بولیویا کا اسرائیل کے خلاف قابل قدر اقدام




بولیویا کے صدر نے اسرائیلی غاصب حکومت کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اسرائیلی شہریوں کو بغیر ویزا بولیویا آنے کی اجازت نہیں ہوگی، انہیں بولیویا آنے کے لئے ویزہ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، یو اس اے ٹوڈے نے خبر دی ہے کہ جنوبی امریکہ کے مغرب میں واقع عیسائی ملک ’’بولیویا‘‘ نے اسرائیل کی انسانیت دشمن جنگی کارروائی پر اسے دہشت گرد ریاست قرار دے دیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ۴۲ سال سے جاری ویزا فری سفر کا معاہدہ بھی ختم کردیا ہے۔
بولیویا کے صدر نے اسرائیلی غاصب حکومت کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اسرائیلی شہریوں کو بغیر ویزا بولیویا آنے کی اجازت نہیں ہوگی، انہیں بولیویا آنے کے لئے ویزہ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔
واضح رہے کہ بولیویا اور اسرائیل کے درمیان ۱۹۷۲ میں اسرائیلیوں کو آزادانہ طور پر بولیویا جانے کا معاہدہ طے پایا تھا جو اب ختم کیا جارہا ہے۔
بولیویا کے صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے قوانین اور عالمی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کررہا ہے۔
بولیویا کے صدر ایوومورالس نے اپنے ملک کے دانشوروں اور ماہرین تعلیم کے ساتھ ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا اور غزہ میں ناقابل بیان ظلم ڈھانے پر اسرائیل کو واضح الفاظ میں دہشت گرد ریاست قرار دیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل کا جنگی جنون اور وحشیانہ نظریات صرف فلسطین ہی نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳