دنیا کی فلم انڈسٹریز پر یہودیوں کی مکمل اجارہ داری




یہ بات سن کر آپ کو حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا میں فلم سازی کی صنعت کی بنیاد ڈالنے والے اور اسے عروج دینے والے یہودی ہیں۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق سینیما کی دنیا کے ۹۰ فیصد ڈائریکٹر، فنکار، فوٹوگرافرز، کیمرہ مینز، فلم نامہ لکھنے والے اور اسپانسرز وغیرہ یہودی ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: صہیونی اور یہودی لابیوں کا دنیا کے سینیما، فلم کمپنیوں اور انڈسٹریوں پر اس قدر قبضہ ہے کہ ایک مغربی عیسائی مفکر لکھتے ہیں: “۔۔۔ یہودیوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری دنیا کے ذہنوں کو واش کر دیا ہے۔ یہودی انحرافی فلموں کے ذریعے ہمارے نوجوانوں اور بچوں کے لیے خوراک فراہم کر رہے ہیں اور وہ فلموں کے ذریعے جو چاہتے ہیں ان کے ذہنوں میں ڈال دیتے ہیں، انہوں نے ہمارے جوانوں کو فاسد کر دیا ہے اور انہیں اپنی نوکری کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ صہیونی دو گھنٹوں کے اندر (یعنی دو گھنٹے کی فلم کے دوران) ان تمام آداب و رسومات اور ثقافت و کلچر کو ان کے ذہنوں سے واش کر دیتے ہیں جو اسکول، معلم، والدین وغیرہ نے انہیں سکھائے ہوتے ہیں”۔
یہ بات سن کر آپ کو حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا میں فلم سازی کی صنعت کی بنیاد ڈالنے والے اور اسے عروج دینے والے یہودی ہیں۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق سینیما کی دنیا کے ۹۰ فیصد ڈائریکٹر، فنکار، فوٹوگرافرز، کیمرہ مینز، فلم نامہ لکھنے والے اور اسپانسرز وغیرہ یہودی ہیں۔ چند ماہ قبل عالمی انٹرنٹ چینل نے ایک مقالہ شائع کیا اس عنوان کے تحت کہ کیا ہالیووڈ یہودی ہے؟ اور اس میں یہودیوں کی ایک لمبی فہرست گنوائی گئی جو ہالی ووڈ میں مصروف کار ہیں۔
ایک طرف صہیونیوں کا پوری دنیا کی سینیما پر قبضہ اور دوسری طرف عالم اسلام میں اس موضوع پر بے توجہی انتہائی حیرت انگیز بات اور المناک المیہ ہے۔ صہیونی سینیما اور میڈیا کا استعمال کر کے اپنے جھوٹے واقعات کو پوری دنیا میں یقینی بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ہم مسلمان اپنے سچے حقائق اور حقیقی تاریخ کو اپنے مسلمانوں تک پہنچانے میں بھی ناکام ہیں۔
کتاب “سلطنت خود انہیں کی” کے یہودی مولف “نیل گابر” نے ۱۹۸۸ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ہالی ووڈ کی سب سے بڑی فلم کمپنیز جیسے کولمبیا، میٹروگولڈین میئر(Metro-Goldwyn-Mayer)، وارنر براوز (Warner Bros.)، (Paramount Pictures) پیرامونٹ پیکچرز (Universal Pictures) وغیرہ وغیرہ سب بیسویں صدی عیسوی میں یہودیوں کے ذریعے تاسیس کی گئی ہیں اور مشرقی و مغربی یہودیوں کے ذریعے ان کمپنیوں میں کام ہو رہا ہے۔
ہنری فورڈ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ یہودی فلم سازی کی صنعت پر ۵۰ فیصد نہیں بلکہ سو فیصد تسلط رکھتے ہیں۔
اور آخر میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے کہ دنیا کی کوئی بھی فلم کمپنی اس وقت تک معروف نہیں ہو سکتی جب تک یہودیوں سے وہ اپنا رشتہ نہ جوڑ لے اور دنیا کی کوئی فلم اس وقت تک شہرت نہیں پا سکتی جب تک یہودی اسے شائع ہونے کی اجازت نہ دے دیں۔

……………

ختم شد؍۱۰۳