سعودی شہزادے کی اسرائیل سے قربت پر صہیونی ٹی وی کی مفصل رپورٹ





خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے ٹی وی چینل ۱۳ نے بن سلمان کے بارے میں شائع کی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاض گزشتہ دو دہائیوں کے درمیان دھشتگردی کا مرکز رہا ہے اس دھبے کو مٹانے کے لیے ریاض نے اسرائیل کا دامن تھام کر اپنے چہرے پر ماسک چڑھانے کی کوشش کی ہے۔
یہ رپورٹ جس کا عنوان تھا ’’سعودی عرب میں تبدیلی، جہاد سے یہودیوں کے ساتھ دوستی اور اسرائیل کی قربت‘‘، میں کہا گیا ہے کہ دو دہائیاں قبل سعودی عرب مکمل طور پر دھشتگردی کا گڑھ تھا القاعدہ، بن لادن اور داعش جیسے دھشتگرد اس نے تربیت کئے لیکن حالیہ دنوں اس نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔
اسرائیلی رپورٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی پالیسیوں میں تبدیلی آنے کی اصلی وجہ ایران ہے جو علاقے کے لیے خطرہ بن کر سامنے آیا جس کی وجہ سے سعودی عرب کو اسرائیل کی پناہ حاصل کرنا پڑی۔
رپورٹ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ بن سلمان سعودی صحافی جمال خاشقچی کے قتل کے بعد بری طرح نابودی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا لیکن اس نے بہت جلد صحیح فیصلہ لیا اور اسرائیل کا دامن تھام کر خود کر موت کے بھنور سے نکال دیا۔
اسرائیلی رپورٹر نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب میں آنے والی تبدیلی صرف سیاسی نہیں ہے بلکہ مذہبی سطح پر بھی کافی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے اس سے قبل سعودی عرب میں مذہبی رہنما اور علما یہودیوں کو کافر سمجھتے تھے اور یہودیوں کے خلاف انتہاپسندی کی باتیں کرتے تھے لیکن اب وہ ایسا نہیں کرتے اور یہودیوں کو اپنا دوست سمجھتے ہیں لہذا اسرائیل بھی اپنی دوستی کو ثابت کرنے کے لیے جنگ یمن میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
منبع: http://fna.ir/dbalda

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳