فلسطینی مزاحمت کاروں کا دشمن کو منہ توڑ جواب




غزہ میں حالیہ کشیدگی کا آغاز اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں جمعہ کے روز ہونے والے مظاہروں پر فائرنگ سے ہوا جس میں ۲ فلسطینی شہید اور ۶۰ زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمتی مراکز پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں دو مجاھدین شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے تین روز تک غزہ کی پٹی پر دن رات وحشیانہ بمباری شروع کی تو فلسطینی مزاحمت کاروں نے صہیونی دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر دشمن کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔ اگرچہ جنگ کا خطرہ مکمل طور پر نہیں ٹلا۔ تین دن تک جاری رہنے والی وحشیانہ بمباری سے غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور بربادی ہوئی۔ قابض فوج نے جنگی طیاروں کے ساتھ ساتھ توپ خانے سے بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں غزہ میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اڑھائی درجن فلسطینی شہید اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے۔

چار ماہ کے دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ پر محدود پیمانے پر کی جانے والی یہ ۱۰ ویں کارروائی ہے۔ صہیونی دشمن نے غزہ میں روایتی انداز میں طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا مگر آخر کار وہ جنگ بندی پر مجبور ہو گیا۔

غزہ میں حالیہ کشیدگی کا آغاز اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں جمعہ کے روز ہونے والے مظاہروں پر فائرنگ سے ہوا جس میں ۲ فلسطینی شہید اور ۶۰ زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمتی مراکز پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں دو مجاھدین شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔

اگلے روز اسرائیلی فوج نےغزہ کی پٹی پر بمباری کا درجہ مزید بڑھا دیا اور مزید دو دن تک جاری رہنے والی بمباری میں ۲۷ فلسطینی شہید اور ۱۵۰ زخمی ہوگئے۔

اسرائیل نے سنہ ۲۰۰۶ء سے غزہ کی معاشی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس کے بعد سے اب تک غزہ پر تین بڑی جنگیں مسلط کی گئیں اور مارچ ۲۰۱۸ء میں بھی فلسطینی ایک بار پھر جنگ کے دھانے پر جا پہنچے۔

ان تیرہ برسوں کے دوران اسرائیلی فوج اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان متعدد بار عارضی جنگ بندی کےمعاہدے ہوئے۔ سنہ ۲۰۱۴ء کے بعد اسرائیل نے فلسطینی مزاحمت قیادت کو شہید کرنے کے لیے ایک بار پھر اہدافی حملے شروع کر دیے۔

فلسطینی تجزیہ نگار احمد رفیق عوض نے بتایا کہ صہیونی فوج نے غزہ میں فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام کا سلسلہ بعض وجوہ کی بنیاد پر روکا۔ پہلی وجہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے حیران کر دینے والی مزاحمت تھی۔ اس کے علاوہ جنگ روکنے کے لیے ثالثی کی کوششیں، فیلڈ میں اسرائیلی فوج کو مسلسل ناکامی کا سامنا اور اسرائیلی سیکیورٹی ادارے کی طرف سے جنگ روکنے کے مشورے جیسے اہم اسباب نے غزہ میں عارضی طور پر جنگ ٹال دی۔

اسرائیل کے سیکیورٹی انٹیلی جنس اداروں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیاکہ وہ غزہ پر چڑھائی کو طول دینے سے گریز کرے کیونکہ انہیں فلسطینی مزاحمت کاروں‌ کی طرف سے مزید سرپرائز مل سکتے ہیں۔

بالآخر فلسطینی مزاحمتی قوتیں اور اسرائیلی فوج  مصر، قطر اور اقوام متحدہ کی  مساعی سے جنگ بندی پرآمادہ ہوگئے۔ اسرائیل نے اس باربھی غزہ کی پٹی پرعاید کردہ پابندیوں میں نرمی کا وعدہ کیا مگر اس پرعمل درآمد کا امکان نہیں اور خدشہ ہے کہ غزہ کی پٹی کسی بھی وقت میدان جنگ بند سکتا ہے۔

تجزیہ نگار یوسف شرقاوی نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی خرید کی ہے تاکہ وہ فلسطینیوں کی طرف سے سرپرائز سے باہر نکل سکے۔ اسرائیل کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ موجودہ حالات میں غزہ کی جنگ جاری رکھنے سے تل ابیب میں عالمی موسیقی میلہ متاثر ہوگا اورصہیونی ریاست کے نام نہاد قیام کی تقریبات متاثر ہوں‌ گی۔

فلسطینی تجزیہ نگار عوض کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ لڑائی کے کسی بھی معرکے میں صہیونیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔ حالیہ ایام میں غزہ کی پٹی پرجنگ مسلط کرنے کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے جوابی کارروائی میں صہیونی تنصیبات پر سیکڑوں راکٹ داغے جس کے بعد صہیونی حکام نے جنگ بندی کی تجویز قبول کرلی۔

تجزیہ نگار عوض کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جامع جنگ نہیں چاہتا اور اسےڈر ہےکہ جنگ کی صورت میں اسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اسرائیل کا موجودہ داخلی سیاسی محاذ بھی غزہ میں کسی نئی اور طویل جنگ کا حامی نہیں اور نہ ہی داخلی عوامی محاذ اور سیکیورٹی ادارے کسی بڑی جنگ کے لیے تیار ہیں۔ تاہم غزہ کی پٹی میں کوئی بڑی جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳