اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور




بقلم صابر ابو مریم خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: یہ سنہ ۲۰۰۰ء کی بات ہے کہ جب اٹھارہ سال کی مسلسل جدوجہد اور مزاحمت کے نتیجہ میں اسرائیل لبنان کی سرزمین سے اپنا قبضہ ختم کرکے فرار اختیار کر رہا تھا۔ یہ فرار کسی معاہدے یا عالمی طاقتوں کی ضمانت کے نتیجہ میں ہرگز نہیں تھا […]



بقلم صابر ابو مریم

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: یہ سنہ ۲۰۰۰ء کی بات ہے کہ جب اٹھارہ سال کی مسلسل جدوجہد اور مزاحمت کے نتیجہ میں اسرائیل لبنان کی سرزمین سے اپنا قبضہ ختم کرکے فرار اختیار کر رہا تھا۔ یہ فرار کسی معاہدے یا عالمی طاقتوں کی ضمانت کے نتیجہ میں ہرگز نہیں تھا بلکہ یہ فلسطین و لبنان کی مشترکہ جدوجہد آزادی کی جنگ لڑنے والے گوریلا مجاہدین کی مزاحمت کا ثمر تھا، جو نہ صرف لبنان میں اسرائیلی قابض افواج کے خلاف جدوجہد کرتے تھے بلکہ موقع ملتے ہی سرحد کے دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں جا کر بھی مزاحمت کے جوہر دکھاتے تھے۔ اس مزاحمت کی بہترین بات یہ تھی کہ اس میں جہاں مسلمانوں کے شیعہ و سنی فرقہ کے نوجوان موجود تھے، وہاں لبنان و فلسطین کے عیسائی اور دروز سمیت دیگر مذاہب و مسالک بھی شریک تھے، جن میں لیلیٰ خالد، جارج حبش، سمیر قنطار اور بہت سے دیگر افراد تھے، جنہوں نے تحریک آزادی فلسطین اور لبنان پر صہیونی افواج کے تسلط کے خلاف جدوجہد میں قربانیاں دیں، اسیر ہوئے بعد ازاں رہا ہوئے اور پھر شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔

سنہ ۲۰۰۰ء میں جب اسرائیل لبنان سے اپنا تسلط ختم کرکے اس حال میں فرار ہوا کہ اپنا سارا فوجی ساز و سامان تک جنوبی لبنان کے علاقوں میں چھوڑ گیا۔ اس عظیم الشان فتح کا جشن مناتے ہوئے اس وقت لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا تھا کہ ’’خدا کی قسم! اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔“ یہ خود اسرائیل سمیت دنیا میں اسرائیل کی حامی حکومتوں کے لئے پہلا موقع تھا کہ جب دنیا کے سامنے غاصب اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم مٹھی بھر جوانوں کی مزاحمت نے خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا اور دنیا کو بتا رہے تھے کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے۔

اسی طرح کا ایک موقع تاریخ میں سنہ ۲۰۰۶ء میں دہرایا گیا، جب اسرائیل نے اپنے دو قید کئے گئے فوجیوں کی بازیابی کے نام پر لبنان پر جنگ مسلط کر دی اور یہ جنگ امریکہ و اسرائیل کے اعلانات کے مطابق فقط ایک سے دو روز میں امریکہ اور اسرائیل کے طے کردہ مقاصد کے حصول پر ختم ہونا تھی، ان مقاصد میں سرفہرست حزب اللہ کی قید سے دو صہیونی فوجیوں کی بازیابی کے ساتھ ساتھ لبنان میں حزب اللہ کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنا تھا، تاکہ آئندہ حزب اللہ کا کوئی وجود باقی نہ رہے۔ یہ جنگ امریکی و اسرائیلی طے کردہ اہداف اور وقت سے کہیں آگے نکل گئی اور ۳۳ روز تک جاری رہنے کے بعد بالآخر اسرائیل خود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا اور پسپائی کا فیصلہ کیا گیا۔

یقیناً اس فیصلہ میں اسرائیل کی ہزیمت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ان تمام شیطانی مغربی قوتوں کی شکست تھی، جو اسرائیل کی پشت پناہی میں مصروف تھیں۔ یہ وہ دوسرا موقع تھا کہ جب سید حسن نصر اللہ کی اس بات کو کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے، کو خود صہیونی غاصب ریاست کے ماہرین اور فوجی جرنیلوں نے ادراک کیا اور دنیا نے بھی اس صداقت کو جانچ لیا۔ اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کی متعدد مثالیں ان واقعات کے بعد غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہیں کہ مختلف اوقات میں فلسطین پر مسلط کی جانے والی یک طرفہ صہیونی جنگوں میں حماس کے مجاہدین کی پائیدار استقامت و مزاحمت نے نہ صرف سید حسن نصراللہ کے اس قول کو صادق کر دکھایا بلکہ اسرائیل کا بھرم خاک میں ملا کر رکھ دیا۔

گذشتہ دنوں جنوبی لبنان کے علاقوں میں اسرائیل کے خلاف حاصل ہونے والی حزب اللہ کی فتح کے عنوان سے سالانہ تقریب کا انعقاد ہوا اور یہ وہ علاقہ تھا کہ جہاں سنہ ۲۰۰۶ء میں گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی اور یہاں پر منعقدہ عالی شان تقریب سے اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب کیا اور آغاز میں ہی دنیا کو باور کروا دیا کہ آج اس علاقہ میں کہ جہاں اسرائیل قابض ہوا کرتا تھا، لوگوں کے جم غفیر کا ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ لبنان سمیت فلسطین کے لوگ اب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل سے ڈرتے نہیں ہیں اور اب اسرائیل کا ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم کبھی سر اٹھا نہیں پائے گا، کیونکہ فلسطین و لبنان سے شام و عراق تک اسلامی مزاحمت اس قدر مضبوط اور مستحکم ہوچکی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کو اپنی مرضی کے نتائج پر موڑ سکتی ہے۔ یہ ایک نعمت الہیٰ ہے اور اس میں نہ تو علاقے کے کسی عرب ممالک کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ یہ سب اسلامی مزاحمت کے فرزندوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، اس پر ہمیں شکر ادا کرنا چاہیئے۔

سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالی، لیکن دو پہلو بہت اہم ہیں، پہلا یہ کہ سنہ ۲۰۰۶ء میں ہونے والی جنگ میں اسرائیل فقط ایک دن کا حملہ کرنا چاہتا تھا اور اپنے طے کردہ اہداف کو حاصل کرنا چاہتا تھا، لیکن امریکہ نے اس کو اکسایا کہ جنگ کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد ۳۳ روز تک جنگ جاری رہنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو جب اپنی شکست کا مکمل یقین ہوگیا تو یہ بات جنگ بندی کا سبب بنی، اگر وہ مزید جنگ جاری رکھتے تو ان کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑتا، اس لئے انہوں نے جنگ روک دی۔ سید حسن نصر اللہ نے کسی عرب شخصیت کا نام لئے بغیر ایک واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ایک عرب معروف شخصیت جنگ کے زمانے میں امریکہ گئی اور جان بولٹن سے ملاقات کی، بولٹن نے کہا کیا کرنے آئے ہو؟ اس نے کہا جنگ کو روکنا ہے تو بولٹن نے جواب دیا کہ یہ جنگ جاری رہے گی، حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔ لیکن آخری دنوں میں ایک اسرائیلی نمائندے نے عرب شخصیت کو آدھی رات کو کہا کہ جنگ روکنا ہے او پھر جان بولٹن نے بھی یہی کہا۔ اس عرب شخصیت نے بولٹن سے پوچھا کہ کیا حزب اللہ کو ختم کر دیا گیا ہے؟ جان بولٹن نے کہا نہیں! اسرائیل میں دم نہیں ہے۔

حسن نصر اللہ نے ایک مرتبہ پھر اپنی اسی بات کی طرف اشارہ کیا اور کہا جیسا کہ میں نے ماضی میں کہا تھا کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے تو یہ عقیدہ مزید پختہ ہوگیا ہے۔ آج تیرہ سال گزرنے کے بعد بھی اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے اور یہ بات اسرائیل کے دل و دماغ میں بیٹھ چکی ہے۔ آج پھر اسرائیل سے کہتا ہوں کہ اگر کسی بھی طرح کی جنگ کرنے کی کوشش کی تو دنیا کے ٹی وی چینلز پر تمھاری تباہی کا تماشہ لائیو دکھایا جائے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ غزہ ہمیشہ عزیز رہے گا اور ہم فلسطین کی حمایت اور اس کی آزادی کی جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، انہوں نے حالیہ دنوں غزہ میں ایک صہیونی فوجی کو گرفتار کرنے کی کوشش کو سراہا۔

خلاصہ یہ ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ نے سنہ ۲۰۰۰ء میں اور پھر گذشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں اور پھر اب فتح کے جشن کی تقریب میں مسلسل اسرائیل کے وجود کو مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کہا ہے اور اس بات پر خود اسرائیلی فوج کے جنرل، ماہرین اور محقق تحقیق میں اور پریشان کن حالت میں ہیں۔ صہیونی فوجی جرنیلوں کا اعتراف جس میں وہ کہتے ہیں کہ حزب اللہ کی قوت اور گائیڈڈ میزائلوں کے سامنے اسرائیلی فوج انتہائی کمزور ہے۔ اسی طرح ایک اور اسرائیلی جنرل نے کہا تھا کہ سارا اسرائیل حزب اللہ کے میزائلوں کے نشانے پر ہے۔ پس خود صہیونی ذرائع اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے اور حقیقت یہی ہے کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ عرب دنیا کے وہ مسلمان حکمران جو امریکی و صہیونی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں، اپنی حمیت و عزت کے دفاع اور مظلوم ملت فلسطین کے دفاع و قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو جائیں اور دنیا کے نقشہ سے صہیونی جرثومہ کو اکھاڑ پھینکیں، جو نہ صرف فلسطین و مغربی ایشیاء کے لئے مصیبت و خطرہ ہے بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳