگالیوں کی مخالفتوں کی وجہ سے مثمر ثمر واقع نہیں ہوتی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی دوسری مرتبہ ۱۶۰۸ میں سورت بندرگاہ پر اپنا لنگر ڈال کر اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن پھر بھی پرتگالیوں کے نفوذ کی وجہ سے اسے ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن آخر کار ۱۶۱۲ میں یہ کمپنی گجرات کے حاکم کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد اس کی اجازت سے سورت بندرگاہ پر اس کی کشتیاں لنگر ڈالنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔
اسی فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت برطانیہ اپنا سفیر ‘جھانگیر’ بادشاہ کے دربار میں بھیجتی ہے جس کے بعد بنگال اور ہندوستان کے دوسرے شہروں میں انگریزوں کی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب انگریز پرتگالیوں کو شدید شکست سے دوچار کرتے ہیں اور ‘بندرگاہ ہرمز’ سے انہیں باہر نکالنے میں ‘شاہ عباس صفوی’ کی مدد کرتے ہیں۔ انگریزوں کو اس کے بعد پرتگالیوں سے کوئی خوف نہیں رہتا۔ اور اس طریقے سے ایسٹ انڈیا کمپنی بندرگاہ سورت پر اپنا دائمی قبضہ جما لیتی ہے اور اسے اپنی تجارت کا مرکز بنا لیتی ہے۔

برطانوی ملکہ الزبتھ اول کی قائم کردہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۶۰۰ء میں جب برصغیر کی سرزمین پر پاؤں رکھا تھا تو کسی کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سورت اور مدراس میں مسالہ جات کے تجارتی مراکز قائم کرنے والی یہ بے ضرر سی کمپنی کسی دن پورے ہندوستان پر برطانوی راج کی راہ ہموار کر دے گی اور مستقبل میں اس خطے کے لوگ معاشی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی لحاظ سے انگریزوں کی غلامی میں چلے جائیں گے۔ کاروبار کے لیے آنے والی اس کمپنی نے ۱۶۸۹ میں علاقائی تسخیر شروع کر دی۔ یہ نوے برسوں پر محیط عرصہ ہے کہ یہ کمپنی سرمایہ کاری اور کاروبار کے پس پردہ رہی۔ بعدازاں جنگ پلاسی جیسی لڑائیاں چلتی رہیں اور آخر کار ۱۸۵۷ء کے بعد پورے ہندوستان پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔
تحریر؛ میلاد پور عسگری
زرسالاران یهودی و پارسی، شهبازی، عبدالله، ج۱، موسسه مطالعات و پژوهش‌های سیاسی، تهران، چاپ اول: ۱۳۷۷،ص۷۹-۷۸٫

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۳