اسرائیل نواز ایچ پی (HP) کمپنی سے بائیکاٹ تحریک میں لاکھوں افراد شامل




ہندوستان میں اسرائیل بائیکاٹ تحریک کی رہنما محترمہ اپوروا گوتم (Apoorva Gautam) نے کہا: اگر اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے صرف ۱۰ فیصد ممبرز ایچ پی کی مصنوعات خریدنا بند کر دیں تو آئندہ سال میں ایچ پی کمپنی کو ۱۲۰ ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، برطانیہ کی دوسری بڑی یونین unite the union ایک ملین دو لاکھ سے زائد ممبرز کے ساتھ ایچ پی کمپنی سے بائیکاٹ تحریک کے ساتھ شامل گئی ہے۔
ہالینڈ کی بھی سب سے بڑی یونین FNV نے بھی رواں سال اپریل کے مہینے میں اعلان کیا کہ ہم ایچ پی کمپنی سے بائیکاٹ کا اس لیے اعلان کرتے ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات اسرائیلی فوج کو فروخت کرتی ہے جو فلسطین میں مظلوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں۔
بی ڈی ایس تحریک نے بھی چند روز قبل اعلان کیا کہ اسٹوڈینٹ فیڈریشن آف انڈیا (SFI) بھی فلسطین کی حمایت میں ۴ ملین ممبرز کے ساتھ ایچ پی بائیکاٹ تحریک میں شامل ہو چکی ہے۔ (۱)
ہندوستان میں اسرائیل بائیکاٹ تحریک کی رہنما محترمہ اپوروا گوتم (Apoorva Gautam) نے کہا: اگر اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے صرف ۱۰ فیصد ممبرز ایچ پی کی مصنوعات خریدنا بند کر دیں تو آئندہ سال میں ایچ پی کمپنی کو ۱۲۰ ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
Apoorva Gautam: HP would lose a student market of over $120 million if only 10% of the students federation’s membership boycotts HP. This is enormously significant.
ایچ پی کے خلاف عالمی ہفتہ
تین ہفتے قبل بی ڈی ایس تحریک نے اپنے تمام اراکین اور دنیا بھر میں ایچ پی بائیکاٹ تحریک چلانے والوں کو اعلان کیا کہ ۱۰ سے ۱۵ جولائی تک ای پی کمپنی کو فلسطین کی حمایت کا پیغام ارسال کریں۔ اس تحریک نے ایچ پی کو اپنے پیغامات ارسال کرنے کے راستے اور ان کے ایمیل ایڈرس بھی دکھلائے ہیں۔(۲)
یاد رہے کہ ۲۰۱۶ میں امریکی صدر مقام واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہیولٹ پیکرڈ کمپنی کے سامنے بڑی تعداد میں امریکیوں نے مظاہرہ کر کے اس کمپنی سے مطالبہ کیا تھا کہ صہیونی حکومت کے ساتھ تمام قراردادوں کو منسوخ کردے۔

خیال رہے کہ جب ۵۰ سال قبل عالمی استکبار کے خلاف قیام کا پرچم ایران کے شہر قم کی سرزمین سے امام خمینی رہ کی رہبری بلند ہوا تو کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ دنیا کے کونے کونے سے کروڑوں لوگ اس پرچم کے تلے جمع ہو کر ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ لیکن آج جب ظلم و تشدد اور عالمی سامراج کے خلاف دنیا کے چپے چپے سے صدائے احتجاج اٹھتی ہوئی نظر آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا عدل و انصاف کی پیاسی ہو چکی ہے اور خواستہ نخواستہ ایک ایسے “منجی” کی انتظار میں ہے جو عدل و انصاف کے پرچم تلے انہیں اکٹھا کرے اور دنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ کرے۔

[۱] https://bdsmovement.net/news/hewlett-packard-hp-faces-120-million-potential-losses-due-its-complicity-israels-violations
[۲] https://bdsmovement.net/news/join-global-bds-week-action-against-hp