اسرائیل ایک بہت بڑے چیلنج سے روبرو





خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: گذشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ملحق کرنے کی کوششوں کے بارے میں خبریں منظرعام پر آئی ہیں۔ جنوری ۲۰۱۹ء کو سننے میں آیا تھا کہ اسرائیلی کابینہ کے دسیوں وزیر اور لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اسرائیلی پارلیمنٹ اراکین نے ایک خط پر دستخط کئے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ وہ ۲۰ لاکھ یہودیوں کیلئے مغربی کنارے میں یہودی بستی تعمیر کریں گے۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے الیکشن مہم کے دوران مغربی کنارے کو اسرائیل سے ملحق کرنے کا عندیہ دیا۔ اس کے بعد مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے ایک انٹرویو کے دوران اعلان کیا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے بعض حصے اپنے ساتھ ملحق کرنے کا حق حاصل ہے۔ آخر میں فلسطین کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مائیکل لنک نے پریشانی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل مزید سرزمینوں پر قبضے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس مسئلے کے کیا مختلف پہلو ہیں اور اسرائیل مغربی کنارے پر قبضہ کر کے کیا اہداف حاصل کرنے کے درپے ہے؟

اس مسئلے کو سمجھنے کیلئے اس بارے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بطور صدر منتخب ہو کر برسراقتدار آنے کے بعد واشنگٹن نے اسرائیل کی غیر مشروط اور ہمہ جانبہ حمایت کی پالیسی اختیار کر لی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سینچری ڈیل نامی معاہدہ پیش کر کے مسئلہ فلسطین کو اسرائیل کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پہلے مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کا حکم جاری کیا تاکہ اس طرح قدس شریف پر اسرائیل کی حاکمیت کو قانونی شکل عطا کی جائے۔ مزید برآں، واشنگٹن میں پی ایل او کا دفتر بند کر دیا گیا۔ ستمبر ۲۰۱۸ء میں امریکی وزارت خارجہ نے فلسطینی مہاجرین کی سرپرستی کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے آنروا کو دی جانے والی تمام امداد بند کر دینے کا اعلان کر دیا۔ آخرکار مارچ ۲۰۱۹ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت اسرائیل کے زیر قبضہ شام کے علاقے گولان ہائٹس کو بھی قانونی طور پر اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا گیا۔ موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے کا الحاق سینچری ڈیل کا اہم ترین ہدف ہے۔

اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی کئی وجوہات پر مبنی ہے اور اسرائیل مسلسل اس پر عمل پیرا ہوتا نظر آتا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل نامی ریاست کے وجود کے اعلان کے بعد سرزمین کی محدودیت کے باعث یہ نئی اور جعلی ریاست ہمیشہ سے تزویراتی گہرائی نہ ہونے سے متعلق شدید پریشانی کا شکار رہی ہے۔ لہذا صہیونی رژیم نے اپنی سکیورٹی اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں اس کمزوری کو دور کرنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرے کے احساس پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اسرائیل نے “یہودی بستیوں کی تعمیر” کو اپنی نئی حکمت عملی کے طور پر انتخاب کیا اور اسے جامہ عمل پہنانے کیلئے کوشاں ہو گیا۔ فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کر کے یہودی بستیوں کی تعمیر پر مبنی پالیسی کا دوسرا ہدف مستقبل میں فلسطین نامی ریاست کی تشکیل کو ناممکن بنانا ہے۔ مختلف علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور وہاں اسرائیل کے فوجی مراکز قائم ہونے کے بعد باقی سرزمینوں سے اس کا رابطہ منقطع ہو جاتا ہے اور یوں فلسطینیوں کی سرزمین چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔

موجودہ حالات میں اسرائیل مغربی کنارے میں موجود یہودی بستیوں کو اپنے ساتھ ملحق کر کے پہلے مرحلے پر ایک وسیع اور متحد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف مغربی کنارے پر اپنے مکمل قبضے کا زمینہ بھی فراہم کرنے کے درپے ہے۔ اسرائیل کی اندرونی مشکلات اور چیلنجز نے اسرائیلی حکمرانوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ حال ہی میں ہرزلیا میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں اندرونی مشکلات اور چیلنجز کو اسرائیل کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ صہیونی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل بے سابقہ قسم کی انارکی اور انتشار کا شکار ہے جو ملک کے تمام شعبوں پر منفی اثرات کا باعث بن رہا ہے۔ اسی طرح اس کانفرنس میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں ہونے والا عوامی احتجاج مغربی کنارے تک پھیل جانے کا امکان موجود ہے۔ اسرائیلی حکمرانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ۲۰ لاکھ انسان جبکہ مغربی کنارے میں ۲۸ لاکھ انسان بستے ہیں۔ وہ سب اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کو اپنے سیاسی، دینی اور سماجی حقوق کے حصول کا بنیادی اور اہم ذریعہ سمجھنے لگے ہیں جس کے باعث اسرائیل ایک بہت بڑے چیلنج سے روبرو ہو گیا ہے۔

تحریر محمد مرادی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳