کیا مذہب کے نام پر نفرتوں کا رنگ ہر دوسرے رنگ پر غالب آ جائے گا؟




“انتخابات کی تاریخوں کے اعلان والے دن ایکسل سرف کے اشتہار پر ہندوتو نظریہ کے حامل لوگوں نے جس طرح اپنے غصے کا اظہار کیا ہے اس سے پتہ چل رہا ہے پچھلے پانچ سالوں میں ملک میں کیسا ماحول رہا ہوگا “۔



بقلم؛ ایس وویک سندر کمار

خیبر تجزیاتی ویب گاہ؛ ہندوستان میں جیسے جیسے الیکشن نزدیک آ رہے ہیں  ویسے ویسے مذہب کے نام پر سیاست کا رنگ  جمتا نظر آ رہا ہے، کچھ لوگ مذہب کی آڑ میں ایک جمہوری ملک کی بے نظیر تاریخ کے ساتھ اسکی گنگا جمنی تہذیب کے پرخچے اڑانے پر اس طرح تلے ہیں کہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے گنوانے نہیں دیتے، ہر اس جگہ جہاں  ہلکا سا روزنہ بھی نظر آئے پہنچ جاتے ہیں اور مذہب کے نام پر نفرتوں کے رنگ بھرنا شروع کر دیتے ہیں، مذہب کے نام پر نفرت کی سیاست سے اب  نہ تو معیشت ہی بچی ہے اور نہ کوئی کاروبار ، یہاں تک کہ لوگوں کی نظریں ٹی وی اسکرین پر آنے والے اشہتاو و ایڈوٹائز تک پر ہیں  حال ہی میں  اس نفرت کے رنگ کا شکار ‘سرف’ بنانے والی کمپنی ایکسل بنی ہے مسلسل سوشل میڈیا پر عجیب بحث چھڑی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ  ایکسل نامی ‘سرف’ نے جو اپنا ایک اشتہار ہولی کے  پیش نظر دیا ہے وہ صحیح ہے یا غلط تعجب کی بات یہ ہے کہ اسکو غلط کہنے والے زیادہ ہیں اور صحیح ماننے والے بہت کم اسی کو دیکھ کر محسوس ہو رہا ہے کہ الیکشن کا رنگ  ایک بار پھر پنجے سے زیادہ کمل پر کھلنے کو بیتاب دکھ رہا ہے ۔
ہنگامہ ہے کیوں برپا؟
ماجرا در حقیقت یہ ہے کہ کپڑے دھونے کا پاوڈر بنانے والی ایک کمپنی نے اپنے پاوڈر کا ایک اشتہار بنایا جس میں ایک ہندو بچی اپنے مسلمان دوست بچے کی مدد کرتی ہے  اور اسے ہولی کے رنگوں سے بچانے کے لئے خود رنگوں کی پچکاریوں کے سامنے آ جاتی ہے جبکہ وہ بچہ نماز کے لئے گھر سے نکلا تھا لیکن ہولی کے رنگوں کو برستا دیکھ کر ایک جگہ چھپ جاتا ہے ، جب یہ بچی  ہولی کھیلنے والے بچوں کے سارے رنگوں کو خود پر لے لیتی ہے تو مسلمان بچے کو اپنی سائکل پر سوار کر کے مسجد کے دروازے کے باہر چھوڑ دیتی ہے اور کہتی ہے آرام سے نماز پڑھو لیکن جب پڑھ لوگے تو رنگ تمہارے اوپر بھی پڑھیں گے بچہ مسکراتا ہوا  آگے بڑھ جاتا ہے بظاہر تو اس اشتہار میں ہندو مسلم یگانگت کو دکھانے کی کوشش کی گئی تھی  لیکن ایکسل کے اس اشتہار بنانے والوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا  ہوگا کہ اس پر اتنا وبال کھڑا ہو جائے گا اور اسکو جہاد سے جوڑ کر دیکھا جانے لگے گا ، اور ہر طرف سے ایکسل کے بائکاٹ کی آوازیں بلند ہونے لگے گی اور یوگا گرو سوام رام دیو تک اس میں کود پڑیں گے ۔
چنانچہ نہ صرف  یہ کہ اس اشتہار کو باہمی یگانگت کے طور پر نہیں لیا گیا اور  نہ ہی اسے گنگا جمنی تہذیب کے ایک حسین رخ کی صورت لیا گیا بلکہ اسے بعض لوگوں نے اپنے مذہب کی توہین کے طور پر لیاجسکے نتیجہ میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر #BoycottSurfExcel کا ٹرینڈ، گذشتہ ماہ کے آخر سے اب تک ہندوستان  کے سب سے محبوب ترین ٹرینڈز میں شامل ہے اور  ۲۷ فروری کو جاری کیے گئے اس اشتہار کو اب تک یو ٹیوب پر ۸۰ لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جو ذہنیت ہندوستان میں بن رہی ہے وہ دن بہ دن خطرناک ہوتی جا رہی ہے ، اگر آپ کو اس زہریلی ذہنیت کا اندازہ لگانا ہے تو ذرا ملاحظہ ہو اس اشتہار کے بعد لوگوں کا رد عمل کیا رہا؛
–    یہ بالکل احمقانہ ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کیسے دینی ہے۔ ’مذہب میں واشنگ پاؤڈر کا کیا کام؟‘
–    ۔ بائیکاٹ سرف ایکسل کا ٹیگ استعمال کرکےایک صارف کا کہنا ہے کہ ہر بار ہندو لڑکیوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ساتھ ہی ایک ہندو لڑکے کی برقعے میں ملبوس لڑکی کو ہولی کے رنگ لگاتے تصویر پوسٹ کر کے ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ آپ لوگ جہاد کو فروغ کیوں دے رہے ہیں؟
–     ’پہلے اپنا دماغ صاف کرو، پھر میرے کپڑے صاف کرنا۔
–      کیا مستقبل میں ہندو لڑکے اور مسلمان لڑکی والا بھی کوئی اشتہار ہوگا؟
–     اس اشتہار کے ذریعہ ہولی کے تیو ہار کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔
–    اشتہار بنانے والوں کو فورا معافی مانگنا چاہیے ورنہ سزا کے لئے تیار رہیں
–    اپنی تہذیب پر فخر کریں  اپنے ہندوتو نظریہ پر فخر کریں
–    ان کے بقرعید اور محرم کے رنگوں سے تو ہمارا ہولی کا رنگ بہت اچھا ہے
–     ہندو یوگا گرو رام دیو کی یہ بات بھی اپنے آُپ میں سوچنے والی ہے کہ “ہم کسی مذہب کے مخالف نہیں ہیں لیکن جو چل رہا ہے اس پر ہمیں سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے۔
حتیٰ کہ کچھ انڈین صارفین تو سرف ایکسل کو پاکستانی پراڈکٹ تک قرار دے رہے ہیں۔
ایسے میں کہنے کو کچھ نہیں بچتا، انسان دل کو بہلا نے کو بس یہی کہہ دیتا ہے کہ کچھ اچھے لوگ بھی ہیں جو ان باتوں کو مذہب و قوم سے ماوراء ہو کر دیکھتے ہیں ایسے ہی کسی بھلے انسان نے اپنی رائے کا اظہار یوں کیا ہے کہ : “انتخابات کی تاریخوں کے اعلان والے دن ایکسل سرف کے اشتہار پر ہندوتو نظریہ کے حامل لوگوں نے جس طرح اپنے غصے کا اظہار کیا ہے اس سے پتہ چل رہا ہے پچھلے پانچ سالوں میں ملک میں کیسا ماحول رہا ہوگا “۔

منابع و ماخذ :
https://indianexpress.com/article/trending/trending-in-india/surf-excel-draws-flak-for-their-holi-ad-while-some-call-for-boycott-others-shower-love-for-promoting-harmony-5622030/
www.newindianexpress.com/…/boycott-surf-excel-detergent…
https://timesofindia.indiatimes.com
– Those offended by the advertisement have already taken to Facebook and Twitter to demand the boycott of the Surf Excel brand and HUL.
https://www.bbc.com/urdu/regional-47513474‘
https://www.bbc.com/hindi/social-47518294
https://www.businesstoday.in/…/detergent…surf-excel…/326…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۲