بے بس فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں افطاری کیسے کرتے ہیں؟




ماہ صیام اور عید کا اعلان ہوتے ہی قیدی ایک دوسرے کو اس کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ماہ صیام کی آمد پر قیدی خوشی کا اظہار کرتے ہیں مگر ان کی  یہ خوشی نامکمل ہوتی ہے۔ وہ اپنے عزیزو احباب سے دور دشمن کے قید خانوں میں بند ہوتے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی جیلوں‌ میں قید ہزاروں فلسطینیوں‌ کو ہر سال ماہ صیام  زندانوں کی سلاخوں کے پیچھے گذارنا پڑتا ہے۔ فلسطینی قیدی بے بسی کے عالم میں ماہ صیام کا استقبال، اس کی تیاری ، سحری اور افطاری کیسے کرتے ہیںِ؟ اس سوال کا جواب ایک سابق فلسطینی قیدی ‘ثامر سباعنہ’ نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ‘فیس بک’ پر پوسٹ کی گئی ایک تحریر میں دیا ہے۔

ثامرسباعنہ لکھتے ہیں کہ ماہ مبارک کی آمد کے ساتھ ہی فلسطینی قیدی اپنی بساط کے مطابق ماہ صیام کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ دیگر مہینوں کی نسبت رمضان المبارک کی تیاریاں اسرائیلی جیلوں میں مختلف ہوتی ہیں۔ قیدی اپنے ملنے والے اقارب کے ذریعے رمضان کے لیے خصوصی چیزیں منگواتے ہیں۔ کھجوریں اور کھانے پینے کا کچھ سامان تو فلسطینی وزارت اسیران کے ذریعے انہیں پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم یہ سب اتنا آسان نہیں ہوتا۔ قیدیوں کو ماہ صیام کے دوران صہیونی جیلروں کی طرف سے سخت پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے۔

ماہ صیام اور عید کا اعلان ہوتے ہی قیدی ایک دوسرے کو اس کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ماہ صیام کی آمد پر قیدی خوشی کا اظہار کرتے ہیں مگر ان کی  یہ خوشی نامکمل ہوتی ہے۔ وہ اپنے عزیزو احباب سے دور دشمن کے قید خانوں میں بند ہوتے ہیں۔

اسرائیلی زندانوں‌ فلسطینی قیدی ماہ صیام کے دوران کوئی ایک کمرہ یا ہال مختص کرتے ہیں جس میں وہ تلاوت کلام پاک، ذکر اذکار اور اجتماعی دعا کا اہتمام کرتے ہیں۔ ماہ صیام میں اسیران کے معمولات میں کتب کا مطالعہ بھی شامل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳