عالمی صہیونیت کے مقابلے میں اسلام کی تزویراتی پالیسی




حقیقت یہ ہے کہ ہم نے عوام کے درمیان یہ بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے کہ اسلام کا عیسائیت کے بارے میں کیا نظریہ ہے اور یہودیت کا عیسائیت کے بارے میں کیا نظریہ ہے۔ ان دو موضوعات کی تبلیغ و تفسیر اس بات کا باعث بن سکتی ہے کہ مغربی معاشرے میں صہیونیت کی حقیقت کھل کر سامنے آئے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ ایک اہم ترین کام اور کوشش ہے جو ہمارے لیے نتیجہ بخش ثابت ہو سکتی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق، صہیونی یہودی دنیا کے عام افکار پر اپنا تسلط قائم کر کے پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے پیش نظر عیسائیوں کے ساتھ انہوں نے مذہبی تعلقات برقرار کر کے ان سے کافی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ صہیونی یہودی اگر چہ اندرونی طور پر کسی بھی صورت میں عیسائیوں کے ساتھ مذہبی دوستی کے قائل نہیں ہیں لیکن بظاہر خود کو عیسائیوں کا دوست کہلواتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کا چہرہ بگاڑ کر دنیا میں پیش کریں اور عیسائیوں کو مسلمانوں سے دور کر کے اپنے قریب لانے کی کوشش کریں۔
خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر نے اسی موضوع پر میکسیکو اور اسٹریلیا میں ایران کے سابق سفیر ڈاکٹر “محمد حسن قدیری ابیانہ” کے ساتھ گفتگو کی ہے جس کا ایک حصہ یہاں پر قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
خیبر: عالمی صہیونیت کا مقابلہ کرنے یا اسے کمزور بنانے کے لیے ہمیں کیا اسٹراٹجیک اور تزویراتی پالیسی اپنانا چاہیے؟ آپ کی نظر میں کیا کون کون سے عقلی و منطقی راستے ہیں؟
۔ صہیونی یہودی مغربی ممالک میں اپنا گہرا نفوذ پیدا کر چکے ہیں۔ تقریبا کسی بھی مغربی ملک میں ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص یہودیوں کی مدد کے بغیر کسی سیاسی مقام تک پہنچ سکے۔ صہیونی عرصہ دراز سے دو تزویراتی راستوں کا پیچھا کر رہے ہیں:
الف۔ دنیا کی معیشت اور اقتصاد پر قبضہ
ب۔ میڈیا اور عام افکار پر قبضہ
افسوس کے ساتھ وہ ان دونوں راستوں میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ آج پوری دنیا مخصوصا مغربی ممالک جیسے کینیڈا، اسٹریلیا اور امریکہ کی ثروت صہیونیوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اور میڈیا بھی پرنٹ میڈیا سے لے کر بڑے بڑے ٹی وی چینلز تک سب صہیونیوں کے قبضہ میں ہیں اور اس طریقے سے انہوں نے دنیا کے عام افکار پر اپنا تسلط پیدا کر لیا ہے۔
دنیا میں صہیونیت کو کمزور بنانے کے راستے
صہیونی اپنے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کو عیسائیوں کا دشمن اور یہودیوں کا عیسائیوں کا دوست اور خیرخواہ پہچنوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ اسلام نے حضرت مریم (ع) اور حضرت عیسی (ع) کے لیے قرآن مین کئی معجزات نقل کئے ہیں جو حتیٰ انجیل میں بھی نہیں پائے جاتے۔
کیا عیسائی معاشرے کو خبر نہیں ہے کہ قرآن کریم کا ایک سورہ جناب مریم کے نام پر ہے۔(۱) کیا عیسائیوں کو اس بات کی خبر نہیں ہے کہ یہودی جناب مریم (س) اور جناب عیسیٰ (ع) پر بالکل ایمان نہیں رکھتے؟ بلکہ یہودیوں کی نگاہ میں العیاذ باللہ حضرت عیسی حلال کی اولاد نہیں ہیں۔
عیسائیت کی نسبت اسلام اور یہودیت کا نظریہ
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے عوام کے درمیان یہ بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے کہ اسلام کا عیسائیت کے بارے میں کیا نظریہ ہے اور یہودیت کا عیسائیت کے بارے میں کیا نظریہ ہے۔ ان دو موضوعات کی تبلیغ و تفسیر اس بات کا باعث بن سکتی ہے کہ مغربی معاشرے میں صہیونیت کی حقیقت کھل کر سامنے آئے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ ایک اہم ترین کام اور کوشش ہے جو ہمارے لیے نتیجہ بخش ثابت ہو سکتی ہے۔
یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہودیت صرف ماں سے بیٹے کو میراث میں ملتی ہے (یعنی یہودی صرف وہ ہے جو یہودی ماں کے شکم سے آیا ہو)۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ خداوند عالم نے حضرت عیسی کو حکم دیا تاکہ فرعون کو دین حق کی دعوت دیں۔ اگر فرعون حضرت موسیٰ (ع) کی دعوت قبول کر لیتا تو آپ کے مریدوں میں اس کا شمار ہوتا۔ حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا۔
یا وہ جادو گر جو فرعون کے دربار میں آئے تھے اور حضرت موسیٰ (ع) کے مقابلے میں اپنے سحر و جادو کو استعمال کرنے میں ناکام ہو گئے تھے اور آخر میں حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے اور فرعون کی دھمکیوں کے باوجود اپنے باطل عقائد کو چھوڑ دینے پر رضامند ہو گئے، یہ جادو گر قوم بنی اسرائیل میں سے نہیں تھے لیکن دین حضرت موسیٰ (ع) پر ایمان لے آئے اور فرعون ملعون کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہودیت اصل میں کوئی قوم نہیں ہے بلکہ ایک الہی دین اور آئین تھا جو انحراف کا شکار ہو گیا۔
اس مسئلے پر جتنی زیادہ تحقیق کی جائے اور یہودیوں کے ان باطل عقائد کو برملا کیا جائے اتنا عام افکار کو یہودیوں کی نسبت آگاہ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اس راہ میں ہم فلموں، ڈراموں اور دیگر فنکارانہ آثار سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
پیغمبر اسلام(ص) کا دنیا میں تعارف
یہودی حضرت عیسی(ع) کی آمد سے قبل حضرت موسیٰ(ع) کو اولوالعزم، صاحب شریعت اور آخری نبی مانتے تھے۔ حضرت عیسی (ع) کی آمد کے بعد کچھ یہودی آپ پر ایمان لے آئے بغیر اس کے کہ حضرت موسی (ع) پر ان کے ایمان میں کوئی خلل پیدا ہو۔
حضرت عیسی(ع) کے بعد پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔ اس بات کے پیش نظر کہ بعض یہودی حضرت عیسی(ع) پر ایمان لا چکے تھے یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا ان یہودیوں نے غلط کیا جو حضرت عیسی پر ایمان لائے؟ اور وہ جو حضرت عیسی کو نہیں مانتے تھے اور انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے کیا وہ راہ حق پر تھے؟ اور کیا وہ یہودی اور عیسائی جو حضرت محمد (ص) پر ایمان لائے انہوں نے غلط کیا؟ یہ بات بھی بہت اہم ہے اور ہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ پیغمبر اسلام بھی حضرت موسیٰ(ع) اور حضرت عیسی(ع) کی طرح اللہ کے پیغمبر اور خاتم الانبیاء تھے۔
عیسائیوں کے انحرافی عقائد کو چیلنج کرنا
عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی کا گوشت کھانا اور ان کا خون پینا باعث نجات ہے اور اسی بنا پر ان کے یہاں عشائے ربانی نام کی رسومات پائی جاتی ہیں(۲)۔ اسلام اور اسلام کی خالص تعلیمات ان خرافات کا دقیق اور متقن جواب دے سکتی ہیں جو عیسائیوں کی بیداری کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ توریت میں کچھ ایسے موارد پائے جاتے ہیں جو عیسائیوں اور یہودیوں کے بہت سارے عقائد اور افکار کو منحرف اور باطل ثابت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر توریت میں نقل ہوا ہے: ایسا نہ ہو کہ تم منحرف ہو جاو اور خدا کو مرد، عورت یا جانور کی صورت میں تصویر کشی کرو، (۳) حالانکہ ہم کلیساوں میں خدا کو (باپ، بیٹے اور روح القدس) کی تصویر میں دیکھتے ہیں باپ کو بوڑھے مرد، بیٹے کو سلیب پر چڑھائے گئے جوان اور روح القدس کو کبوتر کی شکل میں دیکھتے ہیں!
توریت میں آیا ہے کہ بیٹے کا گناہ باپ کی گردن پر نہیں ہے، اور باپ کا گناہ بھی بیٹے کی گردن پر نہیں ہے، یہ بات کلیسا کے عقائد کے برخلاف ہے کلیسا اپنا تجارتی بازار گرم کرنے کے لیے کہتی ہے:
تمام انسان گناہگار پیدا ہوتے ہیں، کلیسا کی دلیل یہ ہے کہ انسان آدم اور حوا کی نسل سے ہیں اور چونکہ آدم و حوا گناہگار تھے لہذا تمام انسان گناہگار ہیں اور وہ اس وقت تک بہشت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ اس گناہ سے پاک نہ ہو جائیں اس وجہ سے عیسائی معاشرے میں معصوم بچے کی تعبیر غلط ہے بلکہ ان کے نزدیک دنیا کے تمام بچے گناھگار ہیں!
عیسائیوں میں “غسل تعمید” (Baptism) اسی پیدائشی گناہ سے پاک ہونے کے لیے انجام دیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ پادری جو خود بچوں کے ساتھ بدکاری کرنے کے گناہ میں مبتلا ہو کیسے ایک انسان کو غسل تعمید کے ذریعے پاک کر کے جنت کی سند دے سکتا ہے؟
مسیحیت میں دینی علماء قدرت الہی میں شریک اور انسان اور خدا کے درمیان واسطہ ہیں۔ لیکن اسلام میں علمائے دین صرف رہنما اور رہبر کا کردار ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ کلیسا اپنے پادریوں کے لیے اتنی زیادہ قدرت کے قائل ہیں۔ اور انہیں پیسے دے کر ان سے بخشش کی سند لے لیتے ہیں جبکہ اسلام میں بخشش صرف اللہ سے مخصوص ہے اور فقط خدا ہے جو اپنے بندے کو معاف کر سکتا ہے۔
یہودیوں کے اس عقیدے کہ یہودیت صرف ماں کے ذریعے میراث میں بیٹے تک منتقل ہو سکتی ہے پر اعتراض کرنے سے یہ مناسب فرصت فراہم ہو گی کہ ہم یہودی اور صہیونی افکار کو چیلنج کر سکیں۔
اسلام کے معجزات کا تعارف
توریت اور قرآن کریم میں لشکر فرعون کے دریائے نیل میں غرق ہونے کا واقعہ موجود ہے۔ جبکہ انجیل میں فرعون کے غرق ہونے کے حوالے سے کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ایسے نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی دوسری آسمانی کتاب میں موجود نہیں ہے۔
قرآن کریم میں آیا ہے کہ جب فرعون توبہ کرتا ہے تو خداوند عالم فرعون کی توبہ قبول نہیں کرتا بلکہ فرماتا ہے کہ میں تیرے بدن کو بچا لوں گا اور اسے محفوظ رکھوں گا تاکہ دوسروں کے لیے ہمیشہ عبرت کا نمونہ رہے، لہذا صرف قرآن کریم ہے جو فرعون کی لاش کو دریائے نیل کے ساحل پر پھینک دئے جانے کی خبر دیتا ہے۔(۴)
کچھ سال قبل ماہرین آثار قدیمہ نے مصر کے اہرام کا دورہ کیا اور وہاں فرعون کے جسد کو پایا، انہوں نے اس جسد پر تحقیقات کرنے کے لیے اسے فرانس منتقل کیا۔ تحقیقات اور مطالعات کے بعد ڈاکٹر موریس بوکائلے (Maurice Bucaille) نے اعلان کیا کہ فرعون کی موت کی وجہ دریا میں غرق ہونا تھی۔ یہ یعنی قرآن کا معجزہ۔
اسلام سے قبل توریت، انجیل اور تاریخی کتابوں میں جسد فرعون کے ساحل نیل پر پلٹا دئے جانے کا تذکرہ موجود نہیں تھا، لیکن خداوند عالم نے قرآن کریم میں پہلی بار اس واقعہ کو بیان کیا جبکہ کئی صدیاں اس واقعہ کو بیت چکی تھی اور آج جب کئی سوسال گزرنے کے بعد اس کے جسد پر تحقیق کی جاتی ہے تو قرآن کریم کی حقانیت سامنے آ جاتی ہے۔
فرانسیسی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر موریس بوکائلے کہ جو فرعون کے جسد پر تحقیقات کرنے پر مامور تھے، تحقیقات کے بعد جب اس نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں کہ فرعون کی موت دریا میں غرق ہونے کی وجہ سے واقع ہوئی تو اس نتیجے کے اعلان کے لیے وہ جدہ کا سفر کرتے ہیں اور ایک کانفرنس میں اپنے نتیجے کا اعلان کرتے ہیں۔ کانفرنس میں ان کی تقریر کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کو پیش کیا جاتا ہے جس میں خداوند عالم نے فرعون کے غرق ہونے اور اس کے جسد کو نجات دینے کا تذکرہ کیا ہے۔ جب ڈاکٹر موریس بوکائلے اس آیت کو سنتے ہیں تو اس کانفرنس میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ممکن نہیں پیغمبر اسلام بغیر وحی الہی کے جسد فرعون کے ساحل نیل پر موجود ہونے کے بارے میں خبردار ہو سکیں۔
ڈاکٹر موریس بوکائلے اس واقعہ کے بعد ایک کتاب لکھتے ہیں “انجیل، قرآن اور سائنس” اور اس کتاب میں یوں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کا سائنس انکار کر سکے اور برخلاف بہت سارے ایسے نکات قرآن میں موجود ہیں جنہیں سائنس کے ذریعے ثابت کیا جا سکتا ہے جبکہ انجیل اور توریت کے بہت سارے مطالب کی سائنس منکر ہے۔
میری پیشکش یہ ہے کہ ان مطالب کو جو جسد فرعون پر تحقیق کے حوالے سے پائے جاتے ہیں کو حاصل کریں اور اس طریقے سے قرآن کریم کے معجزات کو دنیا والوں کے لیے بیان کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری/۱۰۳