ہم جنس پرستی ‘فعل حرام’ نہیں ‘فعل مکروہ’ ہے




یہ باتیں اور یہ داستان کسی ایسے ملک کی نہیں ہے جو سکولر ہو اور وہاں دین سے کوئی مطلب نہ ہو بلکہ یہ ایسی ریاست کی بات ہو رہی ہے جس کا دعویٰ سرزمین موعود پر یہودی شریعت کا نفاذ ہے ایسی سرزمین کی بات ہے جہاں پر صدیوں سے مقیم فلسطینیوں کو نکال باہر کر کے اور ان کی زمینوں کو غصب کر کے یہودی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ منحرف آسمانی دین ‘یہودیت’ کے قوانین نافذ کئے جائیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے سپریم یہودی مذہبی لیڈر(ربی اعظم) شلومو موشہ عمار(Shlomo Moshe Amar) نے ٹائمز آف اسرائیل کے ساتھ گفتگو میں کہا: “آج ہم اپنے معاشرے میں بہت سخت چیلنج سے روبرو ہیں۔ ایسی غیر اخلاقی اور ناقابل تصور چیزیں جنہیں ایک زمانے میں لوگ سوچتے ہوئے بھی شرم محسوس کرتے تھے انہیں آج معاشرے میں عملی جامہ پہناتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ وزیر تعلیم جب کوئی بات کرتا ہے تو سب اس پر سخت تنقید کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ اس نے کوئی نئی بات نہیں کہی ہوتی بلکہ وہی بات کہی ہوتی ہے جس کے بارے میں توریت میں آیتیں نازل ہو چکی ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا: “لوگ ربیوں کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کوئی بولے نہیں۔ جو توریت کی آیتوں کو نقل کرے لوگ اسے مجرم اور خائن سمجھنے لگے ہیں اور اسے برکنار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ربی ‘رافی پرتز’ جو ابھی وزیر تعلیم ہیں وہ پہلے اسرائیلی فوج کے اعلیٰ ربی رہ چکے ہیں، عوام اب کوشش کر رہے ہیں کہ ربیوں کے منہ پر مہر سکوت لگا دیں”۔
بیت المقدس کے ربی اعظم کے یہ بیانات ‘ربی رافی پرتز’ سے متعلق ہیں جو انہوں نے گزشتہ ہفتے ہم جنس پرستوں سے کہا کہ وہ ہم جنس پرستی کے بجائے جنسی تبدیلی کر لی۔ اسرائیل کے وزیر تعلیم ‘ربی رافی پرتز’ کے اس مشورے پر اسرائیل کے ہم جنس پرستوں نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہودی ہم جنس پرستی
ربی شلومو عمار کی گفتگو نے بھی یہودی ہم جنس پرستوں کے جذبات پر پٹرول چھڑک دیا اور ہم جنس پرستوں نے ربی شلومو پر فتنہ پھیلانے کا الزام عائد کر کے ان کے خلاف احتجاج کیا جس کے بعد ربی شلومو ہم جنس پرستی کی حرمت کا فتویٰ بدل کر اس گھناونے عمل کو ‘مکروہ’ کہنے پر مجبور ہو گئے۔
یہ باتیں اور یہ داستان کسی ایسے ملک کی نہیں ہے جو سکولر ہو اور وہاں دین سے کوئی مطلب نہ ہو بلکہ یہ ایسی ریاست کی بات ہو رہی ہے جس کا دعویٰ سرزمین موعود پر یہودی شریعت کا نفاذ ہے ایسی سرزمین کی بات ہے جہاں پر صدیوں سے مقیم فلسطینیوں کو نکال باہر کر کے اور ان کی زمینوں کو غصب کر کے یہودی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ منحرف آسمانی دین ‘یہودیت’ کے قوانین نافذ کئے جائیں۔
ہم جنس پرستوں کے مقابلے میں ایسا موقف یہودی ربیوں اور مذہبی رہنماوں کی انتہائی کمزوری کی علامت ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہودی اور اسرائیلی معاشرے میں مذہبی رہنماوں اور عوام کے درمیان کس قدر نفرتیں اور دراڑیں پائی جاتی ہیں۔
یہودی رژیم کے خاتمے کی ایک علامت یہی ہے جو اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک زمانے میں یہودی شریعت اسرائیلی معاشرے کو آپس میں جوڑنے والی بنیادی رسی تھی لیکن آج اس میں مذہب کا رنگ و روپ مٹ چکا ہے۔
نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ ایک یہودی ربی حکومتی وزارت میں اپنی پوسٹ محفوظ رکھنے کے لیے ایک دن کے اندر اندر اپنے بیان کی تردید کر دیتا ہے اور پھر ربی اعظم اپنے مقام کے تحفظ کی خاطر یہودی شریعت کے اہم ترین اصول یعنی ہم جنسی پرستی کے ‘فعل حرام’ ہونے کو ‘فعل مکروہ’ میں بدل دیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳