خون مظلوم سے جلتا نہیں مستقبل کا چراغ



نتنياهو / نتانياهو / اسرائيل / حرب ايران / سوريا


خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: صہیونی ریاست ‘بغل میں چھری منہ میں رام رام’ کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ ایک طرف غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کا روز مرہ کی بنیاد پرقتل عام جاری ہے اور دوسری طرف بنجمن نیتن یاھوغزہ میں جنگ بندی اور امن کی بات کرتے ہیں۔ دراصل نیتن یاھو اور ان کا ٹولہ اس وقت کئی اندرونی اور بیرونی الجھنوں کا شکار ہے۔ وہ صرف خواب دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سیاسی جمود اور میدان جنگ میں شرمندگی ایسے مسائل ہیں جن کا بوجھ اٹھانا اب نیتن یاھو کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

نیتن یاھو کبھی غزہ میں امن اور جنگ بندی کی بات کرتے ہیں اور کبھی فوج کشی کی دھمکی دےکر سیاسی منظرنامے میں تبدیلی کی کوشش کرتے ہیں۔ جنوبی لبنان کا محاذ، اسیران کا مسئلہ اور اندرونی سیاست میں نیتن یاھو کی پسپائی اہم ترین مسائل بن کر سامنے آ رہےہیں۔

چند روز قبل نیتن یاھو نے کہا کہ ‘فوج میرے حکم کی منتظر ہے۔ میں نے جب اور جیسے ہی غزہ کی پٹی پرفوج کشی کی اجازت دی تو فوج اپنا کام کرے گی۔ اگر حماس نے جنگ بندی کی شرائط پرعمل درآمد نہ کیا تو حماس کو درد ناک صورت حال سے دوچار کیا جائے گا’۔

جنگ بندی کی دھمکی کے کئی معانی ہوسکتے ہیں۔ سروے رپورٹس کے مطابق نیتن یاھو کو اس وقت ان کے سیاسی مخالفین کی طرف سے مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ غزہ کی پٹی پرجنگ مسلط کرکے رائے عامہ ہم دردی حاصل کرنے کی بھونڈی کوشش کررہے ہیں۔

جنگ اور امن
اس وقت پورا خطہ ایسے طوفانی بحرانوں کے تھپیڑے کھا رہا ہےجن سے نکلنے کی کوئی امید اور روشنی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ غزہ کی پٹی کا محاصرہ مزید گہرا کردیا گیا ہے۔ غزہ کے معاونین کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ فلسطینیوں کے پاس صہیونی ریاست کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کاخاطر خواہ سامان نہیں۔ امریکا کی طرف سے صہیونی ریاست کی طرف داری نے فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
چند روز پیشتر اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کی سرحد پر ۲۸ سالہ محمود احمد صبری الادھم کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔ الادھم حماس کے عسکری شعبے القسام بریگیڈ کاکمانڈر تھا۔ اس کی شہادت اس وقت ہوئی جب مصر سے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد غزہ کی پٹی کےدور پرآ رہا تھا۔ مصری وفد کے دورے کےدو اہم مقاصد تھے۔ پہلا مقصد غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کوآگے بڑھانا اور دوسرا مقصد فلسطینی دھڑوں میں‌امن ومصالحت کی عمل میں پیش رفت کرنا تھا۔

فلسطینی تجزیہ نگار ابو زبیدہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں نیتن یاھو غزہ کی پٹی پرکوئی وسیع جنگ مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں مگر وہ انتخابات میں اپنی جیت یقینی بنانے کے لیے ایران ، غزہ یا کسی دوسرے معاملے کو انتخابی نعرہ بنا سکتےہیں۔

آزمودہ واقعات
ہرجمعہ کی شام غزہ میں ہونے والے مظاہروں پراسرائیلی فوج کی طرف سے طاقت کا استعمال ایک بارپھر معمول کے مطابق دیکھا گیا۔  غزہ میں ہونے والے ہفتہ وار مظاہروں میں صہیونی دشمن ماضی کے تجربات دہرانے کی کوشش کرتا ہے۔

غزہ پراسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ پابندیوں کے باعث عوام میں سخت غم وغصے کی لہر پائی جا رہی ہے۔ غزہ میں‌جنگ بندی کی مساعی کی بار بار کوشش کی گئی مگرصہیونی ریاست کی طرف سے طاقت کا استعمال جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ صہیونی دشمن غزہ میں‌جنگ بندی کے حوالے سے طے پائی شرائط پرعمل درآمد سے فرار اختیار کرلیتا ہے۔ یہ تماشا ایک ایسے وقت میں دیکھا جا رہا ہے جب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تعلقات تعطل کا شکار ہیں۔

تجزیہ نگار ابو زبیدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کا میدان چلتا ہوا ریلتا طوفان ہے۔ یہاں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی ریاست فلسطینیوں‌ کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور فلسطینی مزاحمت کار قوم کےدفاع کے لیے بندوق اٹھانے پرمجبور ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳