سینچری ڈیل کا کیا ہو گا انجام؟




اس نام نہاد منصوبے کے اعلان کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گی۔ اس مشکل کا راہ حل یہ ہے کہ ان کے لیے ایک دوسری سرزمین متعین کر دی جائے گی اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ کبھی بھی اپنے وطن واپسی کا حق نہیں رکھیں گے۔



بقلم میلاد پور عسگری

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سینچری ڈیل ایک ایسا منصوبہ ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے قضیہ فلسطین کے دائمی راہ حل کے طور پر تجویز کیا ہے۔(۱) اسی منصوبے کے پیش نظر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۱۶ دسمبر ۲۰۱۷ میں بیت المقدس کو اسرائیل کا پائیتخت قرار دیا۔ ان کے اس اقدام کے خلاف اگرچہ عالمی سطح پر کافی رد عمل سامنے آیا لیکن اس رد عمل کا ان پر کوئی فرق نہیں پڑا اور نتیجہ میں امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اور اس اعلان کے ایک سال بعد یعنی ۱۴ مئی ۲۰۱۸ کو امریکہ نے اپنا سفارتخانہ باضابطہ طور پر بیت المقدس منتقل کر دیا جس کی اقوام متحدہ، بعض مغربی ممالک، فلسطین، اردن اور بعض اسلامی ممالک نے سخت مخالفت کی۔ (۲)
عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف سامنے آنے والے اس کثرت سے رد عمل کی انہیں امید نہیں تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف مقدمات فراہم کئے۔ مثال کے طور پر نیتن یاہو نے پچاس ملین ڈالر کا ایک صندوق ان ممالک کی حمایت کے لیے مخصوص کر دیا جو اپنے سفارتخانوں کو بیت المقدس منتقل کریں۔(۳)
دوسری طرف عرب ممالک ہیں جو اگر چہ بظاہر صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو آشکار نہیں کر رہے ہیں لیکن باطنی طور پر وہ اس ریاست کے ساتھ گہرے روابط رکھتے ہیں اور اب ان کے اندر مسئلہ فلسطین کے تئیں کوئی ٹھوس موقف نظر نہیں آتا۔ (۴) اس لیے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عرب ممالک کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کے کئی پروجیکٹس پر کام ہو چکا ہے۔
انہوں نے حتیٰ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے علاقے میں پالے ہوئے اپنے بھیڑئے یعنی سعودی عرب کو بھی استعمال کیا۔ رام اللہ میں بادشاہ اردن کے دفتر کے سربراہ ’’خالد الشوابکہ‘‘ نے ۲۰۱۷ میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’’ابومازن‘‘ کے سعودی عرب دورے میں، بن سلمان نے انہیں صدی کی ڈیل کا ساتھ دینے کی صورت میں دس کروڑ ڈالر کی پیشکش کی لیکن ابومازن نے اس کی مخالفت کر دی اس لیے کہ ایسے اقدام کو انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے خاتمے کے برابر قرار دیا۔ (۵)
نیز امریکہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کی کفالت کے عالمی ادارے ’’اونروا‘‘ کو اپنی مالی امداد روک دی۔ بیت المقدس میں یہودی بستیاں بسانے کے لیے وسیع اقدامات کئے۔ دوسری جانب اردن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ملین بے گھر فلسطینیوں کو اپنے ملک میں جگہ دے اور اس کے بدلے میں ۴۵ کروڑ ڈالر کی رقم دریافت کرے۔ مصر کو بھی پیشکش دی گئی کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی رفت و آمد کو شمالی سینا کی جانب سے آسان بنانے میں تعاون کرے اور اس کے بدلے ۶۵ کروڑ ڈالر مختلف نوبتوں میں وصول کرے۔ (۶)
ان مقدمات کی فراہمی کی صورت میں، امریکہ کو اتنی جرئت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ ماہ مبارک رمضان کے بعد سینچری ڈیل منصوبے کا اعلان کرے۔ اس نام نہاد منصوبے کے اعلان کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گی۔ اس مشکل کا راہ حل یہ ہے کہ ان کے لیے ایک دوسری سرزمین متعین کر دی جائے گی اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ کبھی بھی اپنے وطن واپسی کا حق نہیں رکھیں گے۔ نیز فلسطینی اتھارٹی غزہ کی پٹی اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں محدود ہو جائے گی(۷)۔
مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر ڈیویڈ فریڈمن اس منصوبے کے لیے تین اہم خصوصیات ذکر کرتے ہیں:
۱۔ اسرائیل کا مغربی کنارے پر مکمل تسلط
۲۔ علاقے میں اسرائیل کے لیے دائمی سالمیت
۳۔ بیت المقدس اسرائیل کا دائمی دار الحکومت
البتہ فلسطینی اتھارٹی اور بعض دیگر عرب ممالک کی جانب سے ان مقاصد کی مخالفت سامنے آئی ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰۱۸ میں اردن عرب وزراء کی نشست میں ریاض المالکی نے کہا کہ صدی کی ڈیل کا نتیجہ قدس اور پناہ گزینوں کے قضیے کو ہمیشہ کے لیے مٹا دینا ہو گا۔
ان تمام تفصیلات کے باوجود اس راہ میں ابھی بھی بہت ساری رکاوٹیں موجود ہیں۔ پہلی رکاوٹ ابومازن کی مخالفت ہے۔ لیکن اگر وہ اس معاملے پر راضی بھی ہو جاتے ہیں تو دیگر مزاحمتی دھڑے جو ابومازن کے تحت حکم نہیں ہیں اپنی مخالفت کو جاری رکھیں گے۔ اردن کو بھی اگر چہ پیسے کی لالچ دی گئی ہے لیکن اس کے قدس کے مقدس مقامات پر کنٹرول نہ ہونے، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے سکونت کا اہتمام ممکن نہ ہونے نیز ہاشمی حاکمیت کو جو چینلجز درپیش ہیں ان کی وجہ سے اردن بھی مخالفت کرنے پر مجبور ہے۔ (۸) ان تمام موارد سے قطع نظر علاقائی ممالک اور مزاحمتی گروہوں میں ایران کا نفوذ اس معاملے کے تحقق کو مشکل بنا دے گا اور اگر بالفرض ایسا معاملہ انجام پا ہی جاتا ہے تو فلسطین کے حامی گروہوں اور اسرائیل کے درمیان ایک نئی جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔
حواشی
۱ – http://www.naasar.ir/qarn.
۲- https://fa.euronews.com/2018/05/14/why-moving-the-us-embassy-to-jerusalem-is-important-.
۳ – https://www.farsnews.com/news/13980210000851.
۴ – https://www.mashreghnews.ir/news/952665.
۵ – https://www.farsnews.com/news/13980210000624.
۶ – https://www.islamtimes.org/fa/article/787335.
۷ – https://www.farsnews.com/news/13980210000624.
۸ – https://www.farsnews.com/news/13980210000629.

……….

ختم شد؍۱۰۳