خلیج فارس میں نئی جنگ نہیں ہوگی/ امریکی گدھوں کو جنگ کی ترغیب دلانے والوں کو پھر بھی جھٹکا




جنگ نہيں ہوگی کیونکہ جب آپ امریکہ کی آنکھ سے میدان جنگ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھ لیتے ہیں کہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں امریکی موجودگی جاری رہنے کا امکان بہت زیادہ کمزور ہوجائے گا، بالکل اسی طرح جس طرح کہ شام میں جنگ شروع ہونے کی وجہ سے امریکہ کے سات ٹریلین اخراجات کے باوجود، آخر کار اسلامی مزاحمت کا پرچم مغربی ایشیا کی چوٹی پر لہرایا گیا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: جب ہم ایک سیاسی اقدام کی بات کرتے ہیں تو در حقیقت ہم نے دو دوسرے عناصر کو مد نظر رکھا ہے جو اس سیاسی اقدام میں مضمر ہیں۔ اول وہ فاعل جس نے یہ سیاسی اقدام انجام دیا ہے اور دوئم وہ ارادہ اور فیصلہ ہے جو اس اقدام کے پیچھے کارفرما ہے۔ ان دو عناصر کو ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہئے کیونکہ اقدام کرنے والا ضرورتا اپنے ہی ارادے اور فیصلے پر عمل نہيں کرتا بلکہ بعض اوقات افراد کسی اور کے ارادے اور فیصلے کے تابع ہیں۔ جس طرح کہ شاہ ایران محمد رضا پہلوی کی فوج امریکی ارادے پر عمان کے علاقے ظفار کی جنگ میں کود پڑی یا حسنی مبارک کے دور کے مصر نے یہودی ریاست کی نیابت میں غزہ کا محاصرہ کرلیا۔
اجازت دیجئے کہ سوال: “جنگ کیوں نہیں ہوگی؟” کا جواب دینے کے لئے اپنے آپ کو امریکیوں کے فیصلہ سازی کے کمرے کر اندر فرض کریں اور ان کی طرف سے فیصلہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس فرض کے ساتھ کہ امریکہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
وہ دو طریقوں سے ایران پر فوجی حملہ کرسکتے ہیں۔ ویت نام ۱۹۵۵ع‍، افغانستان ۲۰۰۱ع‍ اور عراق ۲۰۰۳ع‍ کے بعد امریکیوں کا تجربہ یہ ہے کہ ابتداء میں اپنی پراکسی فورسز کو روانہ کریں۔ اگرچہ اوباما اور ٹرمپ کے انتخابی نعروں میں ایک نمایاں نعرہ یہ تھا کہ وہ ان علاقوں سے نکل کر چلے جائیں گے۔ علاقے میں امریکہ کے اہم مہرے سعودی عرب، امارات اور اسرائیل ہیں۔
تو ہم جو امریکی ڈسیجن روم میں بیٹھے ہیں کیا ان تین مہروں کو ایران کی طرف حرکت میں لائیں؟ جبکہ سعودی عرب اور امارات کو یمنی ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سعودی ولیعہد ایم بی ایس نے ۲۰۱۸ع‍ میں امریکہ کا ایک طویل المدت دورہ کیا جس کے دوران تفصیلی منصوبے بنائے گئے اور ایم بی ایس خیر سے ایران پر حملہ کرنے کا ایک جامع منصوبہ لے کر ریاض واپس آ گئے لیکن ان کے خیرمقدم کے لئے یمنی مجاہدین نے کچھ میزائلوں کا رخ ریاض کی طرف کیا، تمام دفاعی نظامات کا ستیا ناس ہوا اور ریاض کی فضاؤں کو خراشا گیا اور یوں “ایران پر حملے کا سعودی منصوبہ” اسی مختصر سے خیرمقدم کی وجہ سے چوپٹ ہوا۔ یہ وہ ممکنہ سعودی کاروائی تھی جس کی طرف اسی سال مئی میں مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے اشارہ فرمایا تھا۔ میزائل اور ڈرون یعنی سعودی اور امارات کے تیل کے ذخائر کو خطرہ، یعنی تیل کی قیمتوں کا امریکی کنٹرول سے خارج ہوجانا۔ اور پھر سعودی اور امارات کی افواج سے زیادہ پیشہ ور اور زیادہ جذبۂ جنگ سے مالامال تو ان کی مشترکہ دست پروردہ دا‏عش کے دہشت گرد تھے جو سعودیوں اور اماراتیوں کے اسلحے سے لیس ہوئے اور لڑتے لڑتے تقریبا دو ملکوں پر قابض بھی ہوئے مگر پھر اچانک مزاحمت کے دستے میدان جنگ میں اترے اور نقش بدل گیا اور جو سعودیوں اور اماراتیوں سے زیادہ پیشہ ور تھے اور ان سے زیادہ بےجگری سے لڑتے تھے، نہ صرف اپنی مقبوضہ سرزمینوں سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ ان ملکوں میں مزاحمت کی فوج باضابطہ طور پر تشکیل پائی اور آج عراق اور شام باضابطہ اور اعلانیہ طور پر محاذ مزاحمت کے اہم اراکین ہیں، یہاں تک کہ پامپیو ایران کو پیغام پہنچانے کے لئے جرمنی کا دورہ منسوخ کرکے عراق چلے آتے ہیں۔ اب ۲۱ مارچ ۲۰۱۹ع‍ کو مشہد میں عظیم عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران  رہبر انقلاب امام خامنہ ای کی ضمنی دھمکی بھی سمجھ میں آتی ہے جہاں آپ نے فرمایا کہ “سعودی سرزمین کا انجام محاذ مزاحمت کے مجاہدوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ امارات تو ویسے بھی شیشے کی عمارت ہے اور اس میدان میں اس کی صورت حال بہت زیادہ زد پذیر ہے۔
جبکہ امریکی پراکسی فورسز میں تیسرے عنصر یعنی یہودی ریاست کی صورت حال اور بھی عجیب ہے۔ ایک ہی ہفتہ قبل اس نے ایک بار پھر غزہ میں اپنی رقیب مزاحمتی فورسز پر حملہ کیا اور صرف دو دنوں میں شکست قبول کرنے پر مجبور ہوئی۔ یہودی ریاست کے کرتے دھرتوں کے اپنے اعتراف کے مطابق کم از کم ۴۹۰ میزائلوں نے آئرن ڈوم نامی میزائل و فضائی دفاعی نظام کو پیچھے چھوڑ دیا اور ابھی اسے ایک عرصے تک اپنے زخم چاٹنے سے فرصت تک نہیں ہے۔ حماس سے کچھ ہی فاصلے پر شمال کی طرف لبنان کی حزب اللہ ہے جو تمام تر ہتھیاروں اور وسائل سے لیس ہوکر مقبوضہ فلسطین سے چپک کر اسرائیلیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اور اس ایک خاص نکتے کا بھی اضافہ کریں کہ جیسا کہ سید حسن نصر اللہ نے یہودی ریاست کو دھمکی دی ہے “اگر کوئی جنگ شروع ہوجائے تو اسرائیل کو اندر سے جواب ملے گا”۔ اور پھر ان نکات کے ساتھ ساتھ شام میں ٹی فور کے ایرانی اڈے پر یہودی ریاست کے حملے کے زخموں سے ابھی خون رس رہا ہے۔ جو میزائل انھوں نے پھینکا تھا اس کے جواب میں جولان کے علاقے میں ۶۰ سے زائد اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور یوں ایک میزائل حملے پر ۶۰ سے زائد جوابی حملے ہوئے۔ جولان میں تباہ ہونے والے ٹھکانوں ميں موساد کا ایک خفیہ اڈہ بھی شامل تھا؛ اور پھر بہت بعید از قیاس ہے کہ اسرائیلیوں نے کردستان کی تقسیم کا منصوبہ بھلا دیا ہو جس کے جواب میں تکریت اور اس میں موجود تیل کے کنؤیں پر الحشدالشعبی کی مجاہد فورسز یعنی اسلامی محاذ مزاحمت کے ہاتھوں میں آزاد ہوئے۔ چنانچہ ان تین نیابتی فورسز کو ایران کی طرف حرکت دینا ممکن نہیں ہے اور یوں حالات امریکہ کے حق میں آگے نہيں بڑھ رہے ہیں۔
یا یہوں کہئے کہ امریکیوں کو اپنے نیابتی یا پراکسی عناصر کو حرکت دینے کی راہ میں دو مسائل کا سامنا ہے: اول یہ کہ ان مہروں میں سے ہر ایک کو محاذ مزاحمت کے ایک یا چند کھلاڑیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؛ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ مہرے جہاں بھی کسی میدان میں کود پڑے ہیں، اس علاقے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اس بار یہ لوگ اپنی تعیناتی کے مقام یا اپنے ممالک یا زیر قبضہ ممالک سے جب اس میدان جنگ میں اتریں گے تو یقینا انہیں کھو دیں گے اور واپسی کے لئے ان کے پاس کوئی سرزمین نہ ہوگی۔ چنانچہ پراکسی مہروں کو ایک طرف رکھا جاتا ہے یا انہیں اس جنگ سے میں کودنے سے معاف کیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ براہ راست اس جنگ میں کود جائے تو کیا ہوگا؟ تو ایرانی کمانڈروں کا جواب یہ ہے کہ جس قدر کہ امریکی سازوسامان، فضائیہ اور میزائلوں کے اڈے، زمینی اہداف نیز سمندری بیڑے ہمارے قریب تر ہونگے اسی تناسب سے صحیح نشانے پر لگنے والے میزائلوں، ڈرون طیاروں اور عاشورا نامی تیزرفتار اور ہر دم تیار کشتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ یقینا امریکہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ نامہ نگاروں کے کیمرے اس کے طیارہ بردار جہازوں کے ڈوب جانے کی تصویروں کو ذرائع ابلاغ کی زینت بنا دیں کیونکہ اس صورت میں اس کی تنکوں کے سہارے فوجی طاقت کی حقیقت فاش ہوکر رہ جائے گی۔
امریکہ اور یہودی ریاست نے عرصہ دراز سے آئرن ڈوم نامی میزائل دفاعی سسٹم کے بارے میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے تھے مگر حالیہ مختصر سی لڑائی میں اس کی حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ عیاں ہوئی اور محاذ مزاحمت کے داغے گئے ۷۰۰ میزائلوں میں سے ۴۹۰ میزائل اپنے متعینہ اہداف کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوئے، تو امریکہ کے دیوہیکل بحری جہاز تو ایرانی دفاعی افواج کے لئے کافی بڑے اور غیر متحرک اہداف سمجھے جاتے ہیں۔ البتہ یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ امریکہ کی نیابت میں کردار ادا کرنے والے ممالک بھی ہیں جن سے اگر امریکیوں نے ایرانی اہداف پر حملہ کیا تو یہ ممالک بھی امریکی سرزمین کے زمرے میں آئیں گے اور عالمی اخلاقیات و قوانین کی رو سے ان پر بھی جوابی حملے جائز تصور کئے جائیں گے؛ چنانچہ یہ ممالک بھی امریکی پراکسی فورس کے طور پر ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں الجھے بھی بھی زیادہ محفوظ بھی نہیں رہ سکیں گے اور پراکسی فورسز پھر بھی جنگ میں شامل تصور کی جائیں گی۔
چنانچہ جنگ نہيں ہوگی کیونکہ جب آپ امریکہ کی آنکھ سے میدان جنگ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھ لیتے ہیں کہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں امریکی موجودگی جاری رہنے کا امکان بہت زیادہ کمزور ہوجائے گا، بالکل اسی طرح جس طرح کہ شام میں جنگ شروع ہونے کی وجہ سے امریکہ کے سات ٹریلین اخراجات کے باوجود، آخر کا اسلامی مزاحمت کا پرچم مغربی ایشیا کی چوٹی پر لہرایا گیا۔

بقلم: کمیل خجستہ
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://fna.ir/d9nnax

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۱