۱۶۰ فلسطینی مکانات کی مسماری، صہیونی استبداد کا ایک اور ظالمانہ اقدام




اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ ‘بتسلیم’ کے مطابق سنہ ۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۹ء تک ۱۴۴۰ مکانات مسمار کیے گئے جس کے نتیجے میں ۶۳۳۳ فلسطینی بے گھرہوگئے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں صور باھر کی وادی الحمص کالونی میں فلسطینیوں کے ۱۶۰ رہائشی فلیٹس اور مکانات اسرائیلی فوج نے ایک اجتماعی انتقامی سزا کے آپریشن میں مسمار کردیے جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی بچے، خواتین اور بزرگ کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔ صور باھر اور وادی حمص میں فلسطینیوں کے مکانات مسماری کا یہ پہلا واقعہ نہیں اور شاید آخری بھی نہ ہو۔ یہ ظالمانہ اور نسل پرستانہ طرز عمل برطانوی استبداد کےدور سے چلا آ رہا ہے۔ صہیونی ریاست نے اسی ظلم کو آگے بڑھایا  اور ہزاروں فلسطینیوں کو نہ صرف ان کے گھروں‌بلکہ دیگر املاک اور قیمتی اراضی سے بھی محروم کردیا۔

برطانوی دوراستبداد سے فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری جاری ہے۔ سنہ ۱۹۳۶ء کے انقلاب کے دور میں برطانوی فوج نے صور بارھر، وادی الحمص اور دیگر فلسطینی مقامات میں فلسطینیوں‌کے دو ہزار مکانات مسمارکردیے۔
سنہ ۱۹۴۵ء میں برطانوی حکام نے ایک ہنگامی دفاعی فہرست مرتب کی۔ اسرائیلی فوجی سربراہ کو فلسطینیوں‌ کے مکانات کی مسماری کا پورا اختیار دے دیا گیا۔

تنظیم آزادی فلسطین کے شعبہ تعلقات عامہ کے اعداد و شمار کے مطابق  سنہ ۱۹۶۷ء کے بعد غرب اردن ، مشرقی بیت المقدس اور غزہ میں اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں‌ کے ۲۴ ہزار مکانات مسمار کیے۔
اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ ‘بتسلیم’ کے مطابق سنہ ۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۹ء تک ۱۴۴۰ مکانات مسمار کیے گئے جس کے نتیجے میں ۶۳۳۳ فلسطینی بے گھرہوگئے۔ ان میں تین ہزار بچے شامل ہیں۔

فلسطین میں یہودی آباد کاری کے امور کے ماہر ڈاکٹرخلیل التفکجی نے کہا کہ فلسطینیوں‌کے گھروں کی مسماری کا حالیہ واقعہ کوئی نیا نہیں بلکہ سنہ ۱۹۷۳ء سے جاری ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب اسرائیل میں گولڈامائر کی حکومت تھی تاہم سنہ ۱۹۹۴ء کے بعد سے اس نسل پرستانہ طرز عمل میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ نگار اور عالمی قانون کے ماہر ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے کہا کہ صہیونی ریاست نے مکانات مسماری کےلیے ایسے ایسے مکروہ حربے اور بہانے تراش رکھے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر، یہودی کالونیوں، فوجی کیمپوں اور کئی دوسرے نام نہاد منصوبوں کی آڑ میں فلسطینیوں‌ کے گھر مسمار کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں‌ کے مکانات کی مسماری کے لیے ہنگامی قانون ۱۱۹ کی شق الف سنہ ۱۹۴۵ء‌ میں منظور کی گئی اور اب تک جاری ہے۔
حنا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری نسلی تطہیر کی ایک بدترین شکل ہے جو سنہ ۱۹۴۹ء میں منظور ہونے والے جنیوا قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد،۱۰۳