امام خمینی (رہ) اور یوم القدس کا احیاء




میں یوم القدس کو اسلام اور رسول اکرم (ص) کا دن سمجھتا ہوں، ایسا دن ہے، جب ہمیں چاہئے کہ اپنی تمام طاقتوں کو یکجا کریں: امام خمینی



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امام خمینی نے یوم القدس کے بارے میں فرمایا: “یوم القدس عالمی دن ہے اور یہ صرف قدس سے متعلق نہیں ہے۔ یہ مستضعفین کا مستکبرین کے ساتھ مقابلے کا دن ہے، یہ ان اقوام کے مقابلے کا دن ہے، جو امریکہ اور غیر امریکہ کے ظلم تلے دبی ہوئی تھیں، ایسا دن ہے جب مستضعفین کو چاہئے کہ مستکبرین کے خلاف پوری طرح تیار ہو جائیں اور ان کو ذلیل و خوار کریں۔ یوم القدس صرف فلسطین سے مخصوص نہیں ہے، یہ اسلام کا دن ہے، یہ اسلامی حکومت کا دن ہے۔ ایسا دن ہے، جب سپر طاقتوں کو سمجھانا چاہئے کہ اب اسلامی ممالک میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔”

امام خمینی ؒنے مزید فرمایا: “میں یوم القدس کو اسلام اور رسول اکرم (ص) کا دن سمجھتا ہوں، ایسا دن ہے، جب ہمیں چاہئے کہ اپنی تمام طاقتوں کو یکجا کریں، مسلمانوں کو اپنے خول سے نکلنا چاہئے اور اپنی تمام طاقت و توانائی کے ساتھ اجانب اور بیگانوں کے سامنے کھڑے ہو جانا چاہیے۔ یوم القدس ایسا دن ہے، جب تمام سپر طاقتوں کو وارننگ دی جانی چاہئے کہ اب اسلام آپ کے خبیث ہتھکنڈوں کی وجہ سے آپ کے زیر تسلط نہیں آئے گا، یوم القدس، اسلام کی حیات کا دن ہے، یوم القدس ایک اسلامی دن ہے اور یہ ایک عام اسلامی رضاکاروں کا دن ہے۔”

امام خمینی نے مزید فرمایا کہ “مجھے امید ہے کہ یہ مقدمہ بنے گا ایک “حزب مستضعفین” کے لئے، اگر امت مسلمہ نہ جاگی اور اپنے وظایف سے واقف نہ ہوئی، اگر علمائے اسلام نے ذمہ داری کا احساس نہ کیا اور اٹھ نہ کھڑے ہوئے، اگر واقعی اور اصیل اسلام جو اجانب کے خلاف تمام مسلمان فرقوں کے درمیان اتحاد و تحرک کا باعث ہے اور مسلمان اقوام اور اسلامی ممالک کی سیادت و استقلال کا ضامن ہے، اگر بیگانوں اور اجانب کے عوامل کے ہاتھوں اور سامراجی سیاہ پردوں کے اندر بھڑکنے لگے تو اسلامی سماجوں کے لئے اس سے بھی زیادہ سیاہ اور برے دنوں کا انتظار کیجئے اور اسلام کی بنیاد اور قرآن کے احکام کو بہت تباہ کن خطرہ لاحق ہے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳