رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام حج اور امت مسلمہ کے بنیادی مسائل کا حل قابل غور نکات




بقلم سید نجیب الحسن زیدی خیبر صہیون تجزیاتی ویب گاہ؛ بحمد اللہ زیادہ تر  حجاج کرام  خانہ خدا کی زیارت کے بعد اپنے اپنے گھروں واپس پلٹ چکے ہیں اگر کچھ حجاج و زائرین    مقامات مقدسہ   خاص کر مدینہ منورہ   کے مقامات  کی زیارت  کے سلسلہ  سے  رکے بھی ہیں تو جلد ہی واپس  ہونے […]



بقلم سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تجزیاتی ویب گاہ؛ بحمد اللہ زیادہ تر  حجاج کرام  خانہ خدا کی زیارت کے بعد اپنے اپنے گھروں واپس پلٹ چکے ہیں اگر کچھ حجاج و زائرین    مقامات مقدسہ   خاص کر مدینہ منورہ   کے مقامات  کی زیارت  کے سلسلہ  سے  رکے بھی ہیں تو جلد ہی واپس  ہونے کے قصد کے پیش نظر سفر کے مقدمات کی انجام دہی میں مشغول ہیں   ،بارگاہ معبود میں ہم دست بدعاء ہیں  کہ مالک! تیری خاص عنایتوں کے زیر سایہ تمام کے تمام حجاج کرام  اپنی منزل پر صحیح و سالم پہنچ جائیں ۔

سرزمین مکہ پر جانے والے ہر حاجی کی آرزو یہی ہے کہ عالم اسلام کی مشکلات حل ہوں اور  حج کے دوران جو روحانیت  و معنویت انہیں حاصل ہوئی وہ ہر ایک کا مقدر بنے  ، جسکے دل میں بھی درد ہے اور امت مسلمہ کے بہتر مستقبل کو لیکر فکر لاحق ہے وہ   جہاں پر بھی ہے اپنی قوم اور اپنے معاشرے کے لئے کچھ نہ کچھ کر رہا ہے ، خاص کر اگر کوئی حج سے واپس آیا ہے تو اسکے اجتماعی پہلو کو دیکھتے ہوئے ممکن نہیں کہ وہ پہلے جیسی انفرادی زندگی گزارے بلکہ  اب تو اسے یہی فکر ہے کہ کیسے  ہر ایک ایک عمل کو اجتماعی پس منظر میں اس طرح انجام دیا جا سکے کہ بندگی خدا کے ساتھ خلق خدا کے لئے بھی کچھ کیا جا سکے ،  قوم  وملک اور معاشرے کی  جوصورت حال ہے وہ  ہر ایک دردمند کے سامنے ہے  نیزعالم اسلام کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ  بھی ہم سب کے پیش نظر  ہے  ،  کہ کس طرح کچھ بڑی طاقتوں  کے اشاروں پر اسلامی ممالک   ایک دوسرے کے ساتھ  بر سر پیکار  ہیں  ، کس طرح ، یمن ،   بحرین ،شام  ، نائیجریا  میں کلمہ گو ہی  کلمہ گویوں کے  اوپر ظلم کر رہے ہیں   کس طرح  چوطرفہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کوئی نہیں جو انکی منتشر طاقت کو یکجا کرے انہیں  کلمہ توحید کے محور پر اکھٹا کرے ، جبکہ انکے پاس حج جیسی عظیم عبادت موجود ہیں آج حج پر جانے والے  ایک واقعی  حاجی کو جہاں مناسک  حج کے انجام پذیر ہونے کی خوشی ہوتی ہے وہیں اسے اس بات کی فکر بھی لاحق ہو تی ہے کہ جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھ رہا ہے ویسے ویسے حج جیسی عبادت بھی   ایک رسم کی صورت اختیار کر تی  جا  رہا ہے جس میں محض ایک خانہ پری ہوتی ہے  دنیا بھر سے آنے والے مسلمان بس روایتی انداز میں مناسک حج کو انجام دے کر سمجھتے ہیں کہ انکا فریضہ  پورا ہو گیا انکی ذمہ داری پوری ہو گئی ، اور یہ محض حج ہی کی بات نہیں ہے ابھی عید الاضحی گزری ہے  اس عید میں بھی جو قربانی کا فلسفہ ہے  اس پر تو  جہ نہیں ہے لیکن عام طور پر یہ دیکھنے میں آ یا کہ بکروں کی نسلوں اور بکروں کی رنگوں اور انکے قد و قامت پر  سوشل میڈیا میں گھنٹوں خرچ کئے گئے   کہیں بکروں کی تصاویروں کو شئیر کیا گیا تو کہیں بکروں کو ذبح کرتے ہوئے  لائیو یوٹیوب و فیس پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا اور کہیں تو بکروں کی خصوصیتوں پر  گفتگو لاحاصل گفتگو ہو ئی ایک ایسی عید جو  اللہ سے نزدیک ہونے کی عید ہے اپنی خواہشوں کو راہ  بندگی میں قربان کرنے کی عید ہے ہم نے اپنی کج سلیقگی سے  محض بکروں اور اونٹوں اور گوسفندوں تک محدود کر دیا ،  جبکہ عید قربان  کے فلسفہ و حکمت کی طرف کم ہی گنے چنے لوگوں نے توجہ کی زیادہ تر اسی ہوا کا شکار ہو گئے جس کے بنانے میں کہیں سامراج شامل تھا تو کہیں نادان دوستوں کی جانب سے   ایسی امیجیز  کثرت سے شئیر کی گئیں جن میں بجائے بندگی کے استعاروں کے بکروں اور گوسفندوں کی تصاویر  بنی ہوئی تھیں  ، جیسا حال ہمارے یہاں   عید الاضحی کا ہوتا جا رہا ہے حج بیت اللہ کا حال بھی اس سے کم برا  نہیں ہے اور اب تو برائیوں کا قبح بھی ختم ہوتا جا رہا ہے  ، کہیں  خانہ کعبہ کے اطراف میں بنے ہوئے بڑے بڑے لگژری ہوٹلز کی تصاویر  سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہیں تو کہیں  حالت احرام میں فضولیات و لہو لعب   میں مشغول افراد کی تصاویر  جن کو دیکھ کر انسان خون روتا ہے کہ حج ابراہیمی جو ایک مجسم اسلام کی شکل میں ہمارے سامنے بہترین عبادت تھی اسے لوگوں نے کیا سے کیا بنا گیا ہے ۔

ایسے میں اگر حج کے فلسفہ اسکی حکمت کو سمجھتے ہوئے کوئی بابصیرت شخصیت عالم اسلام کو کچھ حقائق کی طرف متوجہ کرتی ہے تو ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسکی باتوں پر غور کیا جائے  اس لئے کہ ٹھیک ہے کہ یہ پیغام حج کے دوران دیا گیا ہے  لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ  حج سے متعلق اس  بیان میں ان باتوں کا ذکر ہے جنکا تعلق محض حج سے نہیں ہے  ۔ حج تو موقع ہے عالم اسلام کے بنیادی مسائل کو مسلمانوں کو گوش گزار کرانے کا چنانچہ عید غدیر کی آمد کے موقع پر جب ہم عید اکبر  منانے کے لئے تیار ہو رہے ہیں ہم رہبر انقلاب اسلامی کے  حج کے موقع پر دئیے گئے پیغام  کے اہم گوشوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور اسکی روشنی میں امت مسلمہ کے بنیادی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں

حج  ابراہیمی  کے برکات کو عالم اسلام تک پہچانے کی ضرورت

رہبر انقلاب اسلامی نے  حج کے موقع پر دئے گئے اپنے بیان میں  اس کلیدی  نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے     حج جیسی عظیم نزول رحمت الہی کی  جگہ  پر جس  عام دعوت   کا اہمتام کیا گیا ہے  اس سے مکمل  فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ، اور تمام حاجیوں کے لئے ضروری ہے کہ جب  حج سے واپس جائیں تو ان برکتوں کو اپنے اپنے علاقوں میں منتقل کریں  لوگوں کو بتائیں کہ حج نے کس طرح ایک نئی بندگی کی راہ پر انہیں گامزن کر دیا     آپ فرماتے ہیں   :

’’ موسم حج امت مسلمہ  کے لئے ہر سال نزول رحمت پروردگار کا  ایک بہترین موقع و محل اپنے دامن میں لئے   آتا ہے ۔ ’’ « وَ اَذِّن فِی النّاسِ بِالحَج»،[۱] کی شکل میں دیا جانے والا قرآنی پیغام کی    در حقیقت پوری تاریخ میں رحمت کے دسترخوان پر تمام لوگوں کو دی جانے والی دعوت  عام ہے  ایسی دعوت جسکا مقصد   یہ ہے کہ اللہ کی تلاش میں رہنے والے جان و دل    بھی اور تدبّر فکر کی حامل نگاہ  بھی   اسکی  برکتوں  سے بہرہ مند ہو سکیں  اور ہر سال حج کے پیغامات و تعلیمات حج کے موقع پر آنے والے  مختلف گروہوں اور جماعتوں  کی صورت آنے والے افراد کے ذریعے پورے عالم اسلام تک پہنچ جائے ‘‘

رہبر انقلاب اسلامی  نے  گویا ہر حج کے لئے آنے والے ہر گروہ کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ جب تم رحمت الہی کی عام دعوت پر آئے ہو اور تم نے یہاں سے فکر میں بالیدگی اور نظر میں عمق حاصل کیا ہے  کچھ یہاں آکر سیکھا ہے ،  کوئی پیغام تمہیں ایسا ملا ہے جس نے تمہارے رخ حیات کو بدل کر رکھ دیا ہے تو ضروری ہے کہ اسے لوگوں تک بھی منتقل کرو  اور فلسفہ حج میں  ایک اہم چیز یہی ہے کہ پروردگار یہ چاہتا ہے کہ یہاں آنے والے جب واپس پلٹیں تو   ان سوالوں کا جواب دے سکیں جو خود پہلے انہیں لاحق تھے اور مکہ پہنچ کر جب انہوں نے سب کچھ قریب سے دیکھ لیا تو انکی تشنگی دور ہو گئی  اب انکے لئے ضروری ہے کہ اپنے اپنے دیار کے تشنہ معرفت افراد کو سیراب کریں ۔

محور توحید پر توجہ

رہبر انقلاب اسلامی نے  اپنے بیان کے ایک اور حصہ میں لوگوں کو توحید کے  محور کی طرف متوجہ کرتے ہوئے بکچھ   اس مفہوم کو بیان کیا   :

’’حج کے اندر  اکسیر   عبودیت و ذکر الہی عبادت  فرد و اجتماع دونوں ہی کی تربیت کے لئے ایسا عنصر ہے جو  ا نکے عروج   کا سبب ہے    اور یہ  بنیادی عنصر  امت وحدہ  کے اجتماع  و اتحاد  کے شانہ بشانہ،   توحید کے محور پر    امت کی سعی و کوشش کے ساتھ  ایک مشترکہ ہدف  تک پہنچنے کے لئے امت مسلمہ  کی سعی پیہم   کے پیش نظر  ، توحید کی بنیادوں پر  مل جل کر آگے بڑھنے کے سماں  کو پیش کر رہا ہے اور یہی مل جل کر آگے بڑھنا  ہی درحقیقت   امت  کے حرکت میں آنے اور آگے بڑھنے کا راز ہے ۔چنانچہ   مناسک حج  انجام دینے والوں کے درمیان پائی جانے والی  یکسانیت و یک جہتی اور ایک ایک حاجی کا  دوسرے حاجی جیسا  ہونا  ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہوا ہونا ، ہر امتیازی شناخت کا ختم ہوجانا جو کہ  خود اپنے آپ میں  تفریق کو مٹا کر  تمام لوگوں کے لئے  یکسر موقع فراہم کرنے کا سبب ہے اور یہ چیز   ایسی ہے   جو  اسلامی معاشرے کے اصلی ستونوں کے ایک مجموعے کو ایک چھوٹے سے منظر میں پیش کر رہی ہے  جہاں نہ اونچ   نیچ ہے نہ  ذات پات کی دیواریں ہیں  نہ کسی کو کسی پر امتیاز حاصل ہے    ۔ احرام و طواف اور سعی و وقوف نیز رمی جمرات اور مناسک حج میں کہیں بڑھنا کہیں ٹہر جانا    حرکت و سکون  کا  ہر ایک پل  اور ہر ایک عمل، حج میں اس پیکر تصویر کے کسی خاص حصے کی جانب سمبلک  اشارہ ہے جسے ایک مطلوبہ معاشرے کے طور پر دین نے پیش کرنے کی کوشش کی ہے ‘‘۔

رہبر انقلاب اسلامی  توحید کو مرکز قرار دیتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ  توحیدی سماج و معاشرہ یوں تو کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا ، ہر ایک  توحید کا پرستار تو ضرور نظر آتا ہے لیکن توحید کا عملی مشاہدہ  مسلم معاشروں میں دیکھنے کو نہیں ملتا جہاں لسانی و قبائلی حدود نہ ہوں ، جغرافیائی لکیریں نہ ہوں  لسانی و قبائلی حد بندیاں نہ ہوں ایک انسان  ہو جو ایک ہی رنگ میں رنگا  ہو  جسے توحید کہا جاتا ہے اگر ایسا معاشرہ  کہیں کچھ مختصر عرصے کے لئے تشکیل پاتا ہے تو موسم حج میں  ، ہم اسلامی معاشرے   کی نزدیک ترین تصویر کو حج کے موقع پر دیکھتے ہیں  اور اس تصویر  کے سامنے آنے میں عقیدہ توحید  کا بنیادی کردار ہے ، یہ  توحید ہی ہے جو  ہزاروں میلوں کے فاصلوں کو  ختم  کر کے ایک پلیٹ فارم  پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے ۔ اب اگر اس عقیدے کی راہ میں صحیح اور بجا طور پر آگے بڑھا جائے تو امت مسلمہ کے بڑے بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔

ایک دوسرے سے قریب ہونے اور  غلط فہمیوں  کے ازالہ  کا بہترین موقع

حج    کا موقع توحیدی مزاج رکھنے والوں  کی یکسوئی و یکجہتی  کے روح پرور مناظر   تو پیش کرتا  ہی ساتھ ہی  ایک  ایسا غنیمت موقع بھی فراہم کرتا ہے جس میں  پوری دنیا کے مسلمان ایک دوسرے سے قریب ہو کر   اپنی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں اور شکوے شکایتیں کر کے  رب کعبہ  کے حضور کعبہ کے سامنے ایک دوسرے کی مشکلوں میں ساتھ دینے کا  اور مشترکہ دشمن سے  مل کر مقابلہ کرنے کا عہد کر سکتے ہیں  ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو  سجھنے اور  مستقل کی منصوبہ بندی  کرنے کا یہ ایک   بہترین موقع ہے ، ایسا موقع  جس کو فراہم کرنا نہ کسی کانفرنس  کے انعقاد سے ممکن ہے نہ ہی سیمیناروں اور بین الاقوامی پیمانے پر ہونے والی نشستوں  کے ذریعہ چنانچہ رہبر انقلاب اسلامی فرماتے  ہیں :

’’مختلف ملکوں اور دور دراز کے علاقوں کے  مابین  آ گہی  و معلومات کا تبادلہ، علم و تجربہ کی ایک دوسرے کے ساتھ شراکت   ، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت، غلط فہمیوں کا ازالہ، دلوں کو قریب کرنا، مشترکہ دشمنوں کے مقابلے کے لئے توانائیوں کو  اکھٹا کرنا، حج کا  ایسا حیاتی اور ایک  بہت بڑا ثمرہ ہے جسے عام طور پر رائج سیکڑوں کانفرنسوں کے انعقاد سے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

دشمنوں سے اظہار بیزاری اور اعلان برات

حج کے جہاں بہت سے آثار و نتائج اور فوائد ہیں وہیں  حج بیت اللہ کا ایک  بڑا فائدہ دشمنوں سے اظہار برات کر کے انہیں یہ پیغام دینا ہے کہ ہم  فرزندان توحید گرچہ دنیا کے مختلف خطوں  سے اٹھ کر آئے ہیں لیکن ہمارا  دشمن ایک ہی ہے  اور ہم اپنے مشترکہ دشمن  کے تئیں ذرا برابر نرم گوشہ نہیں رکھتے کیونکہ  ہر اس شخص سے اظہار برات کرتے ہیں جو خدا اور اسکے آئین کے خلاف کسی بھی طرح کی سرگرمی میں ملوث ہے ، ہم ہر طرح کے ظلم  کے خلاف ہیں  ، ہم ظالموں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں  ، یہ اظہار برات جہاں دشمنوں کو یہ بتانے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان  جہاں بھی ہو ایک ہی پیکر کے مختف اعضاء کی صورت ایک دوسرے سے جڑے ہیں اور  ان لوگوں کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم رکھتے ہیں جو ان کے دین کے ساتھ کھلواڑ کر رہا  ہے  ، یہ ہر ظالم کے خلاف ہیں چاہے کوئی بھی ہو یہ ہرگز ہمیں اپنی چالوں میں اپنے اتحاد کے بل پر کامیاب نہیں ہونے دے سکتے  وہیں اس اظہار برات سے اپنے  لوگوں  کو حوصلہ ملتا ہے کہ ہم تنہا نہیں ہیں اگر کہیں ظلم ہو رہا ہے تو ہمارے سارے بھائی ظالم کے خلاف کمر بستہ کھڑے ہیں ہمارے لئے دشمن کی شناخت ضروری ہے اور اسی کے ساتھ  مظلوم کی حمایت  بھی ضروری ہے ۔

حج ظالم کی مذمت و مظلوم کی حمایت کا ایک بہترین موقع ہے جہاں دشمنوں کے ساتھ اظہار بیزاری کے ذریعہ ہم   طاغوتی طاقتوں  کو یہ بتا دیتے ہیں کہ تمہاری چالوں کو ہم خوب سمجھ رہے ہیں اور ہرگز  ہم   ان چالوں کو پورا نہ ہونے دیں گے  اور یہ اظہار برات دشمن کو اسکی چال میں ناکام بنانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

چنانچہ  رہبر انقلاب اسلامی فرماتے ہیں

’’اعلان برائت  کا مطلب یہ ہے کہ ہم زمانے کی طاغوتی طاقتوں کی ہر طرح کی بے رحمی، ستم، برائی اور بدعنوانی سے بیزاری  کا اظہار کرتے ہیں اور مختلف ادوار کی استکباری قوتوں کی جانب سے ناجائز فائدہ اٹھائے جانے اور خراج وصولنے کی  تحکمانہ روش کے مقابلے میں استقامت کے معنی میں ہے،  یہ اظہار برات  حج کی برکتوں میں سے ایک ہے  اور مظلوم مسلمان اقوام کے لئے ایک سنہرا موقع ہے ۔

آج استکباری قوتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کے کفر و شرک کے محاذ سے اعلان برائت کا  مطلب مظلوموں کے قتل عام اور جنگ کے شعلے بھڑ کانے  والے لوگوں کی مذمت ہے  ، نیز  امریکی بلیک واٹر اور داعش جیسے دہشت گردی کے مراکز کی مذمت ہے، اس اعلان برائت کا مطلب بچوں کی قاتل صیہونی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں اور اس کے مددگاروں کے خلاف امت اسلامیہ کی نہیب  اور انکی فریاد ہے ، اور حساس علاقے میں امریکہ اور اس کے حامیوں کے جنگجویانہ عزائم    اور جنگی شعلے بھڑکانے  کے ارادوں کی مذمت ہے جس نے اقوام کے رنج و آلام کو آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے اور آئےدن  ان پر سنگین مصیبتیں مسلط کر رہے ہیں۔اس اعلان برائت کا مطلب جغرافیائی محل وقوع یا نسل و رنگ کی بنیاد پر تفریق و نسل پرستی سے بیزاری ہے۔اس اعلان برائت کا مطلب جارح و فتنہ انگیز طاقتوں کی خبیث  استکباری روش سے بیزاری ہے۔

دانشوران قوم وملت  کی ذمہ داری

ہر قوم کا دانشور اور اہل علم طبقہ   قوم کی صحیح رخ پر ہدایت میں اہم رول ادا کرنے کا سبب ہے ، دانشوران قوم کی قوم کے مرض کی صحیح تشخیص دے کر اسکا مناسب علاج ڈھونڈتے ہیں  رہبر انقلاب اسلامی نے بھی حج کے موقع پر دئے گئے اپنے پیغام میں دانشوران قوم و ملت کی ذمہ داریوں کی طرف کچھ یوں اشارہ کیا ہے :

’’ جہان  اسلام کے دانشوروں اور قوم کے ممتاز  طبقے کے دوش پر، ، بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جسکی  بلند ہمتی اور جس کے ابتکار عمل   کے ذریعہ  ان  تعلیمات  کو تمام اقوام اور رائے عامہ تک پہونچایا جانا ضروری ہے  تاکہ ان  کے ذریعے افکار، جذبات، تجربات اور و شعور و آگہی  کا طرفین تبادلہ ہو سکے  ‘‘

موجودہ دور میں عالم اسلام کا سب سے اہم مسئلہ

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے  پیغام حج میں عالم اسلام کے سب سے اہم مسئلہ کی طرف روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ  ہمارا بنیادی مسئلہ فلسطین کا مسئلہ ہے  چنانچہ فرماتے ہیں

’’آج عالم اسلام کا ایک اہم ترین مسئلہ، مسئلہ فلسطین ہے تمام مسلمانوں کے سیاسی مسائل میں سر فہرست ہے۔حالیہ دور کا  سب سے بڑا ظلم فلسطین میں ہوا ہے۔ اس دردناک حادثہ  میں ایک قوم کی سرزمین، گھر، کھیت، مال و اسباب، ناموس اور تشخص، انکی شناخت  سب کچھ چھین لیا گیا۔  لیکن توفیق الہی سے اس قوم نے ہار نہیں مانی، خاموش ہوکر بیٹھ نہیں گئی بلکہ ماضی سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ اور زیادہ پوری شجاعت کے ساتھ یہ قوم ڈٹی ہوئی ہے ، البتہ یہ اور بات ہے کہ اس کا مکمل   ثمر اسی  وقت حاصل ہوگا جب تمام مسلمان ایک ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔  صدی  ڈیل کی سازش جس کی تیاریاں ظالم امریکہ اور اس کے خائن ہمنواؤں کے ہاتھوں انجام پا رہی ہیں،  یہ ڈیل سصرف فلسطینی قوم کے  ہی خلاف   نہیں بلکہ پورے انسانی معاشرے کے خلاف انجام دیا جانے والا جرم ہے جسکے لئے  ماحول بنایا جا رہا ہے   جس کے پیش نظر  دشمن کی اس مکارانہ چال کو ناکام بنانے کے لئے ہم  سب کو باہمی   تعاون کی دعوت دیتے ہیں اورمدد الہی  سے ہم مزاحمتی محاذ کی ہمت و ایمان کے سامنے اس موجودہ  دشمن کے حربے  اور استکباری محاذ کے تمام دیگر حربوں کی شکست کو یقینی سمجھتے ہیں۔  خدائے سبحان فرماتا ہے :ام یریدون کیداً، فالذین کفروا هم المکیدون. صدق اللّه العلی العظیم. [۲]

حواشی :

[۱]۔ حج،  ۲۷

[۲]  ۔ https://nthnews.net/fa/%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D8%AC%D9%87%D8%A7%D9%86/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85-%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D9%85%D8%B9%D8%B8%D9%91%D9%85-%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%DA%A9%D9%86%DA%AF%D8%B1%D9%87/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳