انسانی حقوق اور صہیونی ریاست




یہ تو کھلی جارحیت کے چند نمونے تھے جو اسرائیل نے پوری دنیا کے سامنے دن دھاڑے انجام دئے اور انسانی حقوق کی مدافع عالمی تنظیموں سمیت سب تماشائی بنے رہے۔ اس کے علاوہ وہ کون سا دن ہے جس دن غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں کوئی فلسطینی شہید یا زخمی نہ ہو، سالھا سال سے غزہ کا محاصرہ، پرامن واپسی مارچ پر بہیمانہ انداز سے فائرنگ، اسرائیلی زندانوں میں قیدی فلسطینی زن و مرد کے ساتھ ناروا سلوک وغیرہ وغیرہ سب صہیونی ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کو پاوں تلے روندے جانے کی مثالیں ہیں۔



بقلم مجید رحیمی

 خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: انسانی حقوق، حقوق کے اس مجموعے کو کہا جاتا ہے جو قوم، ملت، دین، مذہب، رنگ اور زبان وغیرہ سے بالاتر صرف انسان ہونے کے ناطے ہر انسان کو شامل ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی اصطلاح آج بین الاقوامی قوانین میں کثرت سے رائج ہے اور اس کی بنا پر تمام انسان برابر ہیں اور کوئی انسان دوسرے سے برتر نہیں ہے۔
انسانی حقوق اگر چہ عالمی تنظیموں کے ذریعے تدوین کئے گئے ہیں اور مغربی نظام ہمیشہ ان کے نفاذ کی بات کرتا ہے لیکن صہیونی ریاست جس کو امریکہ اور یورپ کی دائمی حمایت حاصل ہے، انسانی حقوق کی نسبت بالکل ناآشنا نظر آتی ہے۔
اس مختصر یادداشت میں انسانیت کی حمایت میں بنائے گئے عالمی اداروں کی جانب سے چند قوانین کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ دیکھتے ہیں صہیونی ریاست ان قوانین پر کتنا عمل کرتی اور انسانی حقوق کا کتنا پاس و لحاظ رکھتی آئی ہے خاص طور پر اس اعتبار سے کہ امریکہ اور یورپ جو انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کیا خود اور ان کے اتحادی بھی ان پر عمل کرتے ہیں؟
انسانی حقوق کی حقیقت
دنیا کے تمام انسان، انسان ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ کس مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہیں یا کس قوم و قبیلے سے ان کا تعلق ہے یا کس رنگ و زبان کے حامل ہیں۔ اس بنا پر ایک معمولی مزدور اور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر میں انسان ہونے کے ناطے کوئی فرق نہیں ہے اور یہ دونوں انسانیت کے بنیادی حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں۔
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ
دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد ۱۹۴۸ میں اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کی جانب سے ‘ْ’انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ” منتشر کیا گیا جس میں ۳۰ کلی اصول کو اکثریت آراء کے ذریعے منظور کیا گیا اور یہ اعلان کیا گیا کہ کشتی انسانیت کو ظلم و استبداد کے بھنور سے نجات دلانے کے لیے تمام حکومتوں پر ان کلی حقوق کی رعایت لازمی ہے اور اس کی خلاف ورزی ممنوع اور ناقابل بخشش ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے بعض کلی اصول
اس اعلامیہ میں ۳۰ کلی اصول بیان کیے گیے ہیں جن میں سے ایک دو کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں؛
اصل سوم: ہر انسان کو زندگی، آزادی اور امنیت کا حق حاصل ہے۔
اصل پنجم: کسی بھی انسان کو تشدد، اذیت ازار، غیر انسانی سلوک یا تحقیر آمیز برتاو کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
اصل دوازدہم: کسی کی خصوصی زندگی، گھریلو امور، یا اس کے رہائش سے متعلق امور میں دخالت نہیں ہونا چاہیے کسی کی عزت و آبرو کو حملہ کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ایسی بے جا دخالت اور حملوں کے مقابلے میں قانونی کاروائی ہر انسان کا حق ہے۔
تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کنونشن
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۹۸۴ میں تمام ممالک منجملہ اسرائیل کی اتفاق آراء سے “تشدد کے خلاف کنونشن” منظور کی جس میں یہ طے پایا کہ ہر ملک پر لازمی ہے کہ اپنے دائرہ اختیار کے مطابق تشدد کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرے اور کسی بھی حکومتی عہدیدار یا افیسر کو تشدد آمیز کاروائیوں سے تمسک کا اختیار نہیں ہے۔
اسرائیل کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالی
دنیا میں انتہا پسندی، بربریت اور ظلم و تشدد روا رکھنے والی حکومتوں میں صہیونی حکومت سرفہرست ہے جو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ اور دیگر تمام کنونشنوں کی مخالفت کرتے ہوئے صرف اپنے ذاتی مفاد اور وسعت طلبی کی خاطر فلسطینی عوام حتیٰ خود مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے سیاہ پوست یہودی اقوام کو بھی اکثر تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔
اسرائیل کے ذریعے انجام پانے والی کھلے عام ریاستی دھشتگردی کے چند نمونے
۔ حانین کا قتل عام؛ حانین لبنان کا ایک گاوں ہے۔ اسرائیلیوں نے سن ۱۹۶۷ میں تین مہینے تک اس گاوں کا محاصرہ کر کے اس کے مکینوں کا دردناک طریقے سے قتل عام کیا۔ اور تمام گھروں کو نذر آتش کر دیا۔
۔ اوزاعی کا قتل عام؛ یہ علاقہ لبنان کے دار الحکومت بیروت کے قریب واقع ہے ۱۹۷۸ میں اسرائیل نے اس علاقے پر بمباری کر کے اس علاقے کو زیر و زبر کر دیا۔
۔ خان یونس کا قتل عام؛ یہ علاقہ غزہ کی پٹی میں واقع ہے اور اس علاقے پر دو مرتبہ اسرائیل نے حملہ کیا اور ۷۰۰ سے زیادہ عام لوگوں کا قتل عام کیا۔
۔ صبرا و شتیلا کا قتل عام؛ لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کی ’صبرا‘ اور ’شتیلا‘ کے نام سے دو معروف پناہ گاہیں تھیں جن پر ۱۹۸۲ میں صہیونی ریاست نے حملہ کیا اور تاریخ کی سب سے بڑی جنایت رقم کر دی۔ صہیونیوں نے ان پناہگاہوں کا محاصرہ کیا اور ۴۰ گھنٹوں کے درمیان پناہ گاہوں میں موجود سینکڑوں افراد جن میں عورتیں بچے بوڑھے جوان سب شامل تھے کے خون کی ندیاں بہا دیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ صبرا و شتیلا کے قتل عام میں عورتوں اور لڑکیوں کے قتل سے پہلے اسرائیلی فوجیوں نے انتہائی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عصمتیں لوٹیں، بچوں کو زندہ زندہ جلایا اور ذبح کیا۔ اور حاملہ عورتوں کے شکم پارہ کر کے ان کے بچوں کو نکال کر زندہ زندہ آگ میں ڈال دیا۔
غزہ کی ۵۱ روزہ جنگ انسانی حقوق کی پامالی کا کھلا نمونہ
اگر صہیونی ریاست کے تمام جرائم کو نظر انداز کر دیا جائے تو غزہ کی ۵۱ روزہ جنگ ہی اسرائیل کو عالمی سطح پر مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ سن ۲۰۱۴ میں تین اسرائیلی مغربی کنارے گم ہو جاتے ہیں اور صہیونی ریاست اسی بہانے کے تحت ۵۱ دن تک غزہ پر وحشیانہ بمباری کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اس جارحیت میں ۶ ہزار فضائی حملے کئے جس کے نتیجے میں ۲۲۵۱ عام فلسطینی شہید ہوئے جن میں ۳۰۰ عورتیں اور ۵۵۰ بچے شامل تھے۔ اقوام متحدہ نے زخمیوں کی تعداد ۱۱۲۳۱ بیان کی۔
اقوام متحدہ نے اس جنگ کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا لیکن اسرائیل پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا اس لیے کہ امریکہ اور مغربی ممالک جو زبانی طور پر انسانی حقوق کے علمبردار ہیں نے اسرائیل کو اس جارحیت سے نہیں روکا بالکل اس کا ساتھ دیا۔
یہ تو کھلی جارحیت کے چند نمونے تھے جو اسرائیل نے پوری دنیا کے سامنے دن دھاڑے انجام دئے اور انسانی حقوق کی مدافع عالمی تنظیموں سمیت سب تماشائی بنے رہے۔ اس کے علاوہ وہ کون سا دن ہے جس دن غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں کوئی فلسطینی شہید یا زخمی نہ ہو، سالھا سال سے غزہ کا محاصرہ، پرامن واپسی مارچ پر بہیمانہ انداز سے فائرنگ، اسرائیلی زندانوں میں قیدی فلسطینی زن و مرد کے ساتھ ناروا سلوک وغیرہ وغیرہ سب صہیونی ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کو پاوں تلے روندے جانے کی مثالیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳