عالمی معیشت کی رگ حیات یہودی تاجروں کی مٹھی میں



سرمایه در دست یهودیان!

آج دنیا کی معیشت کی تمام رگہائے حیات یہودیوں کے پنجے میں ہیں دنیا کے تمام بڑے اقتصادی مراکز پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور تمام بین الاقوامی تجارتی تنظیمیں یہودیوں کے ذریعے کام کر رہی ہیں



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: پندرہویں صدی عیسوی سے سولہویں صدی عیسوی تک یہودیوں نے ابربیان جزیرہ سے مغربی اور شمالی ممالک کی طرف کثرت سے نقل مکانی کی۔ اس نقل مکانی سے سرمایہ داری کے جدید نظام کو وجود بخشنے میں ایک طرف یہودیوں کو اچھا خاصا موقع مل گیا دوسری طرف یہودیوں کو مالی ڈھانچے مضبوط بنانے میں کافی مدد مل گئی۔
عبری زبان کی یروشلم یونیورسٹی کے مورخین نے یہودیوں کی اس نقل مکانی کو عصر جدید کی معیشت میں یہودیوں کے بنیادی کردار میں سب سے زیادہ موثر گردانا ہے۔(۱) بحیرہ روم کی بندرگاہوں پر ہسپانوی اور پرتگالی یہودیوں کا تسلط علاقے میں انجام پانے والے تجارتی امور کو بے حد متاثر کرتا ہے۔
مشرقی بندرگاہوں پر قابض یہودی مغرب کے ساتھ تجارت میں واسطہ ہونے کا کردار ادا کرتے تھے اور ہالینڈ اور برطانیہ کے اکثر تجارتی کمپنیوں کے نمائندے جو بحیرہ روم کے مشرقی علاقوں جیسے فلسطین، لبنان، شام اور اردن پر تجارتی سرگرمیاں انجام دیتے تھے سب یہودی تھے۔
پولینڈ کے یہودی جرمنی کے یہودیوں کے مال سے فائدہ اٹھاتے تھے اس طریقے سے پوری دنیا کی تمام تجارتی شاہراہوں پر یہودیوں کا قبضہ تھا جس کے بعد ایک منظم اور منسجم بین الاقوامی چینل وجود میں آیا جس کے ہر اہم نقطے اور مرکز پر یہودیوں نے اپنا قبضہ جما لیا۔
آج دنیا کی معیشت کی تمام رگہائے حیات یہودیوں کے پنجے میں ہیں دنیا کے تمام بڑے اقتصادی مراکز پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور تمام بین الاقوامی تجارتی تنظیمیں یہودیوں کے ذریعے کام کر رہی ہیں۔(۲)

[۱]Judaica,vol. 3, p. 167 / 5

[۲] Judaica, vol. 11, p. 1024.

………………

ختم شد؍۱۰۳