سید حسن نصر اللہ کے خطاب پر صہیونی ذرائع ابلاغ کا ردعمل




خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق، اسرائیلی اخبار نے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے جمعہ کے خطاب پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسرائیلی نیوز ایجنسی israelnationalnews نے لبنان اسرائیل کی ممکنہ جنگ میں اسرائیل کی نابودی کے حوالے سے سید حسن نصر اللہ کے خطاب کی طرف اشارہ کرتے […]



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق، اسرائیلی اخبار نے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے جمعہ کے خطاب پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اسرائیلی نیوز ایجنسی israelnationalnews نے لبنان اسرائیل کی ممکنہ جنگ میں اسرائیل کی نابودی کے حوالے سے سید حسن نصر اللہ کے خطاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ حسن نصر اللہ کے خطاب سے اسرائیلی عوام میں خوف و ہراس کی لہر پیدا ہو گئی ہے لیکن ۳۳ روزہ جنگ میں اسرائیل کی شکست کا باعث دراصل امریکہ بنا جس نے جنگ کو جاری رکھنے کی تاکید کی تھی۔

اس نیوز ایجنسی نے عسکری میدان میں حزب اللہ کی ترقی کے حوالے سے حسن نصر اللہ کی گفتگو کو نقل کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ جنگ سے خوفزدہ ہے اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ حزب اللہ بہت طاقتور ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے ۱۶ اگست بروز جمعہ کو اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان ۲۰۰۶ء میں ۳۳ روزہ جنگ میں فتح کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “اگر اسرائیل نے دوبارہ کبھی لبنان پر جارحیت کی تو وہ دیکھے گا کہ اس کے ٹینک کس طرح نابود ہوتے ہیں۔ وہ حزب اللہ جسے ایک دن اسرائیل نابود کرنے کے خواب دیکھتا تھا آج ایک علاقائی طاقت میں تبدیل ہو چکی ہے”۔

سید حسن نصراللہ نے صہیونیوں کو للکارتے ہوئے کہا: “میں آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ لبنان میں داخل نہ ہوں اور اگر آپ ہماری سرحد میں داخل ہوئے تو ہم لائیو کوریج کے ذریعے آپ کے ٹینک اڑتے ہوئے پوری دنیا کو دکھائیں گے۔ ۳۳ روزہ جنگ نے صہیونی رژیم کا حقیقی چہرہ آشکار کر دیا تھا۔ آج اسرائیلی حکام اس بارے میں شک و تردید کا شکار ہیں کہ وہ لبنان کے خلاف جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں؟”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳