کیا میں دھشتگرد ہو سکتا ہوں؟





خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، نام نہاد جمہوری ملک ہونے کے دعوے دار صہیونی ریاست کے جرائم اس کے ظالمانہ طرز عمل کو بےنقاب کرنے کے لیے کافی ہیں۔ حال ہی میں اسرائیلی حکام نے ۴ سالہ محمد علیان کو ‘دہشت گرد’ قرار دے کر اسے حراستی مرکز میں پیشی کا نوٹس جاری کیا تو یہ خبر پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

اس خبر نے صہیونیوں کو پوری دنیا میں بری طرح بے نقاب اور بدنام کیا مگر غاصب صہیونی ریاست کے لیے یہ کوئی عجوبے کی بات نہیں کیونکہ اس طرح کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ دو روز قبل ۴ سالہ محمد علیان کو اشتہاری قرار دے کر اسے طلب کیا گیا تو گذشتہ روز ایسا ہی ایک نوٹس ۶ سالہ محمد قیس کو تھما دیا گیا۔

القدس کے عیسویہ قصبے کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ صہیونی حکام نے ۶ سالہ قیس کے سالہ قیس کے والدین کو ایک نوٹس ارسال کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ قیس کو ساتھ کرآج بدھ کو مقامی وقت کے مطابق ۸ بجے القدس کے ایک حراستی مرکز میں پیش ہوں۔

دوسری جانب فلسطینی بچوں کو ہراساں کرنے کی مجرمانہ صہیونی پالیسی کے خلاف سوشل میڈیا پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ٹویٹر پر’ہیش ٹیگ ۔ طفولت کے عنوان سے جاری مہم کے تحت فلسطینی بچوں کے خلاف صہیونی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل اسرائیلی حکام نے ۴ سالہ محمد ربیع علیان کو اس کے والدین کے ہمراہ حراستی مرکز میں طلب کیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے صہیونی ریاست کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۴