عطوان: امریکہ ایران کی دھمکیوں کو بالکل سنجیدہ لیتا ہے




عرب دنیا کے مشہور قلمکار عبدالباری عطوان نے لکھا ہے کہ ایران کے خفیہ اسلحے کے سلسلے میں اس ملک کے کمانڈروں کی حالیہ دھمکیوں کو امریکی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عبدالباری عطوان نے اتوار [۲۶ مئی ۲۰۱۹ع‍] کو اخبار “رای الیوم” میں اپنی یادداشت کے ضمن میں معمول کے مطابق کئی سوالات اٹھانے کے بعد لکھا: ایرانی کمانڈر نے امریکی بحری جنگی جہاز ڈبونے کے لئے ایک خفیہ ہتھیار کے استعمال کی دھمکی دی ہے اور اب سوال یہ ہے کہ یہ ہتھیار کیا ہے؟ اور مشرق وسطی میں موجود ۸۰۰۰۰ افراد پر مشتمل امریکی فوجوں کے تحفظ کے لئے ۱۵۰۰ افراد کی روانگی کا کیا مطلب ہوسکتا ہے اور ان کی افادیت کیا ہوگی؟
امریکہ حیرت میں ڈوبا ہوا نظر آرہا ہے اور ایران کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی غیر شفاف ہے؛ امریکی بحرے بیڑے اپنی پوری طاقت، نفری اور جنگی طیاروں کے ساتھ علاقے میں موجود ہے لیکن وہ ایرانیوں کو خوفزدہ اور سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے سے عاجز ہیں۔
*امریکی فوجیوں کی علاقے میں روانگی کا مقصد مشکوک
ڈونلڈ ٹرمپ نے “ایران کے خطرے میں شدت آنے کی رو سے ۱۵۰۰ فوجی علاقے میں تعینات امریکی افواج کی حفاظت کے لئے؟ روانہ کئے ہیں جو امریکی حکومت کی پریشانی اور حیرت زدگی کا کھلا ثبوت ہے یا پھر یہ ایک “پہیلی” ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ۱۵۰۰ افراد ۸۰۰۰۰ فوجیوں کی حفاظت کریں؟ جبکہ ان ۸۰۰۰۰ افراد میں سے ۱۴۰۰۰ افغانستان میں ہیں اور ۸۰۰۰ کے قریب شام اور عراق میں ہیں؟ ٹرمپ کس کا مذاق اڑا رہے ہیں؟ اپنے آپ کا یا اپنی قوم کا یا پھر علاقے کے ممالک کا جن کی حفاظت کا انھوں نے وعدہ کیا ہے؟
ٹرمپ نے بذات خود دو ہفتے قبل نیویارک ٹائمز کی رپورٹوں کو مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی وزارت دفاع ۱۲۰۰۰۰ فوجی مشرقی وسطی روانہ کرنے کی تجویز پر کام کررہی ہے۔ اور اب وہ ۱۵۰۰ فوجیوں کی روانگی کی بات کررہے ہیں۔ کیا فوجیوں کے یہ دستے ان افواج کی روانگی کے ہراول دستے کے طور پر جارہے ہیں اور باقی افواج کئی مراحل میں روانہ کی جائے گی یا پھر وہ کوئی فریب کاری کررہے ہیں؟

امریکی جنرل پیٹرک شناہن (Patrick M. Shanahan) نے حال ہی میں کہا تھا کہ علاقے میں امریکی افواج کے لئے ایرانی خطرہ بہت بڑا اور سنجیدہ ہے، تو اگر یہ اتنا بڑا خطرہ ہے تو امریکی اتنی مختصر نفری کے ذریعے اس عظیم خطرے سے نمٹنا چاہتے ہیں یا پھر پس پردہ کوئی دوسرا مسئلہ ہے جس کی ہمیں خبر نہیں ہے؟
میرے پاس بھی اور دوسرے مبصرین کے پاس بھی ان سوالات کا کوئی واضح جواب نہیں ہے؛ لیکن ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ سنہ ۲۰۰۳ میں جب امریکہ نے عراقی حکومت بدلنے کی غرض سے اس ملک پر حملے کا آغاز کیا تو اسے ایک تنہا اور نہتے ملک کا سامنا تھا جس کا اس دنیا میں کوئی یار و مددگار نہ تھا جو آٹھ سال تک ایک تھکا دینے والی جنگ میں الھجایا جا چکا تھا اور تمام طاقتور یورپی ممالک سمیت ۳۳ ممالک کی مدد سے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ لیکن ایران کے ساتھ کسی بھی جنگ کی صورت میں حالات بالکل مختلف ہیں۔
ہم کہنا چاہتے ہیں کہ امریکہ کو اس مرتبہ ایک مذہبی دشمن کا سامنا ہے جس کے کئی ممالک میں حمایتی بازو بھی ہیں اور یہ بازو حکم کے منتظر ہیں تا کہ امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے سامنے ـ جن میں سر فہرست یہودی ریاست [اسرائیل] ہے ـ کئی محاذوں میں، جہنم کے دروازے کھول دیں۔
*عجب یہ ہے کہ یہودی ریاست اور عرب ممالک امریکہ کے ساتھ نہیں ہیں
اگر امریکی حکومت جنگ کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ تنہا ہوگی اور اس کو امریکی عوام کی حمایت بھی حاصل نہیں ہوگی اور دوسری طرف سے یہودی ریاست اور خلیج فارس کی ساحلی عرب ریاستیں بھی اس کا ساتھ نہیں دیں گی۔ کیونکہ یہ عرب ریاستیں مختلف قسم کے جدید ہتھیاروں اور جنگی طیاروں کے مالک ہونے کے باوجود، نہتے ملک یمن کے خلاف اپنی پانچ سالہ جارحیت کے باوجود، پوری طرح ناکام رہی ہیں۔
ایرانی صدر نے بھی دو روز پیش کہا کہ حتی اگر امریکہ ایران پر میزائل حملے کرے تو ایران پوری طاقت سے ان حملوں کا جواب دے گا اور سرتسلیم خم نہيں کرے گا۔
مورخہ ۲۴ مئی کو خرمشہر کی آزادی کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی کمانڈروں ـ بالخصوص سپاہ پاسداران کے اعلی مشیر جنرل مرتضی قربانی ـ کا موقف بہت اہم تھا۔ جنرل قربانی نے کہا کہ اگر امریکہ نے کوئی حماقت کی تو دو بالکل خفیہ اور پراسرار میزائلوں یا ہتھیاروں کے ذریعے امریکی بحری جہازوں کو سمندر کی تہہ تک پہنچایا جائے گا۔ جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے معاون خصوصی حسن یوسفی کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج کی سوچ اور ثقافت کو لبنان، غزہ، افغانستان، فلسطین اور یمن کی مزاحمتی تنظیموں تک منتقل کیا جا چکا ہے اور مجھے [عطوان کو] یقین ہے کہ “فلسطین” سے مراد “مغربی کنارہ” ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ایرانیوں کی یہ دھمکیاں نفسیاتی جنگ کا حصہ ہوں لیکن یہ دھمکیاں بہت اہم پیغامات پر مشتمل ہیں اور امریکی حکام ان دھمکیوں اور ان کے ضمن میں دیئے جانے والے پیغامات کو سنجیدہ لیں گے؛ کیونکہ ان خبروں نے ـ کہ الحشد الشعبی نے اپنے میزائلوں کا رخ عراق میں موجودہ امریکی اڈوں کی طرف کر دیا ہے ـ امریکی وزیر خارجہ کو بغداد جانے پر مجبور کیا جنہوں نے عراقی حکومت سے امریکی فوجیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
*امریکہ نے اپنی عزت لٹا دی
یہ بات درست نہیں ہے کہ جنگ کا امکان بالکل ختم ہوچکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اپنی عزت و آبرو بہت حد تک کھو چکا ہے بالخصوص جب الفجیرہ میں اس کے اتحادیوں کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، بغداد کے گرین زون میں امریکی سفارتخانہ میزائل حملے کا نشانہ بنا اور حوثیوں کے ڈرونز نے سعودی عرب میں ۸۰۰ کلومیٹر تک اندر جاکر سعودی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو امریکیوں کا رد عمل بالکل منفعلانہ اور معذرت خواہانہ تھا گوکہ سعودی تیل کی تنصیبات پر یمنیوں کا حملہ، سعودی حملوں کے مقابلے میں دفاعی اور جوابی حملہ تھا۔
بہرحال اس وقت ارادوں کی جنگ ہے، معلوم نہیں ہے کہ کون پہلا نعرہ لگائے گا میدان جنگ میں یا پھر خفیہ یا اعلانیہ طور پر مذاکرات کی میز پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرجت حسین مہدوی

ابنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳