ویڈیو کلیپ/ میں اسرائیلی ہوں مگر فلسطینیوں پر ظلم سے نفرت کرتی ہوں: خاتون پروفیسر




ایک اسرائیلی پروفیسر خاتون کی فلسطینیوں کے بارے میں گفتگو کا ایک حصہ جس میں وہ فلسطینیوں کی مزاحمت اور وطن کی آزادی کے لیے جنگ کو حق بجانب سمجھتی ہیں اور اسرائیل کے مظالم سے نفرت کا اظہار کرتی ہیں۔ گفتگو کا مکمل ترجمہ:



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کی جیلوں میں قید وہ فلسطینی جو بھوک ہڑتال کرتے ہیں انہیں کھانا کھلانا قانونی ہے۔
ان فلسطینیوں کے لیے جو اسرائیل کی جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں بھوک ہڑتال، گرفتاری اور ناجائز قبضے کے خلاف احتجاج کرنے کا ایک طاقتور وسیلہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

میں ایک اسرائیلی ہوں اور اسرائیل میں پیدا ہوئی ہوں۔
میں یہودی ہوں لیکن وہ یہودی نہیں ہو جو خود سے نفرت کرے۔
میں ان کاموں سے نفرت کرتی ہوں جو دوسرے یہودیت کے نام پر انجام دیتے ہیں۔
میں اس بات کی قائل ہوں کہ وہ لوگ جو مقبوضہ علاقوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں محاذ آرائی کا حق رکھتے ہیں۔
میں ایک اسرائیلی ہونے کے اعتبار سے کبھی بھی خود کو یہ حق نہیں دوں گی کہ فلسطینی عوام کو تنقید کا نشانہ بناوں، اور یہ بیان کروں کہ یہ صحیح ہے اور وہ غلط، یا کیا کرنا چاہیے۔ نہیں!
ایک زمانے میں LAW کی کلاس کے طلباء؛ فلسطینی اور اسرائیلی گرفتار کئے گئے، میرے ذہن میں ایک سوالیہ نشان پیدا ہوا کہ کیسے ممکن ہے کہ ان قوانین کے تحت جو ہم نے یونیورسٹی میں LAW کی کلاس میں پڑھے یہ طلباء گرفتار کئے جائیں؟
کالج میں سٹڈی کے دوران ہم ان موارد پر گفتگو کرتے تھے۔ میرے لیے مزید اور کئی سوالات پیدا ہو گئے۔
جب میں اپنے سوالوں کے جوابات تلاش کر رہی تھی، تبہی فلسطین پر قبضہ انجام پایا تھا۔
اور ان سوالوں نے مجھے انتہائی دردناک جوابات کی طرف رہنمائی کی۔
مثال کے طور پر اسرائیل کی صورتحال، سن ۱۹۴۸ میں، کہ اس وقت کیا اتفاق رونما ہوا۔
۱۹۴۸ میں فلسطینیوں کے تقریبا ۴۰۰ گاوں کا اجڑ جانا، اور سیاست! کیا سچ میں یہ سیاست ہمارے عقائد کے مطابق ہے؟ ہرگز!
ان سیاستوں کی روح استکباری ہے۔