ایران کے خلاف امریکی پالیسیاں ریاض اور تل ابیب میں انجام پاتی ہیں: برطانوی نشریہ




اس برطانوی نشریہ نے لکھا ہے کہ محمد بن سلمان اور نیتن یاہو یوں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ امریکی مفاد کے خواہاں ہیں اور اس بنا پر وہ امریکی صدر کو اپنے کنٹرول سے باہر نہیں جانے دیتے لہذا حالیہ سالوں میں ایران کے حوالے سے وہی اقدامات اٹھائے گئے جو تل ابیب اور سعودی عرب کی منشاء کے مطابق تھے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق، برطانوی نشریہ spectator نے  ’’ایران کے خلاف امریکی پالیسیاں کیسے ریاض اور اتل ابیب میں انجام پاتی ہیں؟‘‘  کے زیر عنوان اپنی یادداشت میں امریکہ کی خارجہ پالیسیوں پر صہیونی ریاست اور سعودی عرب کی مکمل چھاپ کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیرون ملکی تمام اقدامات ریاض اور تل ابیب کی خواہشوں پر انجام پائے ہیں۔
اس یادداشت کے شروع میں آیا ہے کہ امریکہ کو خلیج فارس میں جنگ چھیڑنے سے نہ صرف کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ سخت نقصان اٹھانا پڑے گا اور امریکہ کی ایران کے حوالے سے بنیادی پالیسی متقابل احترام پر مبنی ہے لیکن ریاض اور تل ابیب امریکی خارجہ پالیسیوں پر بے حد اثرانداز ہوتے ہیں جس کی بنا پر امریکہ کا لب و لہجہ بدل جاتا ہے۔
اس برطانوی نشریہ نے لکھا ہے کہ محمد بن سلمان اور نیتن یاہو یوں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ امریکی مفاد کے خواہاں ہیں اور اس بنا پر وہ امریکی صدر کو اپنے کنٹرول سے باہر نہیں جانے دیتے لہذا حالیہ سالوں میں ایران کے حوالے سے وہی اقدامات اٹھائے گئے جو تل ابیب اور سعودی عرب کی منشاء کے مطابق تھے۔
اس نشریہ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے پھر کسی حد تک امریکی خود مختاری کا مظاہرہ کیا اور ایران کے جوہری معاہدے کو کامیابی بنانے کی کوشش کی اگر چہ اس دور میں بھی اسرائیل اور سعودی عرب نے کافی غم و غصہ کا اظہار کیا اور شدید مخالفت کی لیکن موجودہ صدر نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر کے صہیونی سعودی منصوبے کو عملی جامہ پہنا دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ اپنی پالیسیوں میں خودمختار نہیں ہے۔

منبع: https://www.spectator.co.uk/2019/07/how-americas-iran-policy-is-shaped-in-riyadh-and-jerusalem/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳