صہیونیت مخالف تحریکیں امریکہ میں اسرائیلی مرکز کو بند کروانے میں ہوئیں کامیاب




اسرائیل مخالف تحریکیں امریکہ میں صہیونی لابی کے ایک بڑے مرکز کو بند کروانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ‘العربی الجدید’ نیوز ایجنسی نے خبر دی ہے کہ امریکہ میں واقع “اسرائیل پروجیکٹ” مرکز کے سربراہ ”جوش بلاک” نے کہا ہے کہ اس مرکز کو ملنے والی امداد بطور کلی بند کر دی گئی ہے اور عملی طور پر اس مرکز میں کوئی بھی سرگرمی انجام نہیں پا رہی ہے۔
خیال رہے کہ اس مرکز کی اصلی سرگرمیاں اسرائیلی مفادات کے دفاع میں لکھنے والے صحافیوں، قلم کاروں اور لکھاریوں کی حمایت کرنا تھیں لیکن جو صحافی اور اخبار اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف قلم اٹھاتے تھے انہیں اس مرکز کی جانب سے مختلف طرح کے حملوں اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
”اسرائیل پروجیکٹ” مرکز ۲۰۰۲ میں تاسیس کیا گیا جس کا مقصد صہیونی ریاست کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں سرگرم اخباروں اور روزناموں کو امداد فراہم کرنا تھا۔ امریکہ کے ڈیموکریٹس یہودی براہ راست اس کی حمایت کرتے تھے لیکن حالیہ سالوں اسرائیل بائیکاٹ کی مختلف تحریکوں نے جہاں اور کئی اسرائیلی تجارتی مراکز کو بھاری نقصان سے دوچار کیا ہے وہ اسرائیل کو اس ثقافتی مرکز کا دروازہ بند کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔
امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر “اریک اولٹرمن” نے گزشتہ ہفتے نیویورک ٹائمز میں شائع  کردہ اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ امریکی یہودی معاشرے میں اسرائیل کے ایک نسل پرست ملک میں تبدیل ہونے کے خوف کی وجہ سے اسرائیل مخالف تحریکیں وجود میں آئی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “اسرائیل پروجیکٹ” جیسا مرکز اسرائیل مخالف یہودی تحریکوں کے حملوں کا پہلا نشانہ رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳