امریکہ میں صہیونیت مخالف ڈاکومنٹری فلم پر پابندی عائد




یہ ڈاکومنٹری در حقیقت فلسطین کی غاصب صہیونی ریاست کے جرائم اور فلسطینی بچوں اور عورتوں کے قتل عام پر مبنی ہے۔ اور علاوہ از ایں اس میں امریکی میڈیا پر صہیونی چھاپ کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: روجر واٹرز(Roger Waters) کی گفتگو کے ساتھ بنائی گئی ڈاکومنٹری فلم ’’امریکیوں کی برین واشنگ‘‘ کو امریکہ میں ریلیز کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ فلم جو ۲۳ جولائی ۲۰۱۹ کو امریکی شہر ’ٹاکوما‘ میں منظر عام پر آنا تھی مزید ایک سال تک اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ٹاکوما شہر کے گورنر نے اس کی وجہ صہیونی لابی کی مخالفت بیان کیا ہے۔ جبکہ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کروائی کہ اس ڈاکومنٹری میں یہودیت مخالف کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ لیکن اس کے باوجود اس ڈاکومنٹری کو ایک سال تک منظر عام پر نہیں لانے دیا جائے گا۔
یہ ڈاکومنٹری در حقیقت فلسطین کی غاصب صہیونی ریاست کے جرائم اور فلسطینی بچوں اور عورتوں کے قتل عام پر مبنی ہے۔ اور علاوہ از ایں اس میں امریکی میڈیا پر صہیونی چھاپ کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ڈاکومنٹری اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ امریکیوں کے ذہنوں پر اسرائیلی عہدیداروں مخصوصا نیتن یاہو کا بھوت سوار ہے۔
خیال رہے کہ روجر واٹرز انگریزی موسیقار اور گٹارسٹ ہیں۔ واٹرز فلسطینیوں کے حامی معروف چہروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے چند سال قبل ’مغربی دیوار‘ (دیوار گریہ) کے بارے میں ایک ترانہ پڑھا اور اس کے بعد مقبوضہ فلسطین کا دورہ کر کے اس دیوار پر لکھا کہ اسے مسمار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے صہیونی ریاست پر ثقافتی پابندیاں لگانے کی بھی بہت کوشش کی، روجر واٹرز کو جب اطلاع ملی کہ ان کے دوست اسرائیل میں موسیقی کے ایک سیمینار میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے ان کی طرف ایک خط میں لکھا: ’’تم ایسے لوگوں کے لیے موسیقی کا پروگرام کرنا چاہتے ہو جنہوں نے لاکھوں بچوں کی طرف گولیاں چلائی ہیں اور انہیں قتل کیا ہے۔ آپ کو انسانیت کی قسم، میری شکایت سن لیں اور اس پروگرام میں شرکت ترک کر دیں‘‘۔
منبع

WATCH THE FILM FOR FREE NOW


https://www.jpost.com/Diaspora/DC-suburb-moves-forward-with-Roger-Waters-film-screening-on-Israeli-occupation-595301
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳