جنسی کاروبار کرنے والے یہودی تاجر کی گرفتاری سے اسرائیلی سیاسی پارٹیوں میں مچی کھلبلی





خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق، گزشتہ ہفتے جنسی کاروبار کرنے والے ارب پتی یہودی تاجر ’جفری اپسٹین‘ کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا جو ۱۲ سال سے کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کرتا تھا اور انہیں امریکہ کے ایک خصوصی جزیرے میں لے جا کر خرید و فروخت کرتا اور انہیں جنسی سرگرمیاں انجام دینے پر مجبور کرتا تھا امریکی فیڈرل پولیس نے اسے گرفتار کر کے اس پر عدالت میں کیس چلا دیا ہے۔
لیکن تازہ ترین انکشاف کے مطابق یہ جنسی تاجر اسرائیل کے اعلی سربراہان کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے اور اس کاروبار کے پیچھے در حقیقت ان کا ہاتھ ہے۔
ایہود باراک کا جفری اپسٹین کے ساتھ رابطہ
۱۳ جولائی ۲۰۱۹ کو ٹائمز آف اسرائیل نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ’ایہود باراک‘ جنسی تاجر ’جفری اپسٹین‘ کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ایہود باراک ۱۹۹۹ سے ۲۰۰۱ تک اسرائیل کے وزیر اعظم رہے اور بعد از آں ۲۰۰۷ میں انہیں اسرائیل کا وزیر دفاع منتخب کیا گیا۔ وہ اس وقت اسرائیل کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ دی ہے کہ ان دو افراد کے معاشی تعلقات ۲۰۱۵ سے آغاز ہوئے اور Carbyne کمپنی جس کے مالک ایہود باراک ہیں کے زیادہ تر حصہ دار جفری اپسٹین ہیں۔
ایہود باراک اور جفری اپسٹین کے تعلقات ایسے حال میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں دوبارہ انتخابات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے حریف نیتن یاہو نے ایہود باراک کی اخلاقی رسوائی کو مدعیٰ بنا کر قوم سے انہیں ووٹ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳