فلسطینی اتھارٹی صہیونی ریاست کے سامنے سر نہیں جھکائے گی




فلسطینی اتھارٹی نے نیشنل کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ طے پائے تمام معاہدوں پرعمل درآمد معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے پرعمل درآمد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا کہ ‘وحشیانہ طاقت کے استعمال ارض فلسطین بالخصوص بیت المقدس میں صہیونی ریاست کو اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صہیونی ریاست کے تمام اقدامات غیرآئینی اور باطل ہیں’۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ ہم نے امن عمل سے کبھی انکار نہیں کیا۔ ہم آج بھی کھلے دل کے ساتھ  سنجیدہ اور با مقصد امن مساعی کا خیر مقدم کرتے اوراس میں ہرممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں مگرہم صہیونی ریاست اور اس کی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ ہم قابض ریاست کے ساتھ امن بقائے باہمی کے تحت زندہ نہیں رہ سکتے۔ فلسطینی اتھارٹی سنچری ڈیل جیسی خوفناک سازش کو مسترد کرتی ہے۔ القدس قابل فروخت نہیں اور نہ ہی یہ کوئی جائیداد کا جھگڑا ہے۔

صدر عباس کا کہنا تھا کہ جب تک فلسطینی قوم کو اس کے تمام حقوق فراہم نہیں کیے جاتے اس وقت تک خطے میں دیر پاامن کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ فلسطینی قوم آزادی کی جدو جہد جاری رکھے گی چاہےاس میں زمانے لگ جائیں۔ بالآخر آزادی فلسطینی قوم کا مقدر ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳