ایرانی داؤد کی فتح اور امریکی جالوت کی شکست




داؤد علیہ السلام اللہ کے پیغمبر تھے جنہوں نے طالوت کے لشکر میں شامل ہوکر جالوت کا خاتمہ کردیا؛ عبدالباری عطوان ایک عرب اخبارنویس کے طور پر ایران کو داؤد اور امریکہ کو جالوت سے تشبیہ دی ہے جو حقیقتا قابل ادراک تشبیہ ہے اس زمانے میں؛ گوکہ بڑی تعداد میں عرب حکام ـ جو عشروں سے یہودی ریاست کے خلاف جنگ اور دشمنی کے کھوکھلے نعرے لگاتے رہے تھے ـ اس وقت اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کانفرنسیں منعقد کررہے ہیں اور اپنے پرانے معیاروں کو بدل کر دوست کی دشمن اور دشمن کی جگہ دوست کو دے چکے ہیں، اور گویا وہ سب جالوت کے لشکر میں شامل ہوکر حضرت داؤد علیہ السلام کے مد مقابل صف آرا ہوچکے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:  رای الیوم کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے حالیہ امریکی شیخیوں اور پسپائیوں کے اور بنی سعود اور بنی نہیان کی ریشہ دوانیوں اور شرمناک کردار کے پیش نظر اپنے اداریئے میں ایران اور امریکہ کے تقابل کو داؤد اور جالوت کی جنگ سے تشبیہ دی ہے جس میں داؤد نے ایک چھوٹا سا پتھر مار کر جالوت کو ذلت کی موت مارا تھا اور عظیم ترین تاریخی فتح کو رقم کر چکے تھے۔
انھوں نے لکھا ہے:
مشرق وسطی میں کوئی بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹر دھمکیوں کو سنجیدہ نہیں لیتا کیونکہ وہ مرد جنگ نہیں ہیں بلکہ تجارتی سودوں کے دلال ہیں۔
یہ توصیف ان نئے ٹرمپ ٹویٹر پیغامات سے بالکل ہمآہنگ ہے جن میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی جنگ کا نتیجہ ایران کے باضابطہ خاتمے کی صورت میں برآمد ہوگا۔ ٹرمپ کی لڑائیاں زیادہ تر سوشل میڈیا تک محدود ہوتی ہیں اور عملی مرحلے تک نہیں پہنچا کرتیں۔
ٹرمپ جنگ کے خواہاں نہیں ہیں؛ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ چاہے خلیج فارس میں اس کے اتحادی ہی اس جنگ کے اخراجات برداشت کریں، یہ جنگ جانی اور مالی لحاظ سے امریکہ کے لئے بہت زیادہ مہنگی پڑے گی؛ کیونکہ پھر بھی امریکی فضائیہ کے طیاروں کے پائلٹ، جنگی بحری جہازوں کا عملہ، عراق، شام، قطر، امارات میں موجود امریکی اڈوں میں موجود نفری سب امریکی ہیں۔
علاوہ ازیں، یورپی ممالک ایران کے خلاف امریکی جنگ کے لئے کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے؛ کیونکہ وہ افغانستان اور عراق میں بھی اور پھر داعش کے خلاف جنگ میں بھی امریکہ کے اتحادی تھے لیکن انہیں نہ صرف کچھ نہيں ملا بلکہ نقصانات سے دچار ہونا پڑا۔
امریکی صدر اس جنگ کے ابتدائی مرحلے کو ہار چکے ہیں اور جب علاقے میں ان کے اتحادی حملوں کا نشانہ بنے، تو وہ ان حملوں کا جواب نہیں دے سکے۔ یہ حملے کچھ یوں تھے:
۱۔ سعودی عرب کے تین پمپنگ اسٹیشنوں پر یمن کی انصار اللہ کے بمبار ڈرونز کے حملے، جو ان اسٹیشنوں میں آتشزدگی کا سبب بنے اور یمنی انقلاب کی اعلی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے دھمکی دی کہ امارات، سعودی عرب اور یمن کے مقبوضہ علاقوں میں ۳۰۰ ٹھکانے یمنی مجاہدین کے راڈاروں کی زد میں آچکے ہیں اور اگر سعودی اتحاد یمن پر حملے بند نہ کرے تو ان ٹھکانوں پر کسی بھی وقت حملہ کیا جاسکتا ہے۔
۲۔ امارات کی ایک ذیلی ریاست الفجیرہ کے ساحل پر چار بحری جہازوں پر مبہم حملہ، جس کے بارے میں اب تک کچھ نہیں کہا جاسکتا اور کسی کو نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے کون تھا؟ اور عین ممکن ہے کہ اس طرح کے حملے پھر جاری رہیں۔
۳۔ بغداد کے الخضراء نامی علاقے (گرین زون) میں امریکی سفارتخانے پر میزائل حملہ۔ باوجود اس کے کہ یہ پرامن ترین علاقہ ہے اور اس علاقے کے دفاع کے لئے نہایت جدید قسم کے امریکی ہتھیار بھی نصب کئے جاچکے ہیں، لیکن امریکی سفارتخانہ نشانہ بن چکا۔
کہا جاسکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ کو داؤد اور جالوت کی جنگ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ جس میں داؤد(ع) نے ایک چھوٹے پتھر کے ذریعے دشمن کو نابود کردیا اور ایک عظمت آفریں فتح کو اپنے نام کردیا۔
حالیہ دنوں میں، بات چیت کے لئے کچھ دروازے کھل گئے، عمان کے وزیر خارجہ کا دورہ تہران اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوسکتا ہے۔ نیز علاقے میں کئی دوسرے نمائندوں اور سفارتکاروں نے اسی طرح کے موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایران ٹرمپ کے نقشوں اور دھمکیوں سے نہیں ڈرتا؛ جیسا کہ بش سینئر اور بش جونیئر نے بھی ایران کے سلسلے میں اسی طرح کا رویہ اپنایا۔ اب جبکہ شام پر مسلط کردہ جنگ کو آٹھ سال کا عرصہ ہوچکا ہے، ہم نے دیکھا کہ امریکہ کو اربوں ڈالر کے مالی نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔
اب یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا شام ـ جس کا ۶۵ فیصد حصہ معاشی اور عسکری محاصرے میں رہا اور یہ ملک آٹھ سالہ جنگ کو برداشت کرچکا ہے ـ کیا امریکی دھمکیوں سے ڈرتا ہے؟ کیا آج کا جاپان ـ امریکہ کی ایٹمی بمباری کے باوجود ـ امریکہ سے ڈرتا ہے؟ کیا جرمنی کو اس وقت امریکہ جیسے اتحادیوں کی کوئی ضرورت ہے؟
ٹرمپ اس مسئلے کے ادراک سے عاجز ہیں کہ ایران اور اس کے اتحادی (محاذ مزاحمت) یمن، لبنان، عراق، غزہ وغیرہ میں مقابلے کے لئے تیار ہیں۔ سنہ ۲۰۰۶ع‍ بیروت کے ساحلی علاقے میں اسرائیلی جنگی جہاز کی تباہی کو نہیں بھولنا چاہئے اور یہ بھی کہ اگلی جنگ میں نئے میزائلوں سے بحیرہ روم میں واقع یہودی ریاست کی تیل اور گیس کی ریفائنریوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی راز کی بات نہیں ہے کہ ایک ہفتہ قبل “ارادی طور پر” فجیرہ کے ساحل پر سعودی، اماراتی اور ناروے کے ایسے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جو تیل سے خالی تھے، امارات کے پانیوں میں تھے اور بین الاقوامی پانیوں میں نہیں تھے، تا کہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ جو بھی اس جنگ کے پیچھے کھڑا ہے اور یہ حملہ کرچکا ہے، یہاں ماحولیات کی آلودگی کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن اگر جنگ شروع ہوئی تو کوئی بھی اقدام ممنوع تصور نہیں ہوگا اور شک نہیں ہے کہ امریکی فوجی قیادت اور دوسرے لوگ اس پیغام کے مضمون کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں، اور ممکن ہے کہ یہی حملہ ہی حالیہ ایام میں اماراتی حکام کے لہجے میں تبدیلی اور امن و سکون کی طرف ان کے رجحان اور بحران کی شدت سے ان کی دوری کا سبب بنا ہوا ہو۔
سعودی بادشاہ نے رمضان کے تین دنوں میں تین “اسلامی”، “عربی” اور “خلیجی” کانفرنسیں منعقد کرنے کی دعوت دی ہے جس کا پہلا مطلب یہ ہے کہ جنگ ان تاریخوں سے قبل نہیں ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ سعودی اور اماراتی حکام اس مسئلے کا بخوبی ادراک کرچکے ہیں کہ انہیں اسلامی، عربی اور خلیجی حمایت کی اشد ضرورت ہے، جبکہ اس حمایت میں مختلف وجوہات کی بنا پر شدید کمی آئی ہے۔ جن میں سے نمایاں ترین وجہ یہ ہے کہ سعودیوں اور اماراتیوں نے اپنے پورے انڈے ٹرمپ کی “پھٹی ہوئی” اور بلیک میلنگ کی ٹوکری میں رکھ لئے ہیں، اپنوں کو نظرانداز کرکے دشمن بنانے پر اصرار کررہے ہیں اور ان کے اوپر اپنی فوقیت کی کوشش کررہے ہیں۔
ہم ایک بار پھر تاکید کرتے ہیں کہ ایرانی محاذ اس جنگ کے ابتدائی مراحل کو جیت چکا ہے اور بہت بعید ہے کہ یہ جنگ اختتامی مراحل کی طرف بڑھ جائے اور اس کے اسباب ہم نے بیان کئے، پس جو جنگ کا خواہاں ہے وہ اسے ٹویٹر پر منتقل نہیں کرتا ٹوئیٹ پیغامات کی بمباری نہیں کیا کرتا۔ واللہ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: عبدالباری عطوان
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی
۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳