یہودیت اور نسل پرستی




ایسا کیوں ہوا کہ مذہب کی بنیاد پر جمع ہونے والوں میں رنگ کی بنیاد پر اتنی تفریق پیدا ہوگئی؟ جلاو گھراو شروع کر دیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، سینکڑوں پولیس والے زخمی ہوگئے اور کئی ایمبولینسز کو بھی آگ لگا دی گئی۔ اسرائیل میں گورے کالے کی یہ تقسیم امریکہ سے منتقل ہوئی، کیونکہ جو لوگ بہت زیادہ امیر ہیں اور جن کے پاس حکومت ہے، وہ یورپ یا امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں، امریکہ میں نسل پرستی کی ایک تاریخ ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ادیان ابراہیمیؑ میں یہودیت وہ واحد دین ہے، جس کی بنیاد نسل پرستی پر ہے۔ یہودی خود کو میراث موسوی کا امین سمجھتے ہیں، یہاں تک مسئلہ نہیں تھا، مگر یہ حق وہ کسی اور کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر کسی اور نسل سے تعلق رکھنے والا کوئی انسان یہودیت قبول کر لے تو وہ درجہ اول کا یہودی نہیں بن سکتا۔ ان میں ماں یہودی باپ غیر یہودی یا عکس میں بھی رتبہ کے اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے۔ یہودیت ان ادیان میں سے ہے، جن کے ماننے والے تبلیغ نہیں کرتے یا اس پر بہت زیادہ زور نہیں دیتے۔ یوں ایک طرح سے نسلی تفاخر ان میں موجود ہے، جس کے وجہ سے یہ غیر بنی اسرائیلیوں کو دوسرے درجے کے انسان سمجھتے ہیں۔ اچھی طرح یاد نہیں مگر صیہونیت کا مذہبی بیانیہ ان کے اس مذہبی ڈیکلریشن سے بھی واضح ہوتا ہے، جس میں انہوں نے فلسطینی بچوں کو اس لیے مارنا اور قتل کرنا جائز بتایا تھا کہ یہ بڑے ہو کر اسرائیلیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مدمقابل اسلام اور مسیحت میں ایسا نہیں ہے، جو بھی اسلام یا مسیحت قبول کر لے، وہ برابر کا مسلمان یا مسیحی ہوتا ہے۔

پچھلے چند روز سے اسرائیل میں شدید مظاہرے ہو رہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ نسل پرستی کا معاملہ اس قابض ریاست میں گھمبیر صورتحال اختیار کرچکا ہے۔ ایک پولیس آفیسر نے سلیمان ٹکہ نام کے ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، سلیمان کے والدین کا تعلق ایتھوپیا سے تھا، اس لحاظ سے نسلی طور پر یہ سیاہ فام تھے۔ اس قتل نے دہائیوں سے جاری اس نسل پرستی کے خلاف پسے ہوئے طبقات کو اٹھنے کا موقع دے دیا۔ لوگ بڑی تعداد میں اسرائیلی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، مظاہروں کے ساتھ ساتھ بات جلاو گھراو تک پہنچ گئی۔ یہ واقعہ تو ان مظاہروں کا سبب بن گیا، اصل میں جو یہودی موسیٰ اور سلیمان نامی آپریشنز کے ذریعے ایتھوپیا سے اسرائیل منتقل کیے گئے، اسرائیل میں ان کی آبادی تقریباً ۱۴۰۰۰۰ ہزار افراد پر مشتمل ہے، جو کل آبادی کا محض ڈیڑھ فیصد ہے۔ ان لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور یہ لوگ تعلیم میں بہت پیچھے ہیں، اسی طرح ان میں بے روزگاری بھی بہت زیادہ ہے۔ مظاہرین کے انٹرویوز دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک گھٹن کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جس میں یہ نسل پرست ریاست ان کا استحصال کر رہی ہے اور انہیں بنیادی حقوق تک رسائی نہیں ہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ ظاہراً دنیا بھر سے صرف اور صرف مذہب یعنی یہودیت کی بنیاد پر لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اسرائیل میں آباد کیا گیا۔ بین الاقوامی طاقتوں نے اس کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل فراہم کیے، ان یہودیوں کو بھی خوشحالی کے سہانے سہانے خواب دکھائے گئے، مگر جب وہ پہنچے تو سفید چمڑی والے ان کے اہل مذہب ان کے استحصال کے لیے موجود تھے۔ ایسا کیوں ہوا کہ مذہب کی بنیاد پر جمع ہونے والوں میں رنگ کی بنیاد پر اتنی تفریق پیدا ہوگئی؟ جلاو گھراو شروع کر دیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، سینکڑوں پولیس والے زخمی ہوگئے اور کئی ایمبولینسز کو بھی آگ لگا دی گئی۔ اسرائیل میں گورے کالے کی یہ تقسیم امریکہ سے منتقل ہوئی، کیونکہ جو لوگ بہت زیادہ امیر ہیں اور جن کے پاس حکومت ہے، وہ یورپ یا امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں، امریکہ میں نسل پرستی کی ایک تاریخ ہے۔

قارئین کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکہ کی سینیٹ میں اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا کالے لوگ انسان ہیں یا انسان نہیں ہیں؟ کافی وقت یہ ڈیبیٹ چلتی رہی اور آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کالے لوگ تمام کے تمام انسان نہیں ہیں بلکہ ہر کالا بیس فیصد انسان ہوتا ہے۔ سینیٹ نے یہ بات قانونی طور پر منظور کر لی کہ کالے بیس فیصد انسان ہیں۔ اس لیے الیکشن میں یہ ووٹ ڈال سکتے ہیں، مگر ان کے پانچ ووٹوں کو ایک ووٹ شمار کیا جائے گا۔ یوں امریکی سینیٹ دنیا میں وہ پہلی سینیٹ ٹھہری، جس نے تمام جمہوری اصولوں کے مطابق اس کو قانون کی حیثیت دی۔ اسی طرح ایک لمبی مدت تک چینیوں کو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا تھا اور انہیں شہروں میں رہنے کی اجازت نہیں تھی، الگ بستیوں میں رہتے تھے، یعنی ایک طرح سے الگ باڑے بنا دیئے گئے تھے، جہاں یہ رہتے تھے۔

ان کا ہوٹلز اور بڑے بازاروں میں داخلہ ممنوع تھا۔ بعد میں اس قانون کو ظالمانہ قانون قرار دیتے ہوئے تبدیل کر دیا گیا، مگر تیس سال تک یہ قانون امریکہ میں نافذ رہا۔ ابھی بھی امریکہ میں بڑے پیمانے پر سیاہ فارم استحصال کا شکار رہے۔ امریکہ کی تاریخ میں پہلے سیاہ فام صدر صدر اوبامہ تھے۔ آپ گوگل پر چیک کر لیں، ہر سال سینکڑوں سیاہ فام امریکی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اسرائیل میں سیاہ فام لوگوں کے استحصال کی یہ روایت امریکہ سے آئی ہے، اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی ریاست صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود وہاں کی یہودی کمیونٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اسرائیلی ریاست پر ایک خاص گروہ مسلط ہے، جو مسیحیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کا استحصال کر رہا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ وہ انسانوں کا استحصال کر رہا ہے۔

اسلام نے مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصب کو روک دیا بلکہ کہا کہ مسلمان چاہے مشرق کا ہو یا مغرب کا، سیاہ رنگ ہو یا سفید رنگ ہو، اس کی زبان عربی ہو یا غیر عربی، ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بارگاہ نبوی میں حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی حیثیت بڑے بڑے عرب سرداروں سے زیادہ تھی، روم سے صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ نبوی میں خاص مقام رکھتے تھے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تو نبی اکرم (ص) نے فرما دیا کہ یہ ہماری اہلبیتؑ میں سے ہیں۔ جب ایرانی طلبہ نے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر لیا تو امام خمینیؒ نے عورتوں اور سیاہ فام ملازمین کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب بی بی سی کے نمائندے نے پوچھا تو امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ اسلام میں عورتوں کے بہت زیادہ حقوق ہیں اور سیاہ فام لوگ امریکہ میں مظالم کا شکار ہیں، اس لیے میں نے عورتوں اور سیاہ فام ملازمین کو چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ حکم دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق تھا، جس میں مظلوم کی تالیف قلب کی گئی تھی۔
بقلم ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳