شبہائے قدر اور ہماری دعائیں




بقلم سید نجیب الحسن زیدی خیبر تجزیاتی ویب گاہ: ہم آہستہ  آہستہ ماہ مبارک ر مضان کے تیسرے عشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں یہ تیسرا اور آخر ی عشرہ ہمارے لئے بہت اہم ہے روایات میں ہے کہ تیسرے عشرے میں حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  اپنے بستر کو سمیٹ کر […]



بقلم سید نجیب الحسن زیدی

خیبر تجزیاتی ویب گاہ: ہم آہستہ  آہستہ ماہ مبارک ر مضان کے تیسرے عشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں یہ تیسرا اور آخر ی عشرہ ہمارے لئے بہت اہم ہے روایات میں ہے کہ تیسرے عشرے میں حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  اپنے بستر کو سمیٹ کر رکھ  دیتے تھے اور مسجد میں معتکف ہو جاتے تھے ،خود کو بندگی کے لئے وقف کر دیتے تھے ، حتی  روایت کہتی ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال جنگ بدر کی وجہ سے ایک بار حضور اعتکاف نہ کر سکے کیونکہ جنگ بدر ماہ مبارک کی ۱۷ تاریخ کو ہوئی تھی اور حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں حاضر نہ تھے جسکی بنا پر اعتکاف انجام نہ دے سکے تو آپ نے واپسی پر اعتکا ف کی قضا کی حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے اتنا اہتمام اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آخری عشرہ بہت اہم ہے ۔

شبہائے قدر کی اہمیت

علماء بیان کرتے ہیں، ان شبوں کو ایک بہترین فرصت اور غنیمت موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے کسی نے اچھی بات کہی ہے کہ سال بھر تو ہم راتوں کو سوئے ہیں ان شبہائے قدر میں جاگنے کی کوشش کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس میں بھی سوتے رہ جائیں اور تب جاگیں جب فرشتہ موت ہمارے سامنے ہو [۱]۔

ماہ مبارک رمضان میں صیافت کے ساتھ ساتھ ہمیں شب ہا ئے قدر میں خصوصی دعوت  دی گئی ہے ایسے میں ضروری ہے کہ رحمت الہی کی نسیم کے سامنے خود کو قرار دیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ رحمت الہی کے جھونکے  تمہارے سامنے ہیں اور نسیم رحمت تمہاری طرف چل رہی ہے اب ضروری ہے کہ تم فرصت سے استفادہ کرو[۲] اور خود کو اس کے سامنے قرار  دو بعض  لوگ اس نسیم الہی کے سامنے بڑے اچھے انداز میں خود کو لے آتے ہیں اور مکمل استفادہ کرتے ہیں۔

تاریخ میں ملتا ہے کہ  تاریخ اسلام کی پہلی جنگ میں جب دشمن نے اپنے لشکر کی ترتیب کر لی اس موقع پر شرائط بہت حساس تھے اتنے کہ مسلمانوں کے پاس تعداد بھی کم تھی اور اسلحوں کی بھی قلت تھی نہ وسائل جنگ تھے اور نہ ماہر جنگجو ایسے  یہاں تک ملتا ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے  قریبی و نزدیکی ساتھیوں کے پاس محض دو گھوڑے تھے ایک مقداد کے پاس تھا اور ایک دوسرے صحابی کے پاس  ایسے میں مسلمانوں نے یہ پوری جنگ زیادہ تر پیادہ ہو کر لڑی ہے ، پیادوں کی جنگ میں جنگی ترتیب اور نظم بہت اہم ہوتا ہے لہذا حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کی صفوں کو منظم کر رہے تھے سب کو اپنی اپنی قطار میں کھڑا ہونے کا حکم دے رہے تھے ایسے میں ایک شخص ہے جسکا نام ہے’’  سواد بن غزیہ ‘‘ یہ ذرا صف سے آگے آ گیا  تو حضور کے پاس ایک چھڑی تھی آپ نے اس چھڑی سے ہلکے سے مار کر اسے کہا پیچھے چلے جاو اور صف کا دھیان رکھو بس یہی منزل تھی کہ اس کی فریاد بلند ہو گئی  کہنے لگا یا رسول اللہ  ص آپ نے مجھے ضرب لگائی ہے مجھے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بتا کیا چاہتا ہے ؟ کہا یا رسول اللہ  ص آپ نے مجھے مارا ہے میں قصاص لینا چاہتا ہوں، ادھر پہلی جنگ ہے مسلح دشمن سامنے ہے اور یہ شخص کہتا ہے مجھے آپ سے قصاص لینا ہے ، حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی قمیص کو اوپر چڑھا لیا اور کہا لے جو قصاص لینا ہے لے لے، آپ نے فرمایا یہ میرا سینہ حاضر ہے اسی لکڑی سے مجھے مار تاکہ قصاص ہو سکے ، جیسے ہی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سینہ اقدس کو دیکھا یہ شخص آگے بڑھا اور سینہ اقدس کا بوسہ لے لیا ، اور کہتا ہے یا رسول اللہ یہ جنگ کا میدان ہے شاید کچھ ہی منٹوں میں میں شہید ہو جاوں میں نے چاہا کہ آخری بار جس چیز سے اس دنیا میں مس ہوں  وہ آپکا سینہ مطہر ہو [۳]۔

یہ نسیم رحمت الہی کے مقابل خود کو قرار دینا ہے، ہم کیسے نسیم رحمت الہی کے مقابل خود کو لے کر آئیں ؟  بہت آسان سی بات ہے شب قدر ہمارے سامنے ہے ، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم وہ سب کچھ کریں جو اس شب میں ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اپنے اندر  خلوص پیدا کریں روایت کہتی ہے ’’وہ دعاء جو پاکیزہ سینہ اور باتقوی دل سے نکلتی ہے  وہ بہترین ہے ایسی مناجات نجات کا سبب ہے جو پاکیزہ سینےاور باتقوی  دل سے نکلے ، خلوص نیت کے ساتھ کی جانے والی دعاء نجات و رہائی کا سبب ہے [۴]۔

دل کی پاکیزگی کے لئے انسان کے آنسو بہت اہم ہیں  یہ آنسو دل کی کثافت و آلودگیوں سے دوری کا سبب ہیں، انسان کی زندگی میں وہ مرحلہ بہت اہم ہوتا ہے جب انسان کا دل ٹوٹ جائے اور اسکے اشک جاری ہو جائیں [۵]۔

روایت کہتی ہے : جب تمہارے اشک جاری ہوجائیں اور تمہارا دل ٹوٹ جائے تو یہ وہ موقع ہے جوخدا سے جڑنے کا موقع ہے، ایسے موقع پر پروردگار ملائکہ پر مباہات کرتا ہے ک دیکھو میرے اس بندے کو دیکھو کیسے تڑپ کر مجھے پکار رہا ہے ، اسکی دعاء کو جلدی قبول نہ کرنا اس لئے کہ مجھے اسکی صدا پسند ہے۔

یہاں پر یہ بات ضروری ہے کہ اگر دعاء کر رہے ہیں تو ضروری نہیں کہ فوری طور پر قبول ہو جائے ممکن ہے کوئی مصلحت پروردگار ہو یا ممکن ہے کہ اسے ہمارا طریقہ دعاء پسند آ رہا ہو اور وہ سننا چاہتا ہو کہ میرا بندہ کس انداز سے مناجات و دعاء کر رہا ہے ۔

علی کی بندگی

یہ شب ہائے قدر جہاں دعاوں سے مخصوص ہیں ، یہ تیسرا عشرہ جہاں بخشش اور عفو کے لئے جانا جاتا ہے وہیں  یہ وہ ایام ہیں جو امام علی علیہ السلام کی شہادت سے متعلق بھی ہیں  اس علی ع کی شہادت سے مخصوص ہیں  جو اہل مناجات و دعاء تھے ابن ابی الحدید معتزلی جب عبادت امیر المومنین علیہ السلام کو بیان کرتے ہیں تو لکھتے ہیں ’’ علی مرتضی علیہ السلام کی شخصیت وہ ہے کہ جو صفین کے معرکہ کے دوران نماز پڑھتی نظر آتی ہے ، ایسے عالم میں جب دشمن کے تیر آکے چاروں طرف گر رہے ہیں لیکن آپ انکی طرف توجہ نہ کرتے ہوئے عبادت الہی میں مشغول ہیں [۶]۔

ماہ مبارک کے تیسرے اور آخری عشرے میں ہم اس علی ع کی شہادت کا غم منا رہے ہیں  جسکی عبادت و جسکے زہد کی تاریخ نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے ۔

وہ علی ع  جو نخلستانوں میں کسی  مار گزیدہ  کی طرح تڑپتے تھے ابو درداء سے نقل ہے کہ میں نے دیکھا  علی ع رات کی تاریکی میں نخلستانوں میں اپنے مالک سے رازو نیاز میں مشغول ہیں آنکھیں اشکبار ہیں اور کہہ رہے ہیں : ’’پروردگار  میں تیرے عفو کے بارے میں سوچ رہا ہوں  تو میرے گناہ میرے سامنے ہلکے نظر آ رہے ہیں لیکن جب تیری سزا کے بارے میں سوچتا ہوں تو سوچتا ہوں کتنا سخت امتحان ہوا آہ وہ آگ  جو گوشت کو بھون کر رکھ دے گی ۔[۷]

ابو درداء کہتے ہیں میں نے یہ دیکھا  کہ علی ع نے یہ کہا اور غش کھا کر گر پڑے ۔

یہ علی ع کا طرز بندگی ہے مالک کے حضور خود کو اس طرح علی ع پیش کرتے ہیں یہی مالک کے سامنے رونے والا علی ع اتنا مظلوم ہے کہ خود اس کے اپنوں نے اسے رلایا ہے علی ع  کے پاس ایسے بہت کم لوگ تھے جنہوں نے علی ع کو تکلیف نہ پہنچائی ہو اور علی ع نے ایسے لوگوں کو ہمیشہ سراہا جنہوں نے علی ع کے لئے مشکلات پیدا نہ کیں بلکہ آسانیوں کا سبب رہے  سر پر ضربت لگتی ہے اور زخمی حالت میں آپکو گھر لے کر جاتے ہیں اس وقت صعصہ نے مولا سے ملنے کی خواہش کی ، اور کسی کے ذریعہ یہ پیغام پہنچایا کہ آقا سے جا کر صعصہ کا یہ پیغام کہہ دینا  ’’ خدا آپ پر رحمتوں کو نازل کرے اے ابو الحسن ! خدا آپکے سینے میں بزرگ و برتر تھا غیر خدا  آپکے سینے میں چھوٹا تھا آپ کلمات الہی کو جاننے والے اور ان سے باخبر تھے [۸]۔

صعصہ کے پیغام بر نے جب یہ پیغام  مولا تک پہنچایا تو آپ نے فرمایا: میرا یہ پیغام صعصہ کو دے دینا :’’ اے صعصہ خدا تم پر رحمت نازل فرمائے ہمیشہ میرے لئے ایک ایسے ساتھی تھے جس نے مجھے کم زحمت میں ڈالا اور خوب کوشش کی  تم میرے لئے کم خرچ تھے لیکن تم نے بہت فائدہ پہنچایا  [۹]۔

یہاں پر ہم سب کے لئے سوچنے کا مقام ہے  امام علیہ السلام نے جس طرح صعصہ کو یاد کیا ہے کیا ہمارا بھی طریقہ زندگی ایسا ہے کہ ہمارے وقت کا امام ہمیں بھی ایسے ہی یاد کرے ، کتنی مظلومیت ہے امام علی علیہ السلام کی کہ عمرو بن حمق خزاعی سے فرماتے ہیں ’’ کاش میرے پاس تمہارے جیسے سو ہوتے ۔

علی کا طرز حیات اور ہمارا کردار

کیا ہم نے اپنے کردار کو اپنے اعمال کو ایسا بنا لیا ہے کی علی ع کہہ سکیں کاش میرے پاس تمہارے جیسے کچھ ہوتے ؟

ہم تو اپنی محفلوں میں علی  علی  کرتے نہیں تھکتے کیا ہمارا کردار بھی  ایسا ہے کہ علی ع ہمارے منھ سے اپنے تذکرے کوپسند کریں اور کہیں کہ میرے چاہنے والےمرحبا تو نے حق ولایت ادا کر دیا ، شاید ہی تاریخ میں اس لفظ علی ع سے زیادہ کوئی لفظ لوگوں کی زبان پر آیا ہو ، جہاں اپنوں نے اس  لفظ کو   کیف و سرور کے ساتھ کیا وہیں دشمنوں کے نشیمن پر یہ  علی ع کا نام برق شرربار بن کر گرا ہے ، افسوس کہ یہ نام علی ع تاریخ کا مظلوم ترین نام ہے ،کاش ہم اس نام کو روز مرہ اپنی زندگی میں استعمال کر نے کے ساتھ ساتھ اسکی بزرگی و عظمت کو بھی اپنے سماج میں رائج کریں  علی ع کی شخصیت کو بھی سمجھیں علی ع کی ذات سے بھی کچھ حاصل کریں ۔

ہمیں اپنے سماج اور معاشرے میں ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کہ علی ع نے ہم سے کیا چاہا ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہماری زندگی علی ع کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق ہے یا منشاء علی کے خلاف ہم چل رہے ہیں اور ہمارا گمان یہ ہے کہ ہم راہ علی ع پر چل رہے ہیں ۔ راہ علی ع پر چلنے  کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اطراف و اکناف سے باخبر ہوں کہ کیا ہو رہا ہے ؟ اور ہم کہاں کھڑے ہیں ، ہمارے لئے علی  ع کے نام کے ورد اور انکے تذکرہ کےساتھ ضروری ہے کہ ہم جانیں علی ع کی زندگی کی وہ خاص چیز کیا تھی جس کی بنا پر علی ع جیسے انسان کو جس کی ضرورت ہر دور کو ہے شہید کر دیا گیا ، جب ہم  غور کریں گے تو نظر آئے گا وہ چیز جو علی ع کی شہادت کا سبب بنی آپکی عدالت ہے اسی لئے بعض اسکالرز نے کہا ہے ’’ قتل فی محرابہ لشدتہ عدلہ ‘‘

عدالت علی اور ہم

جس علی ع  کی شہادت راہ عدل و انصاف  پر چلنے کی وجہ سے ہوئی ، جس علی ع کی شہادت قیام عدل و قسط کے سبب ہوئی کیا اس علی ؑ کو گوارا ہوگا کہ اسکے چاہنے والے ظلم و نا انصافی کے شکار ہو جائیں ، جس علی ؑ نے ساری دنیا کو پیغام عدل دیا کیا اسکے چاہنے والے ظالموں کی حمایت  کرتے ہوئے نظر آ سکتے ہیں ، کیا علی ع کے چاہنے والے ان لوگوں کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں جن پر دشمنوں کی طرف سے مسلسل منصوبہ بندی کے ساتھ عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ؟ کیا علی ؑ کے ماننے والے ماہ رمضان کے تیسرے عشرے میں اپنے ان بھائیوں سے غافل ہو سکتے ہیں  جن پر دنیا کی بڑی طاقتوں کا دباو اسی لئے ہے کہ وہ ببانگ دہل علی ع کی ولایت کا اقرار کرتے ہیں ، کیا علی ؑ کے چاہنے والے اپنے اطراف و اکناف کی دنیا سے غافل ہو سکتے ہیں ؟

مشرق وسطی کے حالات اور ہماری ذمہ داری

اگر نہیں تو ذرا وقت نکال کر دیکھیں ہمارے سامنے کیا حالات ہیں  ، مشرق وسطی پر کس طر ح علی ع والوں پر یلغار کی تیاری کی جا رہی ہے ، آج مشرق وسطی ایک بار پھر ایک تباہی کے دہانے پر ہے بعض نادان سیاست مداروں کے ہوس اقتدار کی بنا پر خطے میں جنگ کی سی صورت حال ہے ، اگرچہ بعید ہے کہ جنگ ہو لیکن جنگ کے بادل بہر حال منڈلا رہے ہیں  ہمیں ایسے ماحول میں حالات کا صحیح تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

ولایت علی علیہ السلا م کا اقرار کرنے والے ملک پر آج ہر طرح سے چو طرفے حملے ہو رہے ہیں یہ  اذانوں میں علی  ولی اللہ ع کی گواہی  کا جرم ہے کہ ایک ملک کو چو طرفہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہر طرف سے ناکہ بندی ہو رہی ہے مکمل محاصرے جیسی صورت حال ہے ایسے میں ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ  اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ، تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض اس لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں کہ ایک ایسے ملک کی طرف دشمن آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات کر رہا ہے جس نے ہمیشہ اپنی طرف اٹھنے والے ہاتھوں کو قلم کیا ہے ، اور دنیا بھر میں علی ع کے چاہنے والوں کی حمایت  میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے  آج اگر ساری دنیا کے علی ع والے ولایت علی ع کے نمک کی تاثیر دکھانا چاہیں تو اپنی چو طرفہ حمایت سے دشمن کی نیندیں حرام کر سکتے ہیں ، لیکن  پہلے مرحلے میں بہت کچھ نہیں کرنا ہے بس اپنے اندر اتحاد رکھنا ہے اور کم از کم ان لوگوں کی زبانیں بند کرنا  ہے جو اس واحد ملک کے خلاف   اپنی ہی صفوں سے آواز یں  لگاتے نظر آتے ہیں،  گھر کے بھیدی کی صورت اپنی لنکا ہی ڈھانے پر تلے ہیں ، جزوی طور پر فکری اختلاف کی آڑ پر ولایت علی  ع کے تقاضوں کی جڑوں کو کاٹنے کے درپے ہیں  لیکن یہ بھول گئے کہ  اپنی ہی پتیلی میں چھید کر کے آپ اپنا پیٹ نہیں بھر سکتے۔

کیا دنیا بھر کے شیعوں کے ساتھ برصغیر کے شیعوں اور حریت پسندوں سے یہ توقع رکھنا بے جا ہے کہ جنگی صورت حال میں وہ یقینا ہر طرح سے متحد ہو کر اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کریں گے اور بہت جلد وہ بیڑا جو خلیج فارس میں لنگر انداز ہے اسی طرح واپس جانے پر مجبور ہوگا جس طرح ابرہے کا لشکر ، لشکر چاہے ابرہے کا ہو  معمولی ابابیلوں سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے مگر ابابیلوں کے لئے بھی شرط ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد رکھیں انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر کامیابی ہماری ہوگی ، ہم اگر زیادہ کچھ نہیں کر سکتے اور دعاء ہی کر سکتے ہیں تو آئیں اس ماہ مبارک رمضان کے آخری عشرہ میں شہادت امام علی علیہ السلا م سے مخصوص شبوں میں دعاء کریں کہ پروردگار دنیا بھر میں راہ علی ع پر چلنے والے حریت پسندوں کی حمایت و نصرت فرما  انکے دشمنوں کو ہمیشہ کی طرح سرنگوں، ذلیل و خوار فرما ۔

 

حواشی:

[۱] ۔ الناس نیام اذا ماتو انتھبوا ، لوگ سو رہے ہیں جب مریں گے تو بیدار ہوں گے ، شرح کافی جلد ۹ ص ۱۷

[۲]  ۔ان للہ فی ایام دھرکم نفحات الا فتعرضو لھا ، شیخ صدوق، کتاب التوحید ص ۳۳۰ ، کلینی ، الکافی، جلد ۷ ص ۶۵۰

[۳]  ۔ المغازی واقدی ، جلد ۱ ص ۱۵۶

[۴]  ۔ خیر الدعاء ما صدر عن صدر نقی و قلب تقی و فی المناجاۃ سبب النجاۃ و بالاخلاص الخلاص ، کلینی ، اصول کافی جلد ۲ ص ۴۶۸ ح ۲

[۵]  ۔ ایضا

[۶]  ۔ ابن ابی الحدید ، شرح نھج البلاغہ جلد ۱ ص ۲۷

[۷]  ۔ الہی افکر فی عفوک فتھون علی خطئیتی ثم اذکر العظیم من اخذک فتعظم علی بلیتی ۔۔۔آہ من نار نزاعہ للشوی ، شیخ عباس قمی الکنی والالقاب ، ص ۶۴۔۶۵

[۸]  ۔ رحمک اللہ یا ابا الحسن لقد کان اللہ صدرک عظیما و قد کنت بکلمات اللہ علیما ، محسن امین ، اعیان الشیعہ ، جلد ۷ ص ۳۸۸، شیخ عباس قمی ، سفینۃ البحار جلد ۵ ص ۱۰۶

[۹]  ۔ واللہ ما کنت علمتک الا خفیف الموٗونہ و کثیر المعونہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۲