بر صغیر صہیونیت کے خلاف جدوجہد کا گہوارہ




برصغیر کے مسلمان ابتداء ہی سے شدت کے ساتھ فلسطینی کاز کی حمایت اور صہیونی ریاست کے مد مقابل کھڑے ہوگئے۔ سنہ ۱۹۱۹-۱۹۲۴ع‍، برعظیم ہند، ایک زبردست اسلامی تحریک ـ بعنوان “تحریک خلافت” ـ کا شاہد تھا جو برطانیہ کی یلغار کے مقابلے میں خلافت عثمانیہ کے تحفظ کے لئے شروع ہوئی تھی اور اسی اثناء میں انگریزوں اور یہودی ایجنسی کے ہاتھوں بیت المقدس پر قبضے کی صلیبی ـ صہیونی سازش کے خلاف شدید اور مصالحت ناپذیر جدوجہد کررہی تھی



بقلم ڈاکٹر محسن محمدی
ترجمہ فرحت حسین مھدوی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: برصغیر پاک و ہند دنیا کے اہم ترین علاقوں میں سے ہے جو سو سال سے زائد برطانوی استعمار کے تجربے سے گذرا ہے۔ چنانچہ ہندوستان میں استعمار مخالف جذبات بہت قوی ہیں۔ یہی جذبات ہندوستان سے انگریزی استعمار کے نکال باہر کئے جانے کا سبب بنے ہیں۔ اس اثناء میں ـ مسلمان، جو ہندوستان پر انگریزی استعمار کے قبضے کے وقت اس خطے کے حکمران تھے، انگریزی استعمار کے خلاف جدوجہد کا ہراول دستہ سمجھے جاتے تھے، اور جتنا کہ انھوں نے استعماری قبضے سے نقصانات اٹھائے اتنے ہی وہ استعمار کے خلاف جدوجہد میں کوشاں رہے۔ اسی بنا پر برصغیر کے مسلمان استعمار کے خلاف جدوجہد کے لحاظ سے عالم اسلام میں اہم کردار اور مقام رکھتے ہیں۔

عالم اسلام میں استعمار کی اہم ترین نشانیوں میں سے ایک صہیونی ریاست کا قیام ہے؛ ایک جعلی ریاست جسے امریکہ اور برطانیہ کی استعماری طاقت نے علاقے میں اپنے مفادات کے حصول اور عالم اسلام پر دباؤ کے لئے قائم کیا۔

امام خمینی (قدِّسَ سِرُّهُ) نے سنہ ۱۹۷۳ع‍ میں امریکہ و کینیڈا میں مقیم مسلم طلبہ کے جواب میں نہایت اختصار اور عمدگی کے ساتھ قدس شریف پر قابض ریاست کی حقیقت یوں بیان کی ہے:

… اسرائیل مغرب و مشرق کے استعماری ممالک کے فکری تعاون کا فطری زائیدہ تھا، کیونکہ انھوں نے اسرائیل قائم کرکے عالم اسلام کے استحصال، تباہی، نوآبادکاری اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا اہتمام کیا اور آج ہم بوضوح دیکھتے ہیں کہ تمام تر استعماری فریق اس کی مدد کررہے ہیں۔

برصغیر کے مسلمان ابتداء ہی سے شدت کے ساتھ فلسطینی کاز کی حمایت اور صہیونی ریاست کے مد مقابل کھڑے ہوگئے۔ سنہ ۱۹۱۹-۱۹۲۴ع‍، برعظیم ہند، ایک زبردست اسلامی تحریک ـ بعنوان “تحریک خلافت” ـ کا شاہد تھا جو برطانیہ کی یلغار کے مقابلے میں خلافت عثمانیہ کے تحفظ کے لئے شروع ہوئی تھی اور اسی اثناء میں انگریزوں اور یہودی ایجنسی کے ہاتھوں بیت المقدس پر قبضے کی صلیبی ـ صہیونی سازش کے خلاف شدید اور مصالحت ناپذیر جدوجہد کررہی تھی۔ ([۱])

معاصر ہندو محقق اور شمالی مشرقی شیلانگ کی ہل یونیورسٹی ([۲]) کے اسسٹنٹ پروفیسر سندیپ چاولہ، اپنے مقالے “فلسطین ۱۹۲۰ع‍ کی دہائی کے دوران ہندوستانی پالیسی کی روشنی میں” لکھتے ہیں کہ ترکی میں آتا تورک (مصطفی کمال پاشا) کے ہاتھوں خلافت عثمانیہ کے زوال کے اعلان کے بعد، اصولی طور پر ہندوستان میں موجود تحریک خلافت کا بنیادی موضوع (جو در حقیقت “خلافت عثمانیہ کی بقاء” کا تحفظ تھا) مسئلۂ فلسطین اور صہیونی سازش کی مذمت میں بدل گیا۔ انھوں نے ۱۹۲۰ع‍ سے ۱۹۳۱ع‍ تک صہیونیوں کے خلاف مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی جدوجہد کی رپورٹ دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس جدوجہد کی دور رس لہریں کس طرح حتی کہ (گاندھی سمیت) انڈین نشینل کانگریس کے قائدین اور (چلمس فورڈ [Chalmers Ford] سمیت) اس قلمرو میں موجود اہم برطانوی اہلکاروں کو اپنے پیچھے کھینچتی رہی تھیں۔ ([۳])

خلافت کی اسلامی تحریک کی لہروں کی وسعت ہندوستان کی سرحدوں کو پار کررہی تھی چنانچہ اس تحریک کے زعماء (منجملہ: مولانا شوکت علی، عبد الرحمن صدیق اور چوہدری خلیق الزمان) عالم اسلام کی عمومی کانفرنس (المؤتمر الاسلامی العام) میں بھی فعالانہ شریک تھے۔ المؤتمر الاسلامی العام اپنی نوعیت میں دنیائے اسلام کی پہلی کانفرنس تھی جو “ثورۃ معروف براق” کے بعد اسلامی اہداف اور صہیونیت مخالف مقاصد کے لئے ماہ رجب المرجب سنہ ۱۳۵۰ھ / دسمبر ۱۹۳۱ع‍ میں فلسطین کے مجاہد اور مشہور مفتی الحاج امین الحسینی کی سربراہی میں بیت المقدس میں تشکیل پائی۔ حتی کہ تحریک خلافت کے مشہور راہنما مولانا محمد علی جوہر کا مدفن بھی شہر قدس میں واقع مسجد الاقصی کے حرم شریف کے مغربی برآمدے میں قرار پایا، تاکہ اس حقیقت کی علامت ہو کہ عالم اسلام کے ساتھ قدس شریف اور مسجد الاقصی کا رشتہ نہایت مضبوط اور جدائی ناپذیر ہے؛ نیز مُہرِ بُطلان ہو اس سرزمین پر صہیونیوں کی للچائی نظروں پر۔

بیت المقدس میں عمومی اسلامی کانفرنس کی تشکیل کی سوچ نے ـ مولانا محمد علی کی وفات کے بعد، ان کے بھائی مولانا شوکت علی کے ساتھ مفتی الحاج امین الحسینی کے رابطے اور بات چیت کے نتیجے میں، ـ جنم لیا، اور ان ہی رابطوں کے بعد مذکورہ کانگریس دسمبر سنہ ۱۹۳۱ع‍ کو منعقد ہوئی جس میں ہندوستان کے مشہور مسلم راہنماؤں کے ساتھ ساتھ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے مختلف اسلامی ممالک کے راہنماؤں نے شرکت کی۔ ([۴])

مذکورہ کانفرنس قدس شریف پر صہیونیت کی حکمرانی کے خلاف جدوجہد میں ایک بڑا قدم تھی جس نے مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتفاق رائے اور اس مسئلے کی طرف بہت سے غیر مسلموں کی توجہ کے اسباب فراہم کئے۔

جارج اتونیوس نے کہا تھا: “بجا ہے کہ اس کانفرنس کو اسلامی تحریکوں کے نئے دور کا آغاز سمجھا جائے۔۔۔ اور میں بلا شک اس کانفرنس کو حالیہ برسوں میں مسلمانوں کی نہایت تعمیری کوشش سمجھتا ہوں”۔ ([۵])

فلسطین میں برطانوی ہائی کمشنر نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر بیت المقدس میں اس قسم کے اجتماعات کو دہرایا جائے “تو اس صورت میں یہ سرزمین یہودیوں کی نہ رہے گی”؛ چنانچہ یہ کانفرنس، جو منصوبے کے مطابق ہر دو سال ایک بار بیت المقدس میں منعقد ہونا تھی، اور حتی کہ اس کے لئے ایک سیکریٹریٹ یا قائمہ کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تھا، اس کے بعد کبھی بھی دہرائی نہ جاسکی؛ اور متعلقہ ادارہ جات و دفاتر بھی سنہ ۱۹۳۷ع‍ میں الحاج امین الحسینی کی جلاوطنی کے بعد ہمیشہ کے لئے ختم ہوئے۔ ([۶])

ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں میں صہیونیت مخالف جذبات اس زمانے سے آج تک، کم و بیش، باقی ہیں اور کبھی کبھی حساس مواقع پر آتشفشان کی طرح فوران پھٹ پڑتے ہیں۔ چنانچہ اگست ۱۹۷۷ع‍ میں جب (چھ روزہ عرب ـ اسرائیل سے شہرت پانے والے صہیونی وزیر دفاع) موشے دایان نے اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی سے درخواست کی کہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات قائم کریں، تو ڈیسائی نے ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان ان ہی صہیونیت مخالف جذبات و احساسات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہندوستان میں رہنے والے آٹھ کروڑ مسلمان ہمارے اور آپ کے خوابوں کے شرمندہ تعبیر ہونے میں رکاوٹ ہیں۔ ([۷])

سنہ ۱۹۴۷ع‍ میں پاکستان کی تاسیس عمل میں آئی تو یہ نو زائیدہ اسلامی ریاست برصغیر میں صہیونیت کے خلاف مسلمانوں کے جذبات و احساسات کے اظہار کا مرکز بن گئی۔ نومبر ۱۹۴۷ع‍ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی مندوب نے عرب اور ہندوستانی مندوبین کے ساتھ مل کر فلسطین کی تقسیم اور اس کے ایک حصے میں اسرائیلی ریاست کی تاسیس کے بل کی مخالفت کی؛ اور مذکورہ بل کے ظالمانہ ہونے کے سلسلے دوسرے ممالک کے مندوبین کو قائل کرنے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ (اگرچہ اسرائیل کے مخالفین کی یہ کوشش، صہیونیت کے حق میں اقوام متحدہ پر شدید امریکی دباؤ کی وجہ سے مطلوبہ نتائج تک نہ پہنچ سکی، اور قدس شریف تقسیم ہوا تا کہ اس کے دیگر اجزاء کو بھی صہیون کا اژدہا نگل سکے)۔ ([۸]) بعدازاں جمادی الاول سنہ ۱۳۷۱ھ / ۱۹۵۲ع‍ میں پہلی اسلامی کانفرنس الحاج امین الحسینی کی سربراہی میں، پاکستان کے اس وقت کے دارالحکومت کراچی میں منعقد ہوئی اور ۳۶ اسلامی ممالک سے شخصیات اور جدوجہد کرنے والی سرگرم تنظیموں نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور عالم اسلام کے مسائل ـ بالخصوص صہیونیت کے چنگل میں قدس شریف کی اسیری ـ کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا۔ ([۹]) اس کانفرنس میں شرکت کرنے والی شخصیات میں عراق کے نامور شیعہ مصلح آیت اللہ شیخ محمد حسین کاشف الغطاء بھی شامل تھے جن کا طویل خطبہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا اور خطبے کا متن بھی مستقل طور پرچھپ کر شائع ہوا۔ ([۱۰]) علامہ کاشف الغطاء وہی شخصیت ہیں جنہوں نے ـ اس کانفرنس سے ۲۰ سال قبل ـ سنہ ۱۹۳۱ع‍ میں بیت المقدس میں منعقدہ عمومی اسلامی کانفرنس کے دوران مسجد الاقصی میں نماز جماعت کی امامت سنبھالی اور نماز کے بعد اسلامی ممالک کے ۱۵۰ سے زائد نمائندوں اور بیس ہزار سے زائد نمازگزاروں کو اپنا آتشیں خطبہ دیا، اور سامعین کے دلوں میں عظیم جذبہ پیدا کیا۔ ([۱۱])

کراچی کانفرنس نے استعمار اور صہیونیت کے خلاف امت اسلامی کی ناقابل سمجھوتہ جدوجہد   کا ثبوت دیا اور اس حقیقت کو عیاں کیا کہ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے نقطۂ ارتکاز و اجتماع کے طور پر، اسرائیل کے وجود اور دنیا اور علاقے میں صہیونیوں کی خواہشوں، منصوبوں اور مفادات کے مد مقابل نہ صرف ایک رکاوٹ بلکہ ان کے لئے ایک عظیم خطرہ ہے۔ عراق میں اخوان المسلمین کے قائد اور اس ملک کی جمعیت برائے آزادی فلسطین کے راہنما محمد محمود صواف ـ جو خود اس کانفرنس میں شریک تھے ـ نے پاکستان کے شمال مغرب اور افغانستان کے مشرق میں پٹھان مسلم قبائل کے نمایاں اور متاثر کن جذبات کی نہایت عمدگی سے تصویر کشی کی ہے۔ ([۱۲])

پاکستانی مسلمانوں نے قدس کاز اور فلسطین کاز کی حمایت اور قدس کی غاصب ریاست کا مقابلہ کرنے پر مسلسل تاکید کی ہے۔ پاکستان ان اسلامی ممالک میں سے ہے جنہوں نے قدس کی غاصب ریاست کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے غاصب ریاست کے ساتھ کسی قسم کا کوئی سفارتی رابطہ نہیں ہے۔

امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) نے جمعۃ الوداع کو عالمی یوم القدس اور فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا دن قرار دیا تو اس اعلان نے پاکستانی مسلمانوں کے صہیونیت مخالف جذبات کو تقویت پہنچائی اور ان جذبات کو سمت دی، تاکہ وہ بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح اس عظیم اسلامی تقریب میں فعالانہ شرکت کریں اور کردار ادا کریں۔

حواشی

[۱]۔ اس تحریک کے سلسلے میں مزید مطالعہ کرنے کے لئے رجوع کریں علی ابوالحسنی کی کتاب “مہاتما گاندھی، اسلام کے ساتھ ہم دلی اور مسلمانوں کے ساتھ ہمراہی” کے چھٹے حصے کی طرف۔ یہ حصہ تحریک خلافت میں گاندھی کے موقف اور ہندوستان کی برطانوی حکومت سے عدم تعاون، کے سلسلے میں ہے۔ (۱۹۱۹ ـ ۱۹۲۲)

[۲]۔ North Eastern Hill University, Shillong, Meghalaya, India۔

[۳]۔ رجوع کریں: مشیر الحسن، ہندوستانی نوآبادی میں اسلامی تحریک اور قومی رجحانات (مجموعۂ مضامین) ص ۳۷ تا ۵۲۔

[۴]۔ اسعدی، بیت المقدس، ص۹۸ تا ۱۰۰۔

[۵]۔ Antonius, Annual Report to the Institute of Current World Affairs for Year ending September 30, 1932, in Antonius-Oxford; alse copy in Israel State Archives (Jerusalem), Division 65 (Antonius Papers), file 707; cited in Kramer, Islam Assembled۔

[۶]۔ وہی ماخذ، ص۱۰۱۔

[۷]۔ المجتمع، العلاقات الهندیة ـ الاسرائیلیه ومخاطرها علی دول العالم الإسلامي، ص۲۱۔

[۸]۔ زعیتر، فلسطین کی سرگذشت یا استعمار کے کالے کرتوت، ص۳۲۹ ـ ۳۳۴؛ رجاء (روجے) گارودی، اسرائیل اور سیاسی صہیونیت کا مقدمہ، ص۵۱ ـ ۵۰؛ گریش اور ویڈال، فلسطین ۱۹۷۴، ص ۳۳ ـ ۳۲۔

[۹]۔ ر۔ک: نطق تاریخی حضرت آیت‌الله کاشف الغطاء در کنفرانس اسلامی پاکستان، ص۲۔

[۱۰]۔ رجوع کریں: ‌آقا بزرگ طہرانی، نقباء البشر، ج۲، ص۶۱۷۔ علامہ کاشف الغطاء نے اس کے دو سال بعد بھی ۲۰ جمادی سنہ ۱۳۷۳ھ کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کو خط لکھ کر، امریکہ کے ساتھ پاکستان کے فوجی معاہدے پر کڑی نکتہ چینی کی اور لکھا: اس میں شک نہيں ہے کہ امریکی حکومت خدا اور رسول خدا(ص) کی دشمن ہے، کیونکہ اس نے عدل و انصاف کے راستے سے تجاوز کیا اور مسلمین کے خلاف بالعموم اور عربوں کے خلاف بالخصوص ظلم و ستم کا رویہ اپنایا۔ فلسطین کو زبردستی ان سے چھین لیا اور یہودیوں کو بخش دیا اور کو اسلحہ اور مالی امداد دے کر تقویت پہنچائی۔ (رجوع کریں: کاشف‌الغطاء، نمونہ ہائے اخلاقی در اسلام، ص۸۸ ـ ۸۹۔)

[۱۱]۔ ‌آقا بزرگ طہرانی، نقباء البشر، ج۲، ص۶۱۷۔

[۱۲]۔ صواف، نقشہ ہائے استعمار در راہ مبارزہ با اسلام، ص۳۰۳ ـ ۳۰۱۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری/۱۰۱