اسرائیل نسل پرست ریاست اور سعودی عرب خبیث ڈیکٹیٹر شپ ہے: امریکی یہودی سینیٹر




یہودی سینیٹر “برنی سینڈرز” نے امریکی حکومت کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: امریکہ کی پالیسی صرف اسرائیل اور سعودی عرب کی حمایت اور علاقے کے دیگر اہم ممالک سے نفرت پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: امریکی ریاست ‘ورمونٹ” کے یہودی سینیٹر اور ۲۰۲۰ میں امریکہ کے صدارتی انتخابات کے امیدوار “برنی سینڈرز” نے صہیونی ریاست کے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں نسل پرست قرار دیا اور سعودی عرب کو ایک خبیث ڈیکٹیڑ شپ سے تعبیر کیا۔
برنی سینڈرز نے Pod Save America نیوز ایجنسی کو دیئے گیے ایک انٹرویو کے دوران امریکہ کے اندرونی اور بیرونی مسائل پر گفتگو کی۔

انہوں نے امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی کی جانے والے غیر معمولی حمایت کے سلسلے میں کہا: “میں خود اسرائیلی ہوں اور میں نے اسرائیل میں زندگی گزاری ہے میں خود یہودی ہوں اور میرے رشتہ دار اسرائیل میں رہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نیتن یاہو کی سربراہی میں حالیہ سالوں جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ نسل پرستانہ اور انتہا پسندانہ رویے پر مبنی ہیں۔ اس درمیان امریکہ کا کردار اہم ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ جس طریقے سے اسرائیل کی حمایت کرتا ہے ویسے ہی فلسطین اور علاقے کے دیگر ممالک جیسے ایران کی حمایت کرے۔
سینڈرز نے مزید واضح کیا کہ ہماری پالیسی صرف اسرائیل کی حمایت، اسرائیل کی حمایت اور صرف اسرائیل کی حمایت نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ہماری پالیسی علاقے کی حمایت ہونا چاہیے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ سعودی عرب ایک خبیث اور قابل نفرت ڈیکٹیٹر شپ ہے ہمیں اونچی آواز سے یہ بات کہتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں شرم اس بات سے آنا چاہیے کہ ہم سعودی عرب کے تمام جرائم پر پردہ ڈال کر اس کی حمایت کر رہے ہیں، یمن کے خلاف سعودی جنگ میں ہم سعودی عرب کا ساتھ دے رہے ہیں۔
امریکی سینیٹر نے مزید کہا: ہمیں جو کام کرنا چاہیے وہ یہ نہیں ہے کہ ہم کہیں: “ہم سو فیصد اسرائیل کے حامی ہیں، ہم سو فیصد سعودی عرب کے حامی ہیں، ہم فلسطینوں سے نفرت کرتے ہیں” یہ امریکہ کا کردار نہیں ہونا چاہیے ہم جس طریقہ سے اسرائیل کی مدد کرتے ہیں ویسے ہی ہمیں فلسطین کی مدد بھی کرنا چاہیے۔
منبع: http://fna.ir/dbb0t2

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳