صہیونی رژیم اور پاکستان میں تکفیری ٹولے




پاکستان میں تکفیری ٹولوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اس وقت بہتر سمجھ میں آتے ہیں جب یہ جان لیا جائے کہ ان تکفیری گروہوں کے اصلی ٹھکانے ’’پشتون قبائل‘‘ میں پائے جاتے ہیں۔



ڈاکٹر محسن محمدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: پاکستان میں تکفیری گروہوں کا وجود عالم اسلام کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت اور علاقائی بلکہ بین الاقوامی ممالک کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ تکفیریت ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس پر نہ صرف عالم اسلام کا بہت بڑا سرمایہ لٹ رہا ہے اور عظیم طاقت صرف ہو رہی ہے بلکہ اسلامی ممالک میں یہ خانہ جنگی میں تبدیل ہو چکی ہے جس کی وجہ سے مسلمان اپنے اصلی دشمن صہیونیت سے غافل ہو چکے ہیں اور اس خانہ جنگی میں گرفتار ہیں۔
تکفیری ٹولیوں کی سرگرمیاں فقط دینی نقطہ نظر یا قومی اور علاقائی زاویہ نگاہ سے قابل ادراک نہیں ہیں۔ اس اعتبار سے علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے کردار کا جائزہ لینا بھی بہت اہم ہے۔ کلی طور پر پاکستان میں انتہا پسند گروہوں کی تشکیل اور ان کی تقویت کی ایک اہم ترین وجہ یہ ہے کہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے سماجی و ثقافتی حالات سے اپنے مفادات کے لیے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (۱)
پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا لہذا قدس کی غاصب ریاست کا ایک مشن یہ تھا کہ وہ اس ملک کے حالات سے فائدہ اٹھائے اور اس میں سرگرم تکفیری ٹولوں کو اسلام کے خلاف استعمال کرے۔
امریکہ تکفیری ٹولوں کو وجود میں لانے والا اور افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کی بنیاد ڈالنے والا ایسا ملک ہے جو اسرائیل کی اسٹریٹجیک میں برابر کا شریک ہے لہذا اس مسئلہ میں عالم اسلام کے اندر امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسرائیل کے سعودی عرب کے ساتھ غیررسمی تعلقات وسیع پیمانے پر پائے جاتے ہیں۔ سعودی عرب بھی پاکستان میں انتہا پسندی کی بنیادوں کو مضبوط بنانے والا اہم ترین ملک ہے جس نے وہابیت اور سلفیت کی فکر کو اس ملک میں رواج دیا ہے۔
لیکن پاکستان میں تکفیری ٹولوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اس وقت بہتر سمجھ میں آتے ہیں جب یہ جان لیا جائے کہ ان تکفیری گروہوں کے اصلی ٹھکانے ’’پشتون قبائل‘‘ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ قبائل درج ذیل اعتبار سے صہیونی ریاست کے لیے اہمیت کے حامل ہیں؛
۱۔ پاکستان کے تکفیری ٹولے ایک انتہائی حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہیں یعنی وہ صہیونیت کے سخت ترین دشمن ممالک ایران اور پاکستان کے درمیان واقع ہیں۔ لہذا صہیونی ریاست کی حامی ایک طاقت کا اس علاقے میں وجود پانا اس رژیم کی اسٹریٹیجک پالیسی کی گہرائی میں اضافہ کرتا ہے۔ ڈیڑہ اسماعیل خان، ہنگو اور پاراچنار میں شیعہ مخالف سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کے دھشتگردانہ اقدامات کو اسی زاویہ نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
۲۔ تکفیری ٹولے آئیڈیالوجی کے اعتبار سے شیعہ مخالف ہیں۔ دوسری جانب سے شیعہ، صہیونی ریاست کے دشمن اور ایران کے حامی ہیں۔ اس اعتبار سے بھی تکفیری ٹولے صہیونی ریاست کے دشمنوں کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
۳۔ تکفیری ٹولے کہ جنہیں جہاد کے ایک خاص مفہوم کے تحت تربیت دی گئی ہے اور ان کی زندگی ہتھیاروں کے ساتھ گزری ہے بغیر اسلحہ کے ان کا جینا ممکن نہیں ہے۔ لہذا اس اعتبار سے بھی یہ گروہ صہیونی ریاست کے اسلحے کی خرید و فروخت کے لیے مناسب بازار ہیں۔
صہیونی ریاست بمبئی کے قومی تحقیقاتی مرکز کے ذریعے انجام پائی تحقیقات کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے پشتون قبائل کو یہ متعارف کروانا چاہتی ہے کہ یہ قبائل در اصل یہودی قبائل تھے۔ اس اعتبار سے وہ ان قبائل کو یہودی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہودی تنظیمیں اور مراکز پاکستان اور افغانستان میں موجود پشتون قبائل کے سرکردوں کو متعدد بار ٹیلی فون کر چکی ہیں۔ اسرائیل میں کچھ غیر سرکاری ادارے ہیں جو گمشدہ یہودی قبائل کے بارے میں تحقیقات کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گمشدہ یہودی قبائل ساتویں صدی قبل میلاد عیسی مسیح، آشوریوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے تھے اور اس کے بعد پوری دنیا میں پھیل گئے لیکن ابھی بھی انہوں نے اپنی یہودی عادتیں نہیں چھوڑی ہیں۔ یہودیوں کی منجملہ عادتوں میں سے بعض عادتیں یہ ہیں: انتہا پسندی، تعصب، قوم پرستی، عورت کا احترام نہ کرنا، عورتوں کی خرید و فروخت کرنا، قبائلی جنگ، بھائی کی بیوی سے شوہر کی موت کے بعد بیاہ کرنا، قتل و غارت کا شوق، اپنی درینہ رسم و رسومات جیسے مخصوص لباس، ٹوپی کا پہننا، شادی بیاہ میں مردوں کا ناچ کرنا اور قومی برتری کا احساس وغیرہ پشتون قبائل میں ابھی بھی موجود ہیں۔ (۲)
یہ بات اس لیے قابل اہمیت ہے کہ ’دین یہود‘ قوم پرستی کا دین ہے اور اس میں تبلیغ نہیں پائی جاتی اسی وجہ سے مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے ہمیشہ اس مشکل سے دوچار ہیں کہ وہ اصالتا یہودی نہیں ہیں۔
حواشی
۱. Guilian Denoeux, “The Forgotten Swamp: Navigating Political Islam”, p71, Middle East Policy, Vol. 9, No. 2, 2002.
۲۔ ر.ک:پشتون­ها قبیله گمشده اسرائیلی، علی ملستانی، ۱۳۸۸ (http://www.afghanpaper.com/nbody.php?id=7204)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۳