موشے دایان سینٹر Moshe Dayan Center کا تعارف




۱۹۶۴ میں اس سینٹر نے تل ابیب یونیورسٹی کے ساتھ اپنا تعاون شروع کر لیا اور اس سینٹر کے سیکیورٹی افیسرز تل ابیب یونیورسٹی میں اپنی تحقیقات پیش کرتے تھے۔ ۱۹۸۳ میں تل ابیب یونیورسٹی نے اس سینٹر کو یونیورسٹی کا حصہ بنا لیا اور اس کا نام بدل کر ’’موشے دایان‘‘ سینٹر رکھ دیا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: موشے دایان سینٹر(Moshe Dayan Center (MDC) کی بنیاد سنہ ۱۹۵۹ میں رکھی گئی اور ۱۹۸۳ میں اسے تل ابیب یونیورسٹی میں شامل کر لیا گیا۔ بعد از آں، پنسیلونیا یونیورسٹی (Pennsylvania ) نے ۲۰۱۴ میں اس سینٹر کو مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے ۳۳ ویں اہم تحقیقی سنٹروں میں قرار دے دیا۔ (۱)
مغربی ایشیا کے حالات پر تسلط رکھنے والے محققین جو فارسی، عربی، عبرانی، ترکی اور کردی زبانوں سے آشنا ہوں اس سینٹر میں مصروف تحقیق ہوتے ہیں۔ ۱۸۷۷ سے لے کر آج تک کے تمام عربی اخباروں کے آرکائیوز اس سینٹر میں موجود ہیں جو محققین کے اختیار میں دئے جاتے ہیں۔ ۲۰۱۴ میں اس سینٹر نے امریکہ کی یونیورسٹی ویسکونسین (Wisconsin) کے ساتھ یہودیت سے متعلق موضوعات پر تحقیقات کرنے کے لیے پانچ سالہ تعاون کا معاہدہ کیا۔
موشہ دایان سینٹر کی سرکاری ویب سائٹ؛  https://dayan.org
ہر سال دنیا کی مختلف زبانوں میں کتابیں اس سینٹر سے چھپتی ہیں۔ ایران کے سلسلے میں چھپنے والی کتابوں میں سے دو کتابیں یہ ہیں:
الف ۔ ایران اور اسرائیل کے تعلقات ۱۹۴۸ سے لیکر ۱۹۶۳ تک
تالیف؛ ڈورن اٹزہاکو، سن طباعت ۲۰۱۹

ب؛ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان طاقت کا توازن
تالیف؛ ٹیمر یگنیس، سن طباعت ۲۰۰۸

ہر مہینے ۸ تجزیاتی رسالے اس سینٹر سے شائع ہوتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
۔ Tel Aviv Notes – Contemporary Middle East Analysis)


۔ Bayan – The Arabs in Israel


۔ Bustan


۔ Middle East Newsbrief

تاریخچہ
اس سینٹر کی تاسیس کا سب سے پہلے آئیڈیا موساد کے سب سے پہلے سربراہ ’’رووین شیلاوہ‘‘ نے دیا تھا۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں اس کی بنیاد ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کی موت کے تیس دن بعد ان کی یاد میں منائی گئی تقریب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے آفیس کے سربراہ ’’ٹیڈی کولیک‘‘ نے موساد کے سابق سربراہ کے نام اس سینٹر کی بنیاد رکھنے کا اعلان کر دیا۔
کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اسرائیل کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور اسرائیل اورینٹل سوسائٹی (Israel Oriental Society) کے باہمی تعاون سے یہ سینٹر معرض وجود میں آگیا۔ موساد کے سکیورٹی افیسر ’’اسحاق اورن‘‘ کو اس تحقیقی سینٹر کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا۔(۶) ہاآرتض اخبار کے مطابق ۱۹۶۰ کی دہائی تک جو محققین اس سینٹر میں کام کرتے تھے اپنی سرگرمیوں کو زیادہ تر خفیہ رکھتے تھے۔ اور خود کو محققین پہچنوانے کے بجائے اس سینٹر کے ملازمین ظاہر کرتے تھے۔ (۷) صہیونی ریاست کے سب سے پہلے وزیر اعظم نے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے بارے میں متعدد بار اس سینٹر سے مشورہ کیا۔
۱۹۶۴ میں اس سینٹر نے تل ابیب یونیورسٹی کے ساتھ اپنا تعاون شروع کر لیا اور اس سینٹر کے سیکیورٹی افیسرز تل ابیب یونیورسٹی میں اپنی تحقیقات پیش کرتے تھے۔ ۱۹۸۳ میں تل ابیب یونیورسٹی نے اس سینٹر کو یونیورسٹی کا حصہ بنا لیا اور اس کا نام بدل کر ’’موشے دایان‘‘ سینٹر رکھ دیا۔
موشہ دایان سینٹر کے سربراہ


’’اوزی رابی‘‘ اس سینٹر کے سربراہ ہیں وہ تل ابیب یونیورسٹی میں مطالعات ایران کے پروفیسر تھے۔ ان کی تحقیقات مشرق وسطیٰ کی حکومتوں اور معاشروں کے حالات، ایران اور عرب ریاستوں کے تعلقات، مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر، اہل سنت اور اہل تشیع کے اختلافی مسائل جیسے موضوعات سے مخصوص ہیں۔ (۸)
انہوں نے مذکورہ موضوعات پر کئی کتابیں اور رسالے لکھے ہیں مثال کے طور پر:
۔ The Shi’ite Crescent: An Iranian Vision and Arab Fear)
(The Persian Gulf and the Arabian Peninsula: States and Societies in Transition).
۔
حواشی

[۱] ۲۰۱۴ Global Go To Think Tank Index Report, page 86
[۲] https://dayan.org/journal/tel-aviv-notes-contemporary-middle-east-analysis
[۳] https://dayan.org/journal/bayan-arabs-israel
[۴] http://www.psupress.org/Journals/jnls_Bustan.html
[۵] https://dayan.org/content/middle-east-newsbrief
[۶] The Disenchantment of the Orient: Expertise in Arab Affairs and the Israeli, Page 279

[۷]  https://www.haaretz.com/.premium-ben-gurion-grasped-the-nakba-s-importance-1.5243033#article-comments

[۸] https://dayan.org/author/uzi-rabi