BDS تحریک کے خلاف امریکی کانگرنس کا بل منظور





خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق، امریکی کانگرس کے ایوان بالا سینٹ میں اسرائیلی ریاست کے بائیکاٹ کے لیے سرگرم عالمی مہم’ بی ڈی ایس’ کے خلاف ایک نیا بل منظور کیا گیا ہے۔ گذشتہ روز منظور ہونے والے اس بل میں امریکی سینٹ میں ری پبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹس ارکان کے درمیان اختلاف نمایاں دیکھا گیا۔ اگرچہ یہ بل اکثریت کے ساتھ منظور ہوگیا تاہم اس نے یہ واضح‌کردیا ہے کہ واشنگٹن میں صہیونی لابی کافی طاقت ور ہے مگر اس کے باوجود اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت اور مخالفت دونوں طرف آراء موجود ہیں۔

بل کی منظوری کے بعد بائیکاٹ تحریک کے خلاف اقدامات کی راہ ہموار ہوگی جو اسرائیل میں سرمایہ کاری، صہیونی ریاست پرپابندیاں عاید کرنے اور انسانی حقوق کے معاملے میں صہیونی ریاست پردبائو ڈالنے کا مطالبہ کررہی ہے۔

بل پر رائے شماری کے دوران ۳۹۸ ارکان نے حمایت اور ۱۷ نے مخالفت کی۔ مخالفت میں ووٹ دینے والے ۱۶ ڈیموکریٹس ارکان شامل تھے۔ ان میں دو مسلمان عرب ارکان کانگرس الھان عمر اور رشیدہ طلیب بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل بائیکاٹ تحریک ۲۰۰۵ میں دنیا بھر سے ہزاروں ثقافتی، علمی اور سماجی شخصیات کے تعاون سے وجود میں آئی جس کے بعد ۲۰۱۵ میں ایک ہزار سے زیادہ صرف برطانوی شخصیات نے اس تحریک میں حصہ لیا۔  اس وقت پوری دنیا میں سرگرم رکن افراد اسرائیلی مصنوعات پر پابندیاں عائد کئے جانے کی تحریک چلا رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳