پاکستان میں صہیونیت مخالف جذبات کے خلاف اہم استعماری کوششیں




برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان صہیونیت مخالف جذبات اور جدوجہد کا پس منظر ـ جس کو گاندھی جیسی شخصیات کی معیت اور ہم دلی و ہمدردی بھی حاصل تھی ـ اور نو زائیدہ اسلامی ریاست “پاکستان” میں ان جذبات اور جدوجہد کا تسلسل ہی نہیں بلکہ ان میں آنے والی شدت نے ـ جس کا اظہار مذکورہ بالا کانفرنسوں کی صورت میں ہو رہا تھا ـ نے عالمی صہیونیت اور تل ابیب کے حکام کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔



بقلم ڈاکٹر محسن محمدی
ترجمہ فرحت حسین مھدوی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: حصۂ اول میں بیان ہوا کہ فلسطین اور قبلۂ اول پر قبضے پر سب سے پہلا رد عمل ہندوستانی مسلمانوں نے دکھایا اور انھوں نے ۱۹۲۰ع‍ کی دہائی میں شروع کی جانے والی تحریک خلافت ـ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ـ فلسطینی کاز کے لئے وقف کیا۔ سب سے پہلی عمومی اسلامی کانفرنس مولانا محمد علی جوہر ـ جن کا مدفن مسجد الاقصی میں واقع ہوا ہے ـ سمیت برصغیر کے مسلم راہنماؤں کے زیر اہتمام اور فلسطین کے مجاہد مفتی الحاج امین الحسینی کے تعاون سے بیت المقدس میں منعقد ہوا جہاں کانفرنس کے شرکاء کی نماز جماعت کی امامت عراق کے عظیم مصلح علامہ محمد حسین کاشف الغطاء نے کی اور نماز کے بعد مسلم مندوبین اور فلسطینی نمازیوں کو اپنا تاریخی خطبہ دیا۔ پاکستان اپنی تاسیس کے فورا بعد یہودی ریاست کی مخالفت اور فلسطینی کاز کی حمایت کے اظہار کا عالمی مرکز بنا اور یہاں کے مسلم راہنماؤں نے فلسطینی کاز کی زبردست وکالت کی اور اسلامی کانفرنس الحاج امین الحسینی کی سربراہی میں اس نو زائیدہ مسلم ملک کے دارالحکومت کراچی میں منعقد ہوئی جس سے ایک بار پھر علامہ کاشف الغطاء نے خطبہ دیا۔ پاکستان نے اپنی تاسیس کے پہلے سال سے اقوام متحدہ میں بھی فلسطینیوں کی حمایت کی اور پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے یہودی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

حصۂ دوئم:

فطری امر ہے کہ عالمی سامراج اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کوشش اور استعمار مخالف رجحانات اور جذبات کا مقابلہ کرے گا۔ اسی بنا پر برصغیر کے صہیونیت مخالف جذبات سے نمٹنا استعمار کے ایجنڈے میں شامل ہوا۔ یہ موضوع اس وقت مزید توجہات کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ غاصب یہودی ریاست (اسرائیل)، سنہ ۱۹۴۷ع‍ میں قیام پاکستان کے ایک سال بعد سنہ ۱۹۴۸ع‍ میں معرض وجود میں لائی گئی۔

برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان صہیونیت مخالف جذبات اور جدوجہد کا پس منظر ـ جس کو گاندھی جیسی شخصیات کی معیت اور ہم دلی و ہمدردی بھی حاصل تھی ـ اور نو زائیدہ اسلامی ریاست “پاکستان” میں ان جذبات اور جدوجہد کا تسلسل ہی نہیں بلکہ ان میں آنے والی شدت نے ـ جس کا اظہار مذکورہ بالا کانفرنسوں کی صورت میں ہو رہا تھا ـ نے عالمی صہیونیت اور تل ابیب کے حکام کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی چنانچہ یہودی ریاست کے سرغنے برصغیر میں اپنی آرزوئیں سر کرنے اور ہندوستان و پاکستان میں اسلام کی قوت کی محویت اور نابودی (!) کی غرض سے پوری سنجیدگی کے ساتھ میدان میں اترے اور وسیع شیطانی منصوبہ بندیوں اور سرمایہ کاریوں کا اہتمام کیا۔

پاکستان میں صہیونیت مخالفت جذبات کو زائل کرنے کے لئے انجام پانے والی اہم ترین کوششیں، کچھ یوں ہیں:

۱۔ پاک و ہند کے درمیان اختلاف کا بیج بونا

پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہند ـ اسرائیل تعاون کے بارے میں یہودی ربی مائر کاہانا کے بیان، اور پاکستان کے ایٹمی تنصیبات سے کم فاصلے پر واقع کشمیر میں یہودی ریاست کی خفیہ ایجنسیوں کی وسیع سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، ہم الجزائری انقلابی شخصیت اور مفکر و قلمکار مالک بن نبی کے قول کی طرف بھی اشارہ کرسکتے ہیں۔

مالک بن نبی صہونییت کے ایک راہنما کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس شخص نے سنہ ۱۳۷۸ھ/۱۹۵۸ع‍ میں کہا تھا کہ “واجب ہے کہ ہند اور اسرائیل کے درمیان مستحکم روابط قائم ہوجائیں تا کہ ہم مل کر اسلام کے جلال و شوکت کو نیست و نابود کرسکیں”۔ بن نبی بعدازاں لکھتے ہیں: “[یہودی راہنما کی] اس بات کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکے اٹھے”۔ ([۱])

مذکورہ بالا مختصر جملے کی تفصیل کو جون سنہ ۱۹۶۷ع‍ کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد، یہودی ریاست کے بدنام زمانہ وزیر اعظم “بن گورین” کے الفاظ میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ جس نے پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں خطاب کیا۔ اس خطاب لندن کے جیوش کرانیکل نے مورخہ ۹ اگست ۱۹۶۷ع‍ کو شائع کیا۔ بن گورین اپنے خطاب کے ایک حصے میں کہتا ہے: “عالمی صہیونی تحریک اپنا فریضہ سمجھتی ہے کہ اس خطرے سے ہرگز غفلت نہ برتے جو پاکستانی ریاست کے وجود میں اسرائیل کے لئے مضمر ہے۔ اسی بنا پر یہ تحریک پاکستان کو اپنے حملے کا پہلا نشانہ سمجھتی ہے؛ کیونکہ یہ اسلامی ریاست ہمارے وجود اور ہماری بنیاد کو خطرے میں ڈالتی ہے اور پاکستانی عوام یہودیوں کے دشمن اور عربوں کے دوست ہیں اور عربوں کے ساتھ دوستی کا خطرہ ہمارے لئے خود عربوں کے خطرے سے زیادہ شدید ہے؛ کس؛ رو سے آج صہیونی دنیا کا اہم ترین بنیادی فریضہ، پاکستانی ریاست کے خلاف اقدامات کا آغاز کرنا ہے”۔ وہ مزید کہتا ہے: “چونکہ برصغیر کے عوام ہندو مسلک کے پیروکار ہیں اور ان کے دل ماضی کے تاریخی واقعات کی بنا پر مسلمانوں کی نفرت و عداوت سے مالامال ہیں؛ ہمارے خیال میں ہندوستان بہترین اڈہ ہے جہاں سے ہم پاکستان کے خلاف کاروائیوں کا انتظام و انصرام کرسکتے ہیں؛ لہذا ضروری ہے کہ اس اڈے کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اور اس کے ذریعے خفیہ اور پوشیدہ انداز سے پاکستانیوں پر ـ جو کہ یہود اور صہیونیت کے دشمن ہیں ـ اپنی ہلاکت خیز ضربیں بنائیں”۔

یہودی دانشور ہرتز کے خیالات بھی بن گورین کے اس موقف کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہرتز کہتا ہے: “پاکستانی فوج پیغمبر اسلام سے شدید محبت کرتی ہے، اور یہ موضوع عربوں اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی تقویت کا سبب ہے لہذا یہ فوج صہیونی دنیا کے لئے عظیم خطرات کا موجب بن سکتی ہے۔ چنانچہ یہ امر یہودیوں کی حیاتی ضرورت ہے کہ وہ پیغمبر اسلام سے اس قلبی محبت کو مختلف وسائل اور ذرائع سے نیست و نابود کریں”۔ ([۲])

۲۔ صہیونیت مخالف راہنماؤں کو راستے سے ہٹانا
بیسویں صدی عیسوی کے نصف اول میں تحریک آزادی ہند کے دوران، برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے فلسطینی ملت کے حقوق کی سنجیدہ حمایت اور گاندھی کی طرف سے ان کے ساتھ مکمل ہمدردی، ہندوستان میں صہیونی مقاصد کی پیشرفت کی راہ میں عظیم رکاوٹ تھی۔ ہندوستان کی خودمختاری کے بعد جواہر لعل نہرو نے بھی صہیونیوں کی [کچھ زیادہ] حوصلہ افزائی نہیں کی، گوکہ نہرو گاندھی کی طرح دوٹوک موقف کا اظہار نہیں کرتے تھے اور انھوں نے اپنی حکومت کے آغاز میں صہیونیوں کے ساتھ کچھ نرمیاں بھی برت لیں اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرکے بمبئی میں یہودی ریاست کا قونصلیٹ کھولنے کے لئے راستہ ہموار کیا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ مصر کے مرحوم راہنما جمال عبدالناصر کے قریبی دوست تھے، اور سنہ ۱۹۵۶ع‍ میں مصر پر برطانیہ، فرانس اور یہودی ریاست کی مشترکہ جارحیت ([۳]) کی مذمت کرتے رہے تھے، اور پھر انھوں نے غیر وابستہ تحریک کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا تھا اور یہ وہ کارنامے ہیں جو تاریخ نے نہرو کے ریکارڈ میں ثبت کئے ہیں۔ ان کی بیٹی اندرا گاندھی بھی اپنی حکومت کے دوران ہندوستانی سیاست کی اتہاہ میں واشنگٹن اور تل ابیب کے اثر و رسوخ کی راہ میں رکاوٹ رہیں اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں حتی یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے تک آگے بڑھیں”۔ ([۴])

ہندوستان کے پرتیراژ کثیر الاشاعت اخبار راشٹریہ سہارا نے راجیو گاندھی کے دہشت گردی کا نشانہ بننے کے بعد بھوبندرا کمار کے قلم سے ایک مضمون شائع کیا جو ہندوستانی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے باہمی تعاون کے سلسلے میں عبرت انگیز نکات اور دنیا بھر میں اپنے دوستوں کے ساتھ یہودی ریاست کی مکاریوں اور خیانتوں پر مشتمل تھا۔

شاید راجیو گاندھی کے اسرائیل مخالف جذبات ہی سبب بنے ہیں کہ یہودی ریاست نے انہیں راستے سے ہٹا دیا ہے۔ بھوبھندرا کمار لکھتے ہیں: “کون ہے جو راجیو گاندھی کے قتل میں اسرائیل کے کردار سے واقف ہو حالانکہ عارف محمد خان کا کہنا ہے کہ چندرا سومی نے وعدہ دیا تھا کہ وہ راجیو گاندھی کے قتل کے عوض قاتل کو ۱۰ لاکھ ڈالر ادا کرے گا”۔ ([۵])

۳۔ خودمختاری کا ہدف سامنے اور فلسطین کاز سے غفلت

مسلمین کئی صدیوں سے ہندوستان کے سیاسی اور ثقافتی حکمران تھے۔ اسلامی تہذیب (سلطنت مغلیہ) کے عظیم آثار بر صغیر کا نہایت بیش قیمت ورثہ سمجھے جاتے ہیں۔ ہندوستان پر برطانوی تسلط ہندوستان کے سیاسی اور ثقافتی نظام میں مسلمانوں کو کمزور اور حذف کرنے کے مترادف تھا۔ انگریزی استعمار نے ـ جس کو مسلمانوں کے ہاتھوں عظیم نقصانات سے دوچار ہونا پڑا تھا ـ مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان اختلاف ڈال کر ان سے بدلہ لیا۔ فطری امر ہے کہ ہندؤوں کے ہاں بھی اس اختلاف اور انتقام کی آگ بھڑکانے کے لئے کافی محرکات موجود تھے۔

ہندوستانی مسلمانوں نے ہندؤوں کے ساتھ مل کر اپنے ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کی۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کے دوران ایک اہم نکتہ سامنے آيا وہ یہ کہ ہندوستانی مسلمان ـ جو ہندوستان کی تقریبا ۳۰ فیصد آبادی کو تشکیل دیتے تھے ـ اپنے لئے ایک الگ مستقل ملک قائم کریں۔

اس سلسلے میں مسلمانوں کے درمیان گوناگوں اور متفاوت نظریات پائے جاتے تھے کہ کیا مسلمین کی الگ مملکت ان کے فائدے میں ہے یا نہیں؛ کچھ نے اتفاق کیا کچھ نے مخالفت۔ جو کچھ بعد میں بر صغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں وقوع پذیر ہوا اور بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہوا، اس نے احتمال کو تقویت پہنچائی کہ ایک نئی اسلامی مملکت کا قیام اور پاکستان کی تاسیس کا نظریہ ایک استعماری نظریہ تھا جس نے مسلمانوں کی عظیم آبادی کو تقسیم در تقسیم اور ان کی طاقت کو کم کردیا۔

بہرحال ایک خودمختار اسلامی ملک کا قیام بجائے خود ایک دلچسپ واقعہ تھا اور اس کی جاذبیت اور اسلامی مملکت کے قیام کا شوق کافر استعماری طاقت کے منفی کردار اور اس کے خلاف جدوجہد سے مسلمانوں کی غفلت پر منتج ہوا۔ ایک اسلامی مملکت کے قیام کا خواب ـ جس میں علمائے اسلام کی حکمرانی ہو ـ اس قدر جاذب نظر تھا کہ علمائے دیوبند کی ایک جماعت نے ہندوستان، افغانستان، انڈونیشیا میں نیز سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں برطانوی استعمار کے اسلام دشمن اور مسلسل سازشی اور معاندانہ کردار، ـ اور سب سے اہم ان ہی دنوں فلسطین میں صہیونیوں اور یہودی ریاست کے قیام کی انگریزوں کی طرف سے حمایت ـ سے تغافل برتا اور برطانوی کردار کے لئے جواز پیش کرنا شروع کیا۔

ان حالات نے مسلمانوں کو ایسے مسائل سے دوچار کیا جنہوں نے انہیں عالم اسلام کے بڑے مسائل، بالخصوص مسئلۂ فلسطین سے غافل کردیا۔ البتہ اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بوڑھے اور مکار انگریزی استعمار نے پاکستان کی آزادی کا موضوع اس لئے آگے بڑھایا تھا کہ مسلمانوں کو مسئلۂ فلسطین سے غافل کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی آزادی کے نظریئے کے کچھ ایسے نامطلوب اور ناقابل تلافی عوارض منفی اثرات اور نتائج تھے جن میں سے ایک یہ تھا کہ مسلمان صہیونی ریاست کے خلاف جدوجہد اور فلسطینی کاز کی حمایت سے غافل ہوئے۔

۴۔ تکفیری جماعتوں کی حمایت

پاکستان کی آزادی کے بعد پیش آنے والے مسائل میں سے اہم ترین سوویت اتحاد کے ہاتھوں افغانستان پر قبضے کا مسئلہ تھا۔ ان حالات میں متعدد سیاسی، جغرافیائی ـ سیاسی، ([۶]) اقتصادی اور عسکری وجوہات کی بنا پر اس مسئلے میں کود پڑا اور ایک بین الاقوامی دھارے میں قرار پایا۔

افغانستان کی جنگ میں پاکستان، سوویت اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لئے مغرب اور سعودیوں کے اتحاد کے اڈے میں تبدیل ہوا۔ اس واقعے نے پاکستان میں وسیع دینی-ثقافتی اور سیاسی-عسکری تبدیلیوں کو جنم دیا۔ پاکستان کو افغانستان میں مغرب کی پالیسیوں اور منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے کچھ مہارتیں اور آمادگیاں حاصل کرنے کی ضرورت تھی جس کے نتیجے میں پاکستان میں اسلامی قوتیں انتہاپسندی کی طرف مائل ہوئیں۔

سی آئی کا استدلال یہ تھا کہ اس طریقے سے سوویت اتحاد کو افغانستان چھوڑنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور فلسطین پر قبضے اور یہودی ریاست کے اقدامات سے مسلمانوں ـ بالخصوص عربوں ـ کی توجہ ہٹائی جاسکتی ہے۔ اس بنیاد پر سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تعلقات مستحکم ہوئے اور سوویت اتحاد اور افغانستان پر اس کے قبضے کے خلاف لڑنے والے جنگجؤوں کی تربیت اور منظم کرنے کے لئے فوجی امداد کی پاکستان کو ترسیل، وائٹ ہاؤس کے ایجنڈے میں شامل ہوئی۔ اسی تسلسل میں سعودی عرب اور امارات سے حاصل ہونے والی دولت کی تجوریاں پاکستان کی طرف کھل گئیں اور اہل سنت کے جہادیوں کی تربیت کے لئے ہزاروں دینی مدارس اور دینی مراکز پاکستان میں قائم ہوئے۔ واضح رہے کہ ان مدارس کے شاگرد افغان شہریوں تک محدود نہیں تھے بلکہ پاکستانی باشندے میں ان مدارس میں تعلیم و تربیت میں مصروف ہوئے۔ ان مدارس میں سے زیادہ تر پشتون نشین قبائلی علاقوں اور اس وقت کے صوبہ سرحد کی حدود میں قائم ہوئے۔ اور طالبان کی ابتدائی تعلیمات کا آغاز بھی ان ہی مدارس سے ہوا۔ ([۷])

ایک طرف سے یہ صورت حال اور دوسری طرف سے ضیاء الحق کے بظاہر اسلام پسندانہ اقدامات ـ جو وہ اپنی فوجی آمریت کو مشروعیت ([۸]) دینے کے لئے عمل میں لا رہے تھے ـ مذہبی مدارس کے توسط سے برصغیر کی جہادی دیوبندیت اور سعودی سلفیت کے درمیان رشتہ اور تعلق قائم ہوا۔ افغان جنگ نے نوجوان عرب، پاکستانی اور ہندی مجاہدین، وسطی اور مشرقی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان تعارف اور آشنائی کا عظیم موقع فراہم کیا۔ یہ جنگجو ـ جو مختلف ممالک سے آئے تھے ـ جنگ کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ ہم نشین ہوئے۔ اس ہم نشینی اور آشنائی نے ان کے درمیان جنگ کے بعد مربوط سلسلاتی تعلق ([۹]) قائم کیا۔ افغان جنگ نے جہادی تحریک کو عالمی نظریات اور اہداف سے لیس کیا۔ بالفاظ دیگر سرحد پار [عالمگیر] جہادیت کا بیج افغانستان کی زرخیز زمین میں بارآور ہوا۔ ([۱۰])

علاوہ ازیں، افغانوں کے لئے عسکری اور اعتقادی تربیت کے کیمپوں اور مدارس کا قیام نہ صرف افغانوں بلکہ پاکستان میں بھی سنی اسلام کی سختگیر تشریحات ـ جیسے وہابیت اور سلفیت ـ کے فروغ اور افزایش اور دیوبندی تعلیمات کے تسلط  کا باعث ہوا جس نے اور شیعہ-سنی کشمکش میں کردار ادا کیا، کیونکہ اس طرح کی تشریح میں اہل تشیّع کو حتّیٰ کہ کفار سے بدتر سمجھا جاتا تھا۔ یہ مدارس  سوویت اتحاد کے خاتمے کے بعد سنی عسکریت پسندی اور فرقہ پرست تنظیموں کے لئے بھرتی کے مراکز میں بدل گئے۔ ([۱۱])

چنانچہ مسلمانوں کا علمی، ذہنی اور جہادی سرمایہ علاقائی یا اندرونی جھگڑوں پر خرچ ہوا اور امت اسلامیہ کا ہدف ـ یعنی فلسطین کی آزادی ـ بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے دوسرے درجے کی اہمیت والے مسئلے میں تبدیل ہوا، یا پھر اس مسئلے کو ان کے دستور العمل سے ہی خارج ہو گیا۔ ان حالات میں مسلمانوں کی قوت اور توانائی علاقائی تنازعات اور ہند و پاکستان میں سیکولر حکمرانوں کے باہمی تضادات پر صرف ہوئی۔ انھوں نے اپنی آفاقی ذہنیت کو کھو دیا اور قومی / قبائلی / فرقہ وارانہ رجحانات کو دوستی اور دشمنی اور لشکرکشیوں کا معیار قرار دیا۔ ان حالات نے طالبان کو جنم دیا، القاعدہ کو تقویت پہنچا کر جولانیوں کا موقع دیا اور داعش کے ظہور و خروج کے اسباب فراہم کئے۔

حواشی

[۱]۔ مالک بن نبی، وجہۃ العالم الاسلامی، ص۱۰۶۔

[۲]۔ محمد حامد، الحلف الدنس، ص۱۹۸۔

[۳]۔ ر۔ک: ہیکل، عبد الناصر والعالم، ص ۳۹۹ ـ ۳۸۴۔

[۴]۔ لگتا ہے کہ نہرو اور اندرا گاندھی کا یہی پس منظر ہی اس خاندان سے سی آئی اے اور موساد کے انتقام کا سبب بنا ہے جس کے نتیجے میں راجیو گاندھی تامل انتہاپسندوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ علاوہ ازیں خود اندرا گاندھی کا قتل بھی ـ انتہاپسند سکھوں کے درمیان امریکی اثر و رسوخ اور تحریک و ترغیب کی بنا پر ـ اس تناظر میں قابل غور و تامل ہے۔

[۵]۔ بحوالہ: پندرہ روزہ  الرائد،  لکھنؤ، سال ۳۷، ش ۲۴ ـ ۲۳، محرم ۱۴۱۷ھ/ جون ۱۹۹۶ع‍، آخری صفحہ۔

[۶]۔ Geopolitical

[۷]۔ “نقش احزاب در حيات سياسى پاكستان” (پاکستان سیاسی حیات میں سیاسی جماعتوں کا کردار)، مصطفی ایزددوست، ص ۵۴۵؛ مجلہ سياست خارجى‌، سال‌ شانزدہم‌، ۱۳۸۱ھ ش۔

[۸]۔ Legitimacy

[۹]۔ Reticulated relation / netowrk

[۱۰] ۔ افغانستان، از جہاد تا جنگ‌ہاى داخلى، (افغانستان، جہاد سے خانہ جنگیوں تک) اليوہ رويا، [فارسی) ترجمہ: على عالمى‌ كرمانى‌، ص ۱۱۴، تـہران، انـتشارات دفـتر مطالعات سياسى و بين المللى، ۱۳۷۹ھ ش۔

[۱۱] ۔ “افرا­ط­گرایی فرقہ­ای در پاکستان”، (پاکستان میں فرقہ وارانہ انتہاپسندی)، شہراد شہوند، ص ۹۶، دانش سیاسی، شمارہ ۱۶، پائیز و زمستان [خزان و سرما) ۱۳۹۱ھ ش۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری/۱۰۱