پاکستان میں صہیونیت مخالف جذبات اور ان کا مقابلہ کرنے کی استعماری کوشش (حصہ سوئم)




عالم اسلام کے اندرونی محاذ کی یکجہتی اور اتحاد کا سبب بننے والا ایک عنصر “مشترکہ دشمن” ہے۔ مشترکہ دشمن اندرونی یکجہتی اور اندرونی مجموعے [یعنی عالم اسلام] کو تشخص دینے اور اس راہ میں ثابت قدم رہنے اور کوشش کرنے اور اسلامی امت کے مشترکہ سفر کے احساس کا موجب بنتا ہے۔



بقلم: ڈاکٹر محسن محمدی

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ

حصۂ اول کا خلاصہ

فلسطین اور قبلۂ اول کے قبضے پر سب سے پہلا رد عمل ہندوستانی مسلمانوں نے دکھایا اور انھوں نے ۱۹۲۰ع‍ کی دہائی کی تحریک خلافت کو فلسطینی کاز کے لئے وقف کیا۔ سب سے پہلی عمومی اسلامی کانفرنس مولانا محمد علی جوہر سمیت برصغیر کے مسلم راہنماؤں کے زیر اہتمام اور فلسطین کے مفتی الحاج امین الحسینی کے تعاون سے بیت المقدس میں منعقد ہوئی جہاں کانفرنس کے شرکاء کی نماز جماعت کی امامت عراق کے عظیم مصلح علامہ محمد حسین کاشف الغطاء نے کی اور نماز کے بعد مسلم مندوبین اور فلسطینی نمازیوں کو اپنا تاریخی خطبہ دیا۔ پاکستان اپنی تاسیس کے فورا بعد یہودی ریاست کی مخالفت اور فلسطینی کاز کی حمایت کے اظہار کا عالمی مرکز بنا اور یہاں کے مسلم راہنماؤں نے فلسطینی کاز کی زبردست وکالت کی اور اسلامی کانفرنس الحاج امین الحسینی کی سربراہی میں اس نو زائیدہ مسلم ملک کے دارالحکومت کراچی میں منعقد ہوئی۔ پاکستان نے اپنی تاسیس کے پہلے سال سے اقوام متحدہ میں بھی فلسطینیوں کی حمایت کی اور پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے یہودی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

حصۂ دوئم کا خلاصہ

استعمار کی طرف سے صہیونیت مخالف نظریات کا خاتمہ فطری امر ہے ۔۔۔ اسرائیل کا قیام، قیام پاکستان کے قیام کے ایک سال بعد میں لایا گیا۔ پاکستان صہیونیت مخالف نظریات کے مرکز ہونے کے ناطے اسرائیلیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی کے مترادف تھا چنانچہ یہاں استعمار اور صہیونیت نے اپنی شیطانی سازشوں کا آغاز کیا۔ ہند اور پاکستان کے درمیان اختلافات کو ہوا دی اور اسرائیلی سیاسی اور مذہبی راہنماؤں نے پاکستان کے ایٹمی منصوبے کو اپنے لئے خطرہ قرار دیا اور صہیونیت مخالف ہندوستانی شخصیات کے قتل کی کامیاب سازشیں کیں۔

حصۂ سوئم

۵۔ دشمن شناسی میں انحراف

استعمار کا مقابلہ اور اس کے خلاف جدوجہد کے سلسلے میں بر صغیر کا تجربہ باعث بنا کہ مسلمانوں کے درمیان استعمار مخالف جذبات بہت گہرے اور طاقتور ہو جائیں۔ چنانچہ بر صغیر کی سیاسی فقہ کے اہم ترین مفاہیم و تصورات میں ایک “جہاد” کا تصور ہے جو استعمار کے خلاف جدوجہد کے ضمن میں ـ عسکری لحاظ سے بھی اور سیاسی لحاظ سے بھی ـ نمایاں رہا۔ جو افسوسناک واقعہ پاکستان میں رونما ہوا، یہ تھا کہ پاکستانیوں کا استعمار مخالف جذبہ اپنے راستے سے منحرف ہوا؛ جس کے بموجب یہ توانائی اور یہ مقدس قوت استعمار کے خلاف جدوجہد میں صرف ہونے کے بجائے، عالم اسلام کے اندر صرف ہوئی۔

افغان جنگ اس مسئلے کا آغاز ثابت ہوئی کہ پاکستانی مسلمان جو جذبات اور جو قوت اس سے قبل انگریزی استعمار کے خلاف بروئے کار لاتے رہے تھے، ان ہی جذبات سے انھوں نے افغان مسلمانوں کے ساتھ مل کر سوویت اتحاد کی جارحیت کے خلاف بھی استفادہ کیا۔ یہ پرانا تجربہ ابتدائی قدم میں کامیاب رہا اور افغانستان سے سوویت روس کے نکال باہر کرنے پر منتج ہوا لیکن دوسرے قدم میں یہ عظیم استعداد و صلاحیت ـ مغرب کی سازش اور مداخلت کی وجہ سے ـ دشمن کی شناخت میں انحراف سے دوچار ہوئی۔ اسی سازش کی وجہ سے پاکستان تکفیری جماعتوں کے سب سے بڑے اڈے میں تبدیل ہوا اور یوں استعمار مخالف اور حقیقی اسلام پسندانہ جذبات کے تاریخی دھارے کا رخ ـ مغرب اور تسلط پسند عالمی استعماری نظام کو نشانہ بنانے کے بجائے اسلامی مکاتب فکر، منجملہ شیعہ ـ کی طرف تبدیل کردیا گیا اور آج صورت حال یہ ہے کہ پاکستان ان اہم ترین مراکز میں سے ہے جہاں سے شیعہ مخالف تشدد کی رپورٹیں آرہی ہیں۔

سیاسی اتحاد و ہمآہنگی کے اہم ترین اصولوں میں سے ایک “مشترکہ دشمن” ہے۔ امت مسلمہ کو اپنے طویل المدت اہداف کے حصول کے لئے اتحاد، یکجہتی اور ہمآہنگی کی ضرورت ہے۔ اس راستے میں تمام تر قومی، قبائلی اور نسلی رجحانات کو ترک کرنا چاہئے اور اسلام کو اپنی عالمی اسلامی تحریکوں کا محور بنانا چاہئے۔ عالم اسلام کے اندرونی محاذ کی یکجہتی اور اتحاد کا سبب بننے والا ایک عنصر “مشترکہ دشمن” ہے۔ مشترکہ دشمن اندرونی یکجہتی اور اندرونی مجموعے [یعنی عالم اسلام] کو تشخص دینے اور اس راہ میں ثابت قدم رہنے اور کوشش کرنے اور اسلامی امت کے مشترکہ سفر کے احساس کا موجب بنتا ہے؛ کیونکہ تشخص کا ایک حصہ متضاد قوتوں کی موجودگی کی وجہ سے با معنی بن جاتا ہے۔ ہمارے تشخص کا ایک حصہ اس سوال کے جواب کا مرہون منت ہے کہ “ہم کون نہیں ہیں؟”۔ چنانچہ ہویت کا اصول ہمیشہ تضاد کے اصول کا لازمہ ہے۔ ([۱])

ابن خلدون کا کہنا ہے کہ مشترکہ دشمن کی موجودگی قرابتوں، اور قبیلے یا قوم کی یکجہتیوں، عصبیتوں اور قیام و دوام کا سبب ہے۔ ([۲])

جب ایک چیز کو “دشمن” کا عنوان دیا گیا، تو اس کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر دشمن کی ایک کارکردگی “خطرہ اور دھمکی” ہے۔ “دھمکی” ایک سماجی عمل اور فعل ہے جو کبھی ایک روش اور طرز عمل میں اور کبھی کچھ الفاظ کے سانچے میں نمایاں ہوجاتا ہے۔ دھمکی لازمی طور پر عملی جامہ نہیں پہنا کرتی بلکہ دھمکی دینے والا چاہتا ہے کہ اس شخص [یا فریق] پر “تسلط” پائے جس کو دھمکی دی جاتی ہے اور “تسلط” دھمکی دینے والے کے استعماری مقاصد کے حصول کے لئے ہوتا ہے۔ دھمکی کے مقابل فریق کی طرف سے رد عمل کا امکان پایا جاتا ہے جو “مزاحمت” اور دھمکی دینے والی کے مطالبے کے سامنے عدم تسلیم و عدم قبولیت پر منتج ہوسکتا ہے۔ ([۳])

دھمکی کا عمل جس کا سرچشمہ ایک “غیر” کی طرف سے ہے، دھمکی دینے والے فریق میں ایک مجموعی تشخص، یکجہتی، اور نتیجتاً معاشرے میں  “مزاحمت” کے عنصر کے جنم لینے کا سبب بنتا ہے۔ اہم نکتہ یہاں یہ ہے کہ “مزاحمت استقامت کا سبب بنتی ہے”۔ ([۴]) یعنی “مزاحمتی قوتوں” کی کامیابیوں کے علائم اور نشانیوں کو دیکھ کر ان لوگوں کی طاقت و استعداد میں اضافہ ہوتا ہے جو دھمکیوں کے نتیجے میں مزاحمت ترک کرچکے ہیں اور سر تسلیم خم کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں مزاحمت جاری رہے گی تو مزاحمتی دھارے کی طاقت اور صلاحیت کو بڑھا دیتی ہے اور دھمکی آمیز قوتوں کی صلاحیتوں کو گھٹا دیتی ہے۔ بالفاظ دیگر “وقت” مزاحمت اور دھمکی کے درمیان رابطے میں، دھمکی اور خطرے کی شدت کو کم اور مزاحمت کی قوت میں اضافے کا سبب ہے۔ چنانچہ “حالات” کا عنصر مزاحمتی دھارے کے حق میں پلٹے گا اور یوں “مزاحمت” کا دھارا “تسلط” کے دھارے پر غلبہ پائے گا۔ ([۵])

عصر حاضر میں بھی بہت سی بین الاقوامی اور تہذیبی صف آرائیاں اسی تناظر میں قابل تشریح ہیں؛ جیسے سرد جنگ کے دوران طاقت کی دوڑ، نیز اس دور کے بعد مغرب کی طرف سے اسلامو فوبیا کا منصوبہ۔ ([۶]) چنانچہ امریکہ جن صلاحیتوں اور طاقت کو سوویت اتحاد کے خلاف بروئے کار لا رہا تھا، اس کا رخ عالم اسلام کی طرف ہوا۔ البتہ یہ خطرہ اگر مسلمانوں کو مشترکہ تشخص اور مشترکہ عزم کی طرف لے جائے تو اس کا کردار وحدت آفریں ہوگا اور [اس خطرے ([۷])] کو ایک فرصت ([۸]) میں تبدیل کرے گا۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ دشمنان اسلام کی استعماری سرگرمیوں کی وجہ سے، مسلم ممالک اپنی سلامتی کے لئے بیرونی دشمنوں سے کم اور دوسرے مسلم ممالک کی طرف سے زیادہ خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ ([۹])

بدقسمتی سے، عالم اسلام اپنے دشمنوں اور اپنے حقیقی رقیبوں کی پہچان کے حوالے سے تقلیب و تغیّر سے دوچار ہو گیا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر “طاقت کا تجزیہ” ثابت کرتا ہے کہ عالم اسلام کو “تسلط پسند لبرل جمہوریت کی ثقافت” ­نامی ایک بڑے مشترکہ دشمن کا سامنا ہے لیکن بعض مسلم ممالک حقیقی دشمن سے چشم پوشی کرکے عالم اسلام کے اندر اپنے لئے دشمن تلاش کررہے ہیں۔ اس تزویری خطا کا نتیجہ عالم اسلام میں تضادات اور انتشار اور عالم اسلام پر دشمن کے تسلط کی ترغیب کی صورت میں برآمد ہورہا ہے؛ جس کی اہم ترین مثالوں میں سے ایک اسلامو فوبیا کی الٹی تصویر ہے جو امریکہ عالم اسلام کے اندر سرگرم تکفیری ٹولوں کی مدد سے دنیا کو پیش کررہا ہے تا کہ اسلامی ممالک میں اپنی ناجائز موجودگی اور اثر و رسوخ کا جواز فراہم کرسکے۔ ([۱۰])

قرآن مجید ـ جو تمام مسلمانوں کا مشترکہ اور سب سے اہم اور بنیادی ماخذ و منبع سمجھا جاتا ہے ـ یہود کو اہل ایمان کا شدید ترین اور اصلی دشمن قرار دیتا ہے اور آج یہود کا اصلی ترین جلوہ صہیونی/یہودی ریاست کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس ریاست کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھیں اور اس کے مد مقابل فلسطینی کاز کو اپنا نصب العین قرار دیں۔ لیکن انتہاپسند تکفیری دھارے نے عالم اسلام کے ایک تزویری تقابل میں تزویری انحراف پیدا کیا ہے۔

اس نامطلوب صورت حال میں تکفیری ٹولوں کے کرتوتوں نے بحران میں شدت آنے اور عالم اسلام میں انتشار اور تضادات کے فروغ کے اسباب فراہم کئے ہیں۔ اسلامی جماعتوں کے ساتھ تکفیری دھارے کے معاندانہ رویے نے اسلامی جماعتوں کے اتحاد و یکجہتی کا سبب بننے والے “مشترکہ دشمن” کے نظریئے کو نابود کردیا ہے اور اس کے بموجب دوست اور دشمن کی جگہ تبدیل ہوگئی ہے۔ تکفیری سوچ نے بہت سوں کو اسلامی معاشرے سے نکال باہر کیا ہے اور عالم اسلام میں معاندانہ صف بندیوں کو جنم دیا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمین اصلی اور حقیقی دشمن سے غافل ہوچکے ہیں اور دوسرے مسلمانوں اور مسلم جماعتوں اور گروہوں کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔

نظریۂ تکفیر کا اہم ترین نظریہ پرداز “عبدالسلام فَرَج” “قریبی دشمنوں” (یعنی اسلامی ممالک کے حکمرانوں) کے خلاف جدوجہد کو “دور کے دشمنوں” (یعنی غیر مسلم ممالک کے حکمرانوں) کے خلاف جدوجہد پر ترجیح دیتا ہے۔ ([۱۱]) اس تصور یا نظریئے کی بنیاد پر جہاد دفاعی حالت سے جارحانہ حالت میں تبدیل ہوا اور کفار کے بجائے مسلمین ـ جن کو اسلام سے خارج کردیا گیا تھا ـ قتل عام کا نشانہ بنے اور بےشمار شیعہ اور سنی مسلمان اس طوفان بدتمیزی کا شکار ہوئے۔ یہاں تک کہ سلفی شیوخ اور مفتیوں نے شیعیان اہل بیت سمیت اکثریتی مسلمانوں کے کفر کا فتویٰ دینے کے بعد ان کے مقابلے میں “جہادیوں” کو مدد پہنچانے کی ضرورت پر مبنی فتاویٰ جاری کئے۔ ([۱۲])

ربیع بن محمد السعودی ـ جو ایک سلفی مؤلف ہے اگرچہ کچھ غیر حقیقی عقائد کو مذہب تشیّع سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے ـ مگر صلیبی اور یہودی حکومتوں اور عالم اسلام میں امریکی مداخلتوں کے مقابلے میں شیعہ اور سنی کے اتحاد کے عقیدے کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور آخرکار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا شیعوں سے اتحاد ہوسکتا ہے۔ ([۱۳])

اس قسم کے تضادات پر مبنی تفکرات و نظریات کو فلسطین اور تحریک مزاحمت کے سلسلے میں ان کے موقف میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔

مسئلۂ فلسطین ابتداء سے عالم اسلام کے نہایت اہم اور متفقہ مسائل کے زمرے میں شمار ہوتا رہا ہے جس کے لئے شیعہ علماء کا فتوائے جہاد جاری ہوا۔ ([۱۴]) اگرچہ یہ تنازعہ سنی دنیا میں رونما ہوا لیکن تکفیری نظریئے کے پیروکاروں کا موقف نہ صرف غیرجانبدارانہ بلکہ غاصبوں کے ساتھ سازگار اور موافقت ہے:

تکفیری دھارا صہیونی ریاست کے آگے اپنے ماتھے پر بل بھی نہیں ڈالتا اور حتّیٰ کہ مسلمانوں کے خلاف یہودی ریاست کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ ([۱۵])

محاذ مزاحمت کو بھی ـ جو یہودی ریاست کے خلاف جدوجہد میں سرگرم عمل ہے اور استعماری طاقتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کا مشترکہ محاذ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ـ تکفیری ٹولوں کے کرتوتوں کے اثرات کا سامنا ہے۔ تکفیری ٹولوں نے نہ صرف اس محاذ کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اس کو ترک کرگئے اور اس کے مد مقابل آکھڑے ہوئے۔ ([۱۶])

اسی اثناء میں امت مسلمہ اور محاذ مزاحمت کی دشمن یہودی ریاست (اسرائیل) مقبوضہ فلسطین میں، یہودیوں کی ناہمآہنگ ٹولوں کو مشترکہ تشخص دینے اور سماجی یکجہتی قائم کرنے کے لئے “مشترکہ دشمن” کے تصور سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ بالفاظ دیگر یہودی-اسرائیلی معاشرے کا تشخص ایک مشترکہ اصول کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اور وہ ہے: یہود مخالف “مشترکہ دشمن”۔ ([۱۷])

علاوہ ازیں اسلامی بیداری کا دھارا، سیاسی-معاشرتی میدان میں اسلام کی موجودگی اور کردار ادا کرنے اور مغرب اور آمریت و استبدادیت کے خلاف جدوجہد کا اہم ترین معاصر عامل اور سبب تھا جو مشترکہ دشمن کے مقابلے کے طور پر، اسلامی اہداف تک پہنچنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور ربط و پیوند کا سبب بن سکتا تھا۔ تکفیری ٹولوں نے اس راہ میں بھی ایک بڑے آسیب اور آفت و انحراف کا کردار ادا کیا، اور اتحاد و یکجہتی کے بجائے تکفیر، انتہاپسندی کی ثقافت کو فروغ دیا۔ ([۱۸])

پاکستان علاقے اور عالم اسلام میں انتہاپسند تکفیری تصورات و تفکرات کے اصلی اڈوں میں شامل ہے اور تکفیری ٹولے یہاں سعودی اثر و رسوخ اور پشت پناہی کے سائے میں سرگرم عمل ہیں۔ اس تلخ صورت حال کا ایک سبب افغانستان کی جنگ اور اس کے بعد رونما ہونے والے مسائل اور واقعات ہیں۔ افغان جنگ کے خاتمے کے بعد، افغانستان میں سرگرم پاکستانیوں میں سے زیادہ تر افراد پاکستان واپس آئے اور فرقہ وارانہ تشدد میں مصروف ہوئے اور اس تشدد کو سیاسی طاقت کے حصول کا اوزار قرار دیا۔ انھوں نے تکفیر کے اوزار کو نہ صرف شیعیان اہل بیت سمیت ان لوگوں کے خلاف استعمال کیا جنہیں وہ اپنا دشمن سمجھتے تھے۔

افغان جنگ نے پاکستان میں تشدد پسند اور انتہا پسند قوتوں کو تقویت پہنچائی اور انہیں وہابیت کی وادی میں پہنچایا۔ چنانچہ دیوبندیوں کے درمیان سلفیت کے رجحانات پیدا ہوئے۔ اس صورت حال میں وہ نہ صرف فلسطینی کاز سے دور ہوگئے بلکہ قدس پر قابض یہودی ریاست کو دشمن سمجھنے کے بجائے شیعہ کو اپنے دشمن کا عنوان دیا؛ [اور بعض مواقع پر یہودی ریاست کی صف میں کھڑے ہوکر فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کی غرض سے منعقدہ یوم القدس ریلیوں کے شیعہ شرکاء کو دہشت گردانہ اور خودکش حملوں کا نشانہ بنایا]۔ یوں اسلام کی جہادی استعداد اسلام اور مسلمانوں کے اصلی اور شدیدترین دشمن ـ یعنی صہیونی-یہودی ریاست پر صرف ہونے کے بجائے، عالم اسلام کے دوسرے حصے (شیعیان اہل بیت) کے خلاف جنگ کی نذر ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی

[۱]۔ رجوع کریں: تغییرات اجتماعی، (Le changement social) گای روچر، (Guy Rocher)، فارسی ترجمہ منوچہر وثوقی، ص۱۳، نشر نی، تہران۔

[۲]۔ رجوع کریں: مقدمۂ ابن خلدون، ابن خلدون، فارسی ترجمہ: پروین گُنابادی، ج۱، ص۳۳۴، انتشارات علمی و فرہنگی، تہران، ۱۳۶۲۔ نیز رجوع کریں: تاریخِ عرب قبل از اسلام، عبدالعزیز سالم، ترجمہ باقر حیدری نیا، ص۳۱۱، انتشارات علمی و فرہنگی، تہران، ۱۳۸۰۔

[۳]۔ ر۔ک: کالبدشکافی تہدید، اصغر افتخاری، ص۹۴، دانشگاہ امام حسین علیہ السلام، تہران، ۱۳۸۵۔

[۴]۔ رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے اس مسئلے کو اسلام کے صدر اول کی تاریخ میں نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ رجوع کریں: یوم بعثت رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ کے سلسلے میں نظام اسلامی کے عہدہ داروں سے خطاب، مورخہ ۳۰ جولائی ۲۰۰۸۔

[۵]۔ رجوع کریں: کانفرنس بعنوان “نظریۂ بیداری اسلامی در اندیشہ سیاسی حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی و آیت اللہ العظمی امام خامنہ­ای” کے منتخب مقالات کا مجموعہ بعنوان “تاثیر مقاومت بر بیداری اسلامی در اندیشہ سیاسی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای”، کمیل خجستہ، ص۷۲۷-۷۵۱۔

[۶]۔ رجوع کریں: “پدیدہ اسلام­ترسی”، (The phenomenon of Islamophobia) فادی اسماعی، ترجمہ پرویز شریفی، ص۳۳-۴۰، ماہنامہ اسلام و غرب، وزارت امور خارجہ، سال اول، پیش شمارہ دوم، مرداد ۱۳۷۶؛ نہ شرقی نہ غربی (روابط خارجی ایران با آمریکا و شوروی)، (Neither East Nor West: Iran, the Soviet Union, and the United States) نکی کیڈی، مارک گازیورسکی، (Nikki Keddie & Mark J. Gasiorowski) ترجمہ ابراہیم متقی اور الہہ کولایی، ص۲۱۶، نشر مرکز اسناد انقلاب اسلامی، تہران، ۱۳۷۹ھ ش۔

[۷]۔ Threat

[۸]۔ Opportunity

[۹]۔  رجوع کریں: سیاست خارجی جمہوری اسلامی ایران؛ بازبینی نظری و پارادایم ائتلاف، محمود سریع القلم، ص۱۱۲و۱۱۳، مرکز تحقیقات استراتژیک، تہران، ۱۳۷۹۔

[۱۰]۔  رجوع کریں: صناعۃ الکراہیہ فی العلاقات العربیۃ – الامریکیۃ، جمع من المؤلفین، بیروت، مرکز دراسات الوحدة العربیّۃ، ۲۰۰۳ع‍

[۱۱]۔  رجوع کریں: الجہاد الفریضۃ الغائبۃ، محمد عبدالسلام فرج، مقدمہ، قاہرہ، بی نا، ۱۹۸۱۔

[۱۲]۔  مجموعۃ فتاوی، عبد اللہ بن باز، ج۴، ص ۳۲۴۔

[۱۳]۔  الشیعۃ الامامیۃ الاثنی عشریۃ فی میزان الاسلام، ربیع بن محمد السعودی، ص ۱۴-۱۷، چاپ دوم، مکتبہ ابن تیمیۃ، قاہرہ ۱۴۱۴ق۔

[۱۴]۔  تاریخ النجف السیاسی ۱۹۵۸-۱۹۴۱ع‍، مقدام عبدالحسین فیاض، ص ۱۶۵، بیروت، دارالاضواء، ۲۰۰۲ع‍/۱۴۲۳ق۔

[۱۵]. عالمی کانفرس بعنوان “تکفیری دھارے علمائے اسلام کی نظر میں” سے امام خامنہ ای کا خطاب۔ ۲۰۱۴-۱۲-۰۵۔

[۱۶]۔ رجوع کریں: نظریہ مقاومت در روابط بین­الملل؛ رویکرد ایرانی-اسلامی نفی سبیل و برخورد با سلطہ، روح­اللہ قادری کنگاوری، ص ۲۳۹و ۲۳۸، مجلہ سیاست دفاعی، ش ۸۲، بہار ۱۳۹۲۔

[۱۷]۔ رجوع کریں: جامعہ شناسی سیاسی اسرائیل، (اسرائیل کی سیاسی نفسیات) اصغر افتخاری، ص۱۳۷و۱۳۸، مرکز پژوہش ہای علمی و مطالعات استراتژیک خاورمیانہ، تہران، ۱۳۸۰؛ “ابعاد اجتماعی برنامہ امنیتی اسرائیل؛ دستور کاری برای قرن بیست و یکم”، (اسرائیلی سماجی سلامتی منصوبےکے پہلو؛ اکیسویں صدی کے لئے دستور العمل) اصغر افتخاری، ص۵و۶، فصلنامہ مطالعات امنیتی، شمارہ ۱، ۱۳۷۲ھ ش۔

[۱۸]۔ “بررسی تاثیرات سلفی­گری تکفیری بر بیداری اسلامی”، (اسلامی بیداری پر تکفیری سلفیت کے اثرات کا جائزہ) محمد ستودہ، مہدی علیزادہ موسوی، ص۹۱-۱۱۶، علوم سیاسی، شمارہ ۶۵، بہار ۱۳۹۳ھ ش۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۱