مسلم بن عقیل علیہ السلام کی شخصیت




خیبر تجزیاتی ویب گاہ:- حضرت مسلم انسانی اور اخلاقی اقدار کے عروج پر تھے اور اگر کوئی انہیں پہچاننا چاہے تو ان تمام فضائل سے رجوع کرنا پڑے گا جن میں سے ہر ایک پر علمائے اخلاق نے مفصل کتب تحریر کی ہیں: تقوی، شجاعت و بےباکی، علم و مروت، اطاعت امام وقت وغیرہ۔ – […]



خیبر تجزیاتی ویب گاہ:- حضرت مسلم انسانی اور اخلاقی اقدار کے عروج پر تھے اور اگر کوئی انہیں پہچاننا چاہے تو ان تمام فضائل سے رجوع کرنا پڑے گا جن میں سے ہر ایک پر علمائے اخلاق نے مفصل کتب تحریر کی ہیں: تقوی، شجاعت و بےباکی، علم و مروت، اطاعت امام وقت وغیرہ۔
– اہلیان کوفہ کے نام امام حسین علیہ السلام کا خط کچھ یوں ہے:
“مِنَ اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَى اَلْمَلَإِ مِنَ اَلْمُسْلِمِينَ وَاَلْمُؤْمِنِينَ – أَمَّا بَعْدُ … وَإِنِّي بَاعِثٌ إِلَيْكُمْ أَخِي وَاِبْنَ عَمِّي وَثِقَتِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي مُسْلِمَ بْنَ عَقِیلٍ؛ حسین بن علی کی طرف سے مؤمنین اور مسلمین میں سے معززین کے نام ۔۔۔ اور اپنے بھائی، اپنے چچا راد اور میرے خاندان میں سے اپنے “ثقہ” (قابل اعتماد فرد) “مسلم بن عقیل” کو آپ کی طرف روانہ کررہا ہوں”۔ اگرچہ مسلم(ع) سیدالشہداء کے قریبی اور چچا زاد تھے، امیرالمؤمنین علیہ السلام کے داماد اور رقیہ بنت امیرالمؤمنین کے شریک حیات تھے لیکن ہر کوئی ائمہ کا “ثقہ” نہیں بن سکتا اور مسلم(ع) کو امام(ع) نے اپنا “ثقہ” قرار دیا ہے۔
* اگر خون کے لحاظ سے کوئی خاندان عصمت سے قربت رکھتا ہو تو ضروری نہیں ہے کہ افکار کے لحاظ سے بھی اس خاندان سے قرابت رکھتا ہو لیکن یہاں خون بھی ایک ہے اور فکر بھی ایک ہے جس کے باعث سیدالشہداء(ع) نے انہیں اپنا بھائی قرار دیا اور فرمایا “إِنِّي بَاعِثٌ إِلَيْكُمْ أَخِي” جو روجانی اور فکری قرابت کی علامت ہے۔
* سیدالشہداء(ع) فرماتے ہیں “ثِقَتِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي”؛ اگر کوئی کسی کو کسی آبادی کی طرف بھجوانا چاہے وہ بھی کوفہ جیسی آبادی جو مختلف قبائل کا مجموعہ ہے اور ہر قبیلے کی اپنی سوچ اور اپنا عقیدہ ہے، جہاں جزوی اکثریت اہل تشیّع کی ہے اور ان میں سے بہت زیادہ معاویہ کے پیروکار ہیں، تو ایک شخص کو سفارت کے تمام پہلؤوں جیسے علمیت، انتظامی صلاحیت اور شجاعت کا حامل ہونا چاہئے۔
* بعض مقاتل اور تواریخ میں ہے کہ کئی لوگ سیدالشہداء(ع) کے پاس ایسے تھے جو مسلم(ع) سے عمر میں بڑے اور زیادہ تجربہ کار تھے لیکن آپ نے مسلم کا انتخاب کیا اور جب مسلم(ع) نے حکم میں کچھ تبدیلی کرنا چاہی تو سیدالشہداء(ع) نے فرمایا: وہی کرو جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے۔ اور اگر کوئی اور ہوتا تو آپ اسے روک کر کسی اور کو بھجواتے جیسا کہ شب عاشور امام(ع) نے اپنے اعوان و انصار سے اپنی بیعت اٹھا لی!
* تو حقیقت یہ ہے کہ مسلم(ع) ثابت قدمی، تقوی، شجاعت اور علمیت کی بنیاد پر اس مشن کے لئے منتخب ہوئے اور یہ مسئلہ عبارت “و ثقتی من اهل بیتی” سے بخوبی واضح ہے، یعنی میں ایسے شخص کو تمہاری طرف روانہ کر رہا ہوں جو میرا قابل اعتماد بھائی ہے اور جو بھی کہے صحیح اور میرے لئے قابل قبول ہے اور اس کے قول و قعل میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ہے۔
* سیدالشہداء(ع) اس خط میں لکھتے ہیں:
فَإِنْ کَتَبَ اِلَیَّ أَنَّهُ قَدِ أجْمَعَ رَأْيُ مَلَئِكُمْ وَ ذَوِي الْحِجی وَاَلْفَضْلِ مِنْكُمْ عَلَى مِثْلِ مَا قَدِمَتْ بِهِ رُسُلُكُمْ وَ قَرَأْتُ كُتُبَكُمْ قَدمْتُ عَلَيْكُمْ؛ اگر انھوں نے مجھے لکھا کہ انھوں نے تم میں سے معززین، شرفاء اور عقلاء کی رائے اسی طرح پابرجا اور متفق ہے ـ جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے ایلچیوں نے مجھے بتایا تھا اور میں نے تمہارے مکاتیب اور مراسلوں میں پڑھا تھا ـ تو میں تمہاری طرف آؤں گا”۔ یعنی اگر حضرت مسلم مجھے لکھ لیں تو میں قبول کروں گا۔
* امام حجۃ اللہ ور ثقۃ اللہ ہیں اور امام گواہی دیتے ہیں مسلم ان کے نزدیک ثقہ ہیں۔ گویا مسلم بن عقیل نے بڑی محنت کرکے یہ درجہ حاصل کرلیا ہے کہ امام معصوم ان کے سلسلے میں ایسے الفاظ بروئے کار لاتے ہیں اور بہت کم ہیں ایسے افراد جن کے بارے میں ائمۂ معصومین نے فرمایا ہو کہ “یہ ہمارے ثقہ ہیں”۔ ہر امام کے اصحاب میں چند افراد امام کے نزدیک ثقہ ہوتے تھے اور امام حسین علیہ السلام کے ایک ثقہ مسلم ہیں اور وہ بھی سیدالشہداء کے افراد خاندان میں سے، جو آپ پر اپنی جان نچھاور کرتے تھے چنانچہ آپ نے انہيں اس سفارتکاری کے لئے اپنے دوسرے اصحاب پر مقدم رکھا۔
* مسلم بن عقیل(ع) کی علمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ سیدالشہداء علیہ السلام نے انہیں اپنا نائب اور سفیر بنا کر ایسے شہر کی طرف روانہ کیا جہاں افکار و آراء بھی مختلف اور قبائل اور عشائر بھی مختلف تھے اور ایک ایسے افراد کو امام کا سفیر ہونا چاہئے تھا جو کتب و سنت کا عالم ہو اور ہمہ جہت اور جامع الشرائط مجتہد ہو اور لوگوں کو شرعی مسائل سے آگاہ کرسکے اور عقائد کی تعلیم دے سکے اور احیاء دین میں نائب امام کے عنوان سے کردار ادا کرسکے۔
* تقوی کے لحاظ سے مسلم(ع) اتنے عظیم تھے کہ گوکہ ہزاروں درہم و دینار کے عطیئے جہاد کی تقویت کے لئے ان کے پاس جمع ہوئے تھے لیکن وہ خود ۷۰۰ درہم کے مقروض ہوجاتے ہیں لیکن جمع شدہ رقم کو ہاتھ نہیں لگاتے اور بوقت شہید ملعون عمر بن سعد کو وصیت کرتے ہیں کہ میری تلوار اور زرہ کو بیچ کر یہ رقم ادا کرنا۔
* شجاعت کے لحاظ سے حضرت مسلم کا کردار حیرت انگیز ہے یہاں تک کہ تن تنہا خبثاء اور اشقیائ کی صفوں کے سامنے لڑتے ہیں اور انہیں لڑنے سے عاجز کردیتے ہیں اور ابن زیاد کے فوجی دستے کے سرغنے نے اسے پیغام بھیجا: “کیا سمجھتے ہو کہ ہمیں تم نے کوفہ کے ایک کریانہ فروش کی جنگ پر بھیجا ہے؟ ہم مسلم بن عقیل کے آگے صف آرائی سے عاجز ہیں”۔
* مسلم بن عقیل کی ایک فضیلت ابن مرجانہ عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ مختصر مناظرے سے ہویدا ہوجاتی ہے۔ شہادت اور مسلم کے درمیان لمحوں کا وقفہ تھا جس کے دوران عبیداللہ بن زیاد کے کوفہ پر تسلط اور اپنی حیلہ گری اور مکاری کی افادیت کے دعوے کا جواب آیات قرآنی اور تعلیمات و احکامات رسول(ص) و آل رسول(ع) کی روشنی میں دیا اور بنی امیہ کی فاسد اور پلید حکمرانی کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا اور حاضرین پر حجت تمام کردی۔
* جب تک تاریخ تاریخ رہے گی اور یہ دنیا قائم رہے گی مسلم بن عقیل کی شخصیت آسمان ولایت و امامت کے تابناک ستارے کے طور پر چمکتی رہے گی کیونکہ وہ اللہ کی طرف جانے والے راستے پر گامزن ہوئے اور ہم سب کے لئے مثالی نمونہ بنے اور ہمیں سکھایا کہ انسان کو مکتب ولایت میں کس طرح کا کردار ادا کرنا چاہئے؟ انھوں نے ہمیں سکھایا کہ راہ حق میں جان و مال و اقتدار کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے اور کوتاہی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ [مسلم نائب امام تھے اور کچھ لوگوں نے بےوفائی کی ان سے جس کے نتیجے میں امام کی شہادت ہوئی، ہمیں اس عبرتناک کوفی کردار سے سبق سیکھ لینا چاہئے اور جان لینا چاہئے کہ ہمارا زمانہ بھی کوفہ میں مسلم بن عقیل کی موجودگی کے دور سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے]۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: استاد رضا معدنی
مترجم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰۱