کتاب “یاسر عرفات مجاہدت سے مذاکرات تک” کا تعارف




یاسر عرفات اس کے باوجود کہ ایک فعال، ایکٹو اور فلسطینی مقاصد کے تئیں جذباتی شخص تھے، ایک مغرور سیاست دان اور اپنے گرد و نواح میں رہنے والوں کے اوپر بھرسہ نہ کرنے والے شخص بھی تھے۔ التبہ ان کی یہ خصوصیات کسی حد تک فلسطینی مقاصد کی راہ میں کی جانی والی مجاہدت میں اخلاص کے منافی تھیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کتاب “یاسر عرفات مجاہدت سے مذاکرات تک”، “افسانہ وفا” کی تالیف ہے جو ۲۰۰۴ میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں یاسر عرفات کی زندگی کے حالات اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں اس عنوان سے گفتگو کی گئی ہے کہ وہ فلسطین کے معروف مجاہدین میں سے ایک تھے۔ وہ شخص جس نے جد و جہد اور سیاسی پالیسیوں کے ساتھ مختلف مجاہد گروہوں کو آپس میں جوڑا اور فلسطینی عوام کی آواز کو دنیا والوں کے کانوں تک پہنچایا۔ اگر چہ بعض جگہوں پر بہت ساری غلطیوں اور خطاوں کا بھی شکار ہوئے۔
یہ کتاب جو ۱۴۴ صفحوں پر مشتمل ہے اس میں یاسر عرفات کی شخصیت کا تعارف، تحریک آزادی فلسطین میں ان کے کردار اور سیاسی رد عمل کو بخوبی بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کے پہلے حصے میں یاسر عرفات کا زندگی نامہ بیان کیا گیا ہے۔ ان کے شجرہ نسب، جائے پیدائش، محل سکونت، تعلیمات اور ان کے میدان سیاست میں اترنے کی وجوہات جیسے موضوعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس باب میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ “ایاد” نامی ایک کاتھولیک پادری کی گفتگو کو بھی نقل کیا گیا ہے جو انہوں نے متعدد بار یاسر عرفات سے ملاقات کے بعد ان کے بارے میں کی۔ ان کا کہنا ہے: “عرفات سادہ لوح انسان نہیں تھے۔ وہ مجھے باپ کہتے تھے میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ ہم جنگ کے ذریعے بھی فلسطین کو واپس نہیں لے سکتے۔ لیکن ہمیں جنگ کرنا پڑے گی تاکہ دنیا والوں کو یہ بتا سکیں کہ ہم زندہ ہیں۔ ہمیں لڑنا پڑے گا تاکہ دنیا والوں کو یہ بتا سکیں کہ ملت فلسطین ابھی زندہ ہے۔ ہم لڑیں گے تو دنیا کے ضمیر بیدار ہوں گے۔ اگر ہم دنیا کے عوام کو قانع نہ کر سکیں کہ ہم حق پر ہیں تو ہم نابود ہو جائیں گے”۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یاسر عرفات کی بیوی کی بات آتی ہے تو انہیں ایک تازہ مسلمان اور مسئلہ فلسطین کے تئیں غیر جانبدار کے عنوان سے پہچنوایا جاتا ہے۔
کتاب کے دوسرے مرحلے میں یاسر عرفات کے نفسیاتی پہلو پر گفتگو کی گئی ہے۔ یاسر عرفات اس کے باوجود کہ ایک فعال، ایکٹو اور فلسطینی مقاصد کے تئیں جذباتی شخص تھے، ایک مغرور سیاست دان اور اپنے گرد و نواح میں رہنے والوں کے اوپر بھرسہ نہ کرنے والے شخص بھی تھے۔ التبہ ان کی یہ خصوصیات کسی حد تک فلسطینی مقاصد کی راہ میں کی جانی والی مجاہدت میں اخلاص کے منافی تھیں۔ مثال کے طور پر کبھی وہ دوپہلو گفتگو کرتے تھے اور بہت جلد اپنی گفتگو کو بدل دیتے تھے، علاوہ از ایں انہوں نے ایک مرتبہ اسرائیلی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ میں کہا: “میں مشرق وسطیٰ کا ایک اہم ترین شخص ہوں”۔ یا جرمنی کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں کہا: “میں اور شارون تاریخ کے سب سے بڑے جنرل ہیں، صرف اس اختلاف کے ساتھ کہ میں نے آج تک کوئی جنگ نہیں ہاری”۔ ان کے کھوکھلے دعوے ایسے حال میں تھے کہ یاسر عرفات پر متعدد بار حملے کئے گئے اور وہ بال بال بچ جاتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ “ساف” پارٹی کا بجٹ فراہم کرنے میں عرب ممالک سے سخت وابستہ تھے۔ یا دوسرے لفظوں میں وہ مالی اعتبار سے عربوں کے محتاج تھے۔
کتاب کے دوسرے حصے میں عرفات تنظیم یعنی “آزادی فلسطین تنظیم” یا “ساف” کی تاریخ اور اس کے تجزیہ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب کا طریقہ کار یوں ہے کہ ابتدا میں اس تنطیم کی تشکیل کے تاریخچہ اور اس کے بانیان کی بائیوگرافی بیان کی گئی ہے۔ یہ کتاب ان افراد کے بارے میں لکھتی ہے: “عرب حکومتیں یا فلسطین کے لیے کوئی کام نہیں کر سکتیں یا نہیں کرنا چاہتیں، لہذا اس تنظیم کے اراکین نے ارادہ کیا ہے کہ وہ خود اسرائیل کے خلاف فوجی کاروائی کریں”۔
اس باب کے آخر میں ان اہم تنظیموں جیسے PFLP، DFLP، حماس، جہاد اسلامی، وغیرہ کا تعارف اور ان کی سرگرمیوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا آخری حصہ “ڈیوڈ کیمپ ایک سے ڈیوڈ کیمپ دو تک سمجھوتہ عمل” سے مخصوص کیا گیا ہے۔ مخاطب کے ذہن کو آمادہ کرنے کے لیے مولف نے پہلے فلسطین پر صہیونی قبضے کا مختصر تاریخچہ بیان کیا ہے نیز اسرائیل کے زیر قبضہ لبنان، شام اور مصر کے علاقوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے تاکہ اسرائیل کے تسلط پسندانہ رویہ اور یاسر عرفات کے اسرائیلیوں کے ساتھ سمجھوتہ نہ ہونے کی وجوہات کو بھی بیان کریں۔ اس کتاب میں دانستہ یا ندانستہ طور پر جو غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مغربی ممالک، سابق سوویت یونین اور خاص طور پر امریکہ کے کردار کو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان صلح برقرار کرنے کے لیے سراہا گیا ہے کہ یہ ممالک فلسطینیوں کے حق میں خیر اندیش تھے جن میں سب سے زیادہ امریکہ نے صلح برقرار کرنے کی کوششیں کی ہے۔ حالانکہ اگر تاریخ کا سرسری مطالعہ بھی کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے یورپ اور امریکہ سب سے زیادہ فسلطین میں جنگ و جدال کا باعث بنے ہیں۔ فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنے والے، ان کے گھروں کو اجاڑنے والے اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے خود مغربی حکام ہی تو ہیں جنہوں نے اس خطہ پر صہیونیت کو مسلط کیا۔
بہر حال اگر کوئی صرف یاسر عرفات کی شخصیت اور “ساف” تنظیم کی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ کتاب کسی حد تک مفید ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ک/۱۰۰۰۳