اشک آور گیس کے گولے اسرائیلی فوج کا آلہ قتل!




خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آنسوگیس کا مظاہرین کے خلاف استعمال مہلک ثابت نہیں ہوتا مگر صہیونی فوج پرامن فلسطینی مظاہرین کے خلاف جس نوعیت کی آنسوگیس کی شیلنگ کرتی ہے وہ انتہائی تباہ کن ہے۔ اس کا اعتراف اسرائیل میں کام کرنے والے […]



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آنسوگیس کا مظاہرین کے خلاف استعمال مہلک ثابت نہیں ہوتا مگر صہیونی فوج پرامن فلسطینی مظاہرین کے خلاف جس نوعیت کی آنسوگیس کی شیلنگ کرتی ہے وہ انتہائی تباہ کن ہے۔ اس کا اعتراف اسرائیل میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے ایک گروپ ‘بتسلیم’ نے بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہفتہ وار حق واپسی ریلیوں پر اسرائیلی فوج اندھا دھند آنسوگیس کا استعمال کرتی ہے جس کے نتیجے میں مظاہرین شہید اور زخمی ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں ۳۰ مارچ ۲۰۱۸ء سے فلسطینی شہری اپنے وطن میں واپسی اور غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کی اس پرامن تحریک کو دبانے کے لیے اسرائیلی ریاست طاقت کے وحشیانہ حربے استعمال کرتی ہے۔ فلسطینیوں پر براہ راست گولیاں چلائی جاتی ہیں اور ان پربےتحاشا آنسوگیس کی شیلنگ کی جاتی ہے۔ بعض اوقات آنسوگیس کی شیلنگ کے لیے ڈرون طیارے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی اندھا ھند شیلنگ کے نتیجے میں اب تک ۳۰۰ فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہونے والے سیکڑوں فلسطینی بدستور اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ ‘بتسلیم’ کے مطابق اسرائیلی فوج فلسطینی مظاہرین کوکچلنے کے لیے آنسوگیس کے مہلک گولوں کا استعمال کرتی ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فلسطینی مظاہرین کی اموا ہو رہی ہیں یا وہ شدید زخمی ہونے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپاہج ہوجاتے ہیں۔

فلسطین میں انسانی حقوق کے مرکز ‘اوچا’ کے مطابق اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کی شیلنگ سے ۷ ایسے فلسطینی بھی شہید ہوئے ہیں جن کے چہروں پر آنسوگیس کے گولے لگے یا ان کے سر مارے گئے۔ ان میں چار کم عمر بچے ہیں۔

اشک آور گیس کے گولے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک نام نہاد حربہ ہے مگر حقیقت یہ ہےکہ یہ ہتھکنڈہ فلسطینیوں کوشہید اور زخمی کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ اسرائیلی فوجی بعض اوقات ایک سو میٹر یا چند سو میٹر کےفاصلے سے آنسوگیس کی شیلنگ کرتے ہیں۔

اسرائیلی انسانی حقوق گروپ بتسلیم کے مطابق آنسوگیس کی شیلنگ سے فلسطینی مظاہرین کو براہ راست نشانہ بنا کر مارا جاتا ہے اور یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔

بتسلیم کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے علاوہ غرب اردن میں بھی فلسطینی مظاہرین کو اسی طرح خطرناک نوعیت کی آنسوگیس کی شیلنگ سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی فوج کی اشک آور گیس کی شیلنگ سے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں دو فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی انسانی حقوق گروپ کے اعدادو شمار کے بعد مرکزاطلاعات فلسطین نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی فوج کس طرح غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین کو کچلنے کے لیے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اشک آور گیس کی  شیلنگ قانون اوراخلاقیات کے خلاف ہے مگر صہیونی فوج ایک عرصے سے اس مجرمانہ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

غزہ کی ۳۱ سالہ حنان بو طیبہ کا کہنا ہےکہ ۳۱ مئی کو حد فارص ل کے قریب فلسطینی شہری احتجاجی مظاہرے کررہے تھے کہ  اس دوران اسرائیلی فوجی نےان پر آنسوگیس کے لگاتا چار گولےداغے۔

اس نے بتایا کہ میرے قریب ہی ایک نوجوان محمد کھڑا تھا ایک آنسوگیس کا شیل اس کےسرمیں لگا اور اس کی کھوپڑی کےاندر گھس گیا۔ اسے شدید زخمی حالت میں وہاں سے اٹھایا کر اسپتال لے جایا گیا۔

زخمی محمد فسفیس نے بتایاکہ آنسوگیس کا گولہ لگنے سے میں بے ہوش ہوگیا۔ جن مجھے ہوش آیاتو میں اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں تھا۔ میں نے اپنے پاس اپنے والد کو دیکھا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے پہچانا تو میں نے ہاں میں جواب دیا۔ اگلے روز مجھے اعصابی سرجری کے وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ میرےجسم کا دایاں نصف مفلوج ہوگیا ہے۔ میں بہت زیادہ خوف زدہ تھا مگر اگلے روز میں نے اپنے جسم کے بعض حصوں کو حرکت دینا شروع کردی۔ سخت تکلیف کے باوجود میں بہتری محسوس کررہا تھا اور اس بہتری سے میں بہت خوش ہوا۔

اس نے بتایا کہ آنسوگیس کا شیل لگنے سے میرے سر میں اتنا بڑا زخم تھا کہ اس میں ۱۳ ٹانکے لگے۔

رواں سال کے دوران آنسوگیس کی شیلنگ سے غزہ میں شدید زخمی ہونے والوں میں امدادی کارکن محمد ابو جزر بھی شامل ہیں۔ ابوجزر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ۳۰ میٹر کے فاصلے سے اس پر آنسوگیس کی شیلنگ کی جب کہ ایک دوسرے امدادی گروپ پر ۲۵ میٹر کے فاصلے سے آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی۔ ۲۲ فروری ۲۰۱۹ء کو غزہ میں اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہونے والے ۲۲ سالہ بسام صافی کو بھی سرمیں آنسوگیس کا گولہ مارا گیا۔ سرمیں آنسوگیس کا گولہ لگنے سےاس کی ایک آنکھ چلی گئی۔ ۲۳ سالہ منیب ابو حطب فوٹو گرافر صحافی ہے جسے مظاہرین کی کوریج کرتے ہوئے چہرے پر آنسوگیس کا شیل مارا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳