خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کی ڈاکٹر محسن محمدی سے گفتگو؛

واقعہ غدیر کی تحریف میں یہودیوں کا کردار




خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: غدیر تاریخ اسلام کا ایک اہم ترین واقعہ ہے جس میں پیغمبر اسلام (ص) نے اپنا جانشین مقرر کیا۔ لیکن یہ موضوع پیغمبر اسلام (ص) کے بعد عالم اسلام کے اندر باعث اختلاف بن گیا جس کی بنا پر مسلمانوں میں مختلف فرقے اور ٹولے پیدا ہو گئے۔ لیکن سوال یہ […]



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: غدیر تاریخ اسلام کا ایک اہم ترین واقعہ ہے جس میں پیغمبر اسلام (ص) نے اپنا جانشین مقرر کیا۔ لیکن یہ موضوع پیغمبر اسلام (ص) کے بعد عالم اسلام کے اندر باعث اختلاف بن گیا جس کی بنا پر مسلمانوں میں مختلف فرقے اور ٹولے پیدا ہو گئے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا جبکہ غدیر خم کے میدان میں سوا لاکھ حاجیوں کے درمیان پیغمبر اسلام(ص) نے نہ صرف اپنے جانشین کو مقرر کیا بلکہ اس کے لیے میدان غدیر میں حاجیوں کو روک کر ان سے بیعت بھی لی۔ پھر ایسی کون سی وجوہات تھیں کہ ۷۰ دنوں کے اندر ادھر پیغمبر اسلام کی آنکھیں بند ہوئیں ادھر مسلمانوں نے بیعت شکنی کر دی اور واقعہ غدیر کو بھول گئے اور اپنا خلیفہ خود مقرر کرنے کے لیے سقیفہ پہنچ گئے؟

کیا واقعہ کی تحریف یا دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کو اس واقعہ سے منحرف کرنے میں یہودیوں کا بھی کوئی کردار ہے اس حوالے سے خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر نے حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر محسن محمدی سے گفتگو کی ہے جو قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں۔

خیبر: آپ کی نظر میں کون سے ایسے عوامل تھے جن کی بنا پر واقعہ غدیر مسلمانوں کے درمیان موثر واقع نہیں ہو سکا؟

۔ واقعہ غدیر تاریخ اسلام کے ان اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے جس کے مختلف پہلووں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ آپ کے سوال کا جواب مختلف زاویہ نگاہ سے دیا جا سکتا ہے لیکن جو چیز اس سوال کے جواب میں عرض کرنا مقصود ہے وہ اس واقعہ کا تاریخی پہلو ہے۔ یعنی ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر پیچھے جائیں اور اس دور کے تناظر میں اس واقعہ کو تجزیہ و تحلیل کریں۔ تو ایسے میں یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں رسول خدا (ص) کی رحلت کے بعد مسلمانوں نے یہ واقعہ اتنا جلدی فراموش کر دیا اور حضرت علی ابن ابیطالب (ع) کی خلافت کو قبول نہیں کیا؟

اس سوال کے جواب میں چند مفروضے پیش کیے جا سکتے ہیں؛

۱۔ لوگوں نے واقعہ غدیر کے بارے میں کچھ سنا ہی نہیں تھا اور وہ اس کے بارے میں بالکل آگاہ نہیں تھے۔ یہ مفروضہ سوفیصد غلط ہے اس لیے کہ؛

الف) غدیر خم میں ایک لاکھ سے زیادہ حاجیوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی باتوں کو سنا تھا۔ یہ حاجی عام لوگ نہیں تھے بلکہ اپنے اپنے قبیلوں کے نمائندے تھے جو جزیرۃ العرب کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے علاقوں میں پہنچ کر تازہ مسلمان ہونے والوں کو پیغام غدیر سنایا تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ جنگیں یا مخالفتیں جو خلیفہ اول کے ساتھ ہوئیں اسی بنا پر تھیں۔

البتہ تاریخی متون میں ان جنگوں کی وجوہات کو زکات کی عدم ادائیگی یا جھوٹے پیغمبروں کے ساتھ جنگ کا نام دیا گیا ہے لیکن ایسے بہت سارے قرائن(۱) موجود ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ان جنگوں میں مرتد ہونے کے جرم میں قتل کئے جانے والے وہی لوگ تھے جو در اصل حقیقی دین یعنی پیغام غدیر کے پابند تھے اور خلیفہ وقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے لہذا ایسی حکومت کو جو غصبی حکومت تھی اور فرمان رسول کی مخالفت کی بنا پر برسر اقتدار آئی تھی زکات دینے کو تیار نہیں تھے لہذا حکومت وقت نے انہیں تہہ تیغ کر دیا اور اس بات کا اعلان کر دیا کہ وہ اسلام سے برگشتہ اور مرتد ہو چکے تھے۔

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں: ’’قریش اور ثقیف کے علاوہ دیگر تمام عربوں نے حکومت وقت کو زکات دینے سے انکار کر دیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ مسلمانوں کی اتنی کثیر تعداد زکات کے واجب ہونے کے مسئلے کو نہ جانتی ہو؟ ہرگز، بلکہ زکات نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ حکومت وقت کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور اگر فرض کر لیتے ہیں کہ وہ سب مرتد ہو چکے تھے تو چھوٹے بچوں اور عورتوں کا کیا قصور تھا جو خلافت کی شمشیر سے محفوظ نہ رہ سکتے؟‘‘۔(۲)

ب) اس ماجرا کا اہم ترین حصہ شہر مدینہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت اور جانشینی کا مسئلہ وہاں پیش آتا ہے۔ تاریخ کے مطابق سب سے زیادہ حاجی مدینہ کے رہنے والے تھے جو پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ حجۃ الوداع کے لیے گئے ہوئے تھے غدیر خم میں موجود تھے واضح ہے کہ اس وجہ سے پورا مدینہ پیغام غدیر سے مطلع تھا۔

پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد کے واقعات اس موضوع کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب امیر المومنین علی (ع) اور حضرت فاطمہ زہرا(س) مہاجرین اور انصار کے دروازوں پر جاتے تھے اور واقعہ غدیر کی انہیں یاد دہانی کرواتے تھے تو کوئی بھی اس واقعہ کا انکار نہیں کرتا تھا۔

۲۔ لوگوں نے واقعہ غدیر کو سنا ہوا تھا اور حقیقت کیا تھی اس سے بخوبی آگاہ تھے لیکن چونکہ عام افکار کا تاریخی حافظہ اتنا قوی نہیں ہوتا لہذا وہ لوگ بھول گئے تھے۔

یہ مفروضہ بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اس لیے کہ واقعہ غدیر اور رحلت پیغمبر(ص) کے درمیان فاصلہ صدیوں سالوں کا نہیں تھا بلکہ دو مہینے اور پندرہ دن کا فاصلہ تھا۔

۳۔ لوگ اس شخص کی شخصیت اور اس کے مقام و منزلت سے آگاہ نہیں تھے جسے رسول اسلام (ص) نے میدان غدیر میں اپنا جانشین مقرر کیا۔ یعنی لوگ حضرت علی علیہ السلام کو نہیں پہچانتے تھے تاکہ غدیر کے بعد ان کی حمایت کرتے اور فرمان رسول کی اطاعت کرتے ہوئے انہیں اپنا خلیفہ تسلیم کرتے۔

یہ جواب بھی ناقابل قبول ہے اس لیے کہ رسول خدا (ص) نے دعوت ذوالعشیرہ سے ہی حضرت علی علیہ ااسلام کے مقام و منزلت کو پہچنوانا شروع کر دیا تھا اور مختلف بہانوں سے مختلف مقامات پر ان کی شخصیت کو لوگوں کے سامنے اجاگر کیا۔ اور دوسری بات یہ کہ حضرت علی علیہ السلام خود ایسے فضائل اور ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ ممکن نہیں تھا لوگ انہیں نہ پہچان سکیں۔ کوئی بھی اسلامی فرقہ اور گروہ حضرت علی علیہ السلام کے فضائل کا منکر نہیں ہے۔ آپ کی شجاعت اور بہادری کے جوہر، آپ کی اطاعت و بندگی کے گوہر، آپ کے علم و دانش کے کرشمے کسی کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں تھے۔ یہ جو خلیفہ دوم مجبور ہوئے حضرت علی علیہ السلام کو چھے افراد پر مشتمل شوریٰ میں شامل کریں اس کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ کے اکابر آپ کی شخصیت سے بھی آگاہ تھے اور آپ کی صلاحیتوں کو بھی بخوبی جانتے تھے۔

۴۔ لوگ اس شخص کو نہیں مانتے تھے جس نے غدیر خم میں حضرت علی (ع) کو اپنا جانشین مقرر کیا یعنی پیغمبر اسلام(ص) کو نہیں مانتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں لوگ واقعہ غدیر سے آگاہ تھے، جس کو جانشین بنایا گیا اس کو بھی پہچانتے تھے لیکن جس نے جانشین بنایا اسے نہیں مانتے تھے تاکہ اس کی نصیحتوں پر عمل کرتے۔

یہ جواب بھی بالکل درست نہیں ہے، اس لیے کہ مسلمان خصوصا مدینہ کے مسلمان جنہوں نے دس سال پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ ہر رنج و الم کو برداشت کیا جنگیں لڑیں، جزیرہ العرب پر اسلام کو مسلط کرنے میں آپ کا ساتھ دیا اور اس قدر پیغمبر اکرم(ص) کو چاہتے تھے کہ حتیٰ آپ کے وضو کا پانی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے اور اسے تبرک کے طور پر اٹھا لیتے تھے۔ (۳)

خیبر: کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے پیغام غدیر کو پہونچانے میں کوتاہی کی ہو۔

۔ ایسا بھی ہر گز نہیں ہوا، پیغمبر اکرم(ص) نے پیغام غدیر کو پہونچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ پیغمبر اکرم(ص) نے بہترین جگہ(مکان) اور بہترین وقت (زمان) کا انتخاب کیا جو اس زمانے میں پیغام رسانی کا سب سے بہترین طریقہ تھا۔

زمان؛ موسم حج جو بعد میں حجۃ الوداع کے نام سے معروف ہوا بہترین موقع تھا اس دور میں پیغام رسانی کا۔ اس لیے کہ جزیرۃ العرب کے تمام علاقوں سے لوگ موسم حج میں مکہ جاتے تھے۔ حج کے علاوہ ممکن نہیں تھا کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو ایک جگہ جمع کیا جا سکے۔

مکان؛ غدیر خم وہ مقام تھا جہاں سے مختلف علاقوں میں جانے والے حاجی ایک دوسرے سے الگ ہوتے تھے۔ لہذا بہترین مکان کا انتخاب کیا جہاں حاجیوں کی اکثریت جمع ہو سکتی تھی۔

طریقہ کار؛ پیغمبر اکرم (ص) نے پیغام غدیر کو پہونچانے کے لیے چہرہ بہ چہرہ، فیس ٹو فیس اور براہ راست تبلیغ کی روش کا انتخاب کیا، نمائندے بھیج کر یا خط لکھ کر پیغام نہیں پہنچایا۔ اس لیے کہ اس طریقہ کار میں بات براہ راست سننے والوں کے کان میں پہنچتی ہے اور پیغام میں جعل و انحراف کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ آپ نے پیغام غدیر کو حاصل کرنے کے لیے پہلے مسلمانوں کو خوب آمادہ کیا۔ آگے جانے والوں کو پیچھے بلایا پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیا۔ مسلمان تین دن تک غدیر خم میں خیمے لگائے رہے۔ اس دوران مسلسل ان کے ذہنوں میں یہ سوال تھا کہ پیغمبر نے آخر ہمیں یہاں کیوں روکا ہے جبکہ حج کے ارکان تمام ہو چکے ہیں اور تمام حاجی اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے بے تاب ہیں۔

اس طریقے سے مسلمانوں کا ایک عظیم اور تاریخی اجتماع تشکیل پایا جو پوری شدت سے پیغمبر اکرم (ص) کی باتوں کو سننے کے لیے آمادہ تھا۔ اس طرح سے پیغمبر اکرم نے ایک لاکھ سے زیادہ نمائندوں کے ذریعے اپنا پیغام پورے جزیرۃ العرب تک پہنچا دیا۔

لہذا پیغام غدیر کو پہونچانے کا طریقہ کار بھی بہت دقیق اور اس دور کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ تھا۔

لہذا تاریخی اعتبار سے ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ اس وجہ سے مسلمانوں نے واقعہ غدیر کو فراموش کر دیا۔ بلکہ اس کے برخلاف ہمارے پاس تاریخی قرائن و شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں واقعہ غدیر تمام مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود تھا اور بالکل فراموش نہیں ہوا تھا۔

خیبر: آپ کی ان باتوں کے پیش نظر تو مسئلہ ہمارے لیے اور دشوار ہو جاتا ہے اور مزید کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ اور ایسے میں تو اس واقعہ کو تاریخ اسلام میں اپنا گہرا اثر چھوڑنا چاہیے تھا۔

۔ جی قاعدتا ایسا ہی ہونا چاہیے تھا لیکن ہوا نہیں۔

خیبر: پس ہمیں اپنی گفتگو کا زاویہ نگاہ بدلنا چاہیے آپ کیا کہتے ہیں کہ ہم کس زاویہ نگاہ سے واقعہ غدیر کا جائزہ لیں؟

۔ ہمیں واقعہ غدیر کو صرف تاریخی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی دیکھنا چاہیے تاکہ ہم اس نتیجہ تک پہنچ سکیں کہ کچھ بیرونی عوامل تھے جن کی بنا پر یہ واقعہ تاریخ اسلام کے اندر موثر واقع نہیں ہو سکا۔

خیبر: ٹھیک ہے تو آپ بتائیں کہ ہم پہلے کس اعتبار سے اس مسئلہ کا جائزہ لیں میرے خیال میں پہلے ہم سماجی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہیں جو تاریخی پہلو سے بھی کافی جڑا ہوا ہے۔

۔ جی ہاں، ہم پہلے اس واقعہ کو سماجی پہلو کے اعتبار سے بھی دیکھتے ہیں کہ اس دور کا معاشرہ تاریخ کے کس موڑ سے گزر رہا تھا۔ اس زاویہ نگاہ میں اہم ترین نکتہ رحلت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کا عرب معاشرہ ہے۔

جزیرۃ العرب کا معاشرتی نظام اسلام سے پہلے قبائلی نظام پر مبتنی تھا اس نظام میں بجائے اس کے کہ صلاحیت اور فضیلت جیسے امور کو ترجیح دی جائے حسب و نسب اور قبائلی امتیازات کو ترجیح دی جاتی تھی (۴)۔

رسول خدا (ص) نے بہت تلاش و کوشش کی کہ اس قسم کے معیار و ملاک کا خاتمہ کر کے الہی معیار کو حاکم کریں۔ اگر چہ آپ کی حیات میں جو اقدامات آپ نے انجام دئے جیسے انصار و مہاجرین کے درمیان رشتہ اخوت قائم کرنا، اس کی وجہ سے عرب سماج میں کافی تبدیلی آچکی تھی لیکن بطور کلی قبائلی معیاروں کی فوقیت کا تفکر ختم نہیں ہوا تھا اسی بنا پر پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد دوبارہ عرب معاشرے پر یہ فکر غالب ہو گئی اور عرب معاشرے نے الہی معیاروں کو قبائلی معیاروں پر ترجیح نہیں دی۔

وہ لوگ جنہوں نے سالہا سال قبائلی نظام معاشرت میں زندگی گزاری ہو ان کے لیے سخت تھا کہ وہ ۳۵ سالہ جوان کو اپنا رہنما تسلیم کریں۔ اس لیے کہ یہ چیز قبائلی معاشرتی نظام میں رائج نہیں تھی۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس دور کے مسلمانوں کی اکثریت پیغمبر اکرم کی جانشینی کو دنیوی منصب کے عنوان سے دیکھتی تھی اور اسی وجہ سے انہوں نے ’’خلافت‘‘ کی تعبیر بھی استعمال کی۔ خلیفہ وہ اسلامی حاکم ہوتا تھا جو اسلامی معاشرے کے سیاسی و سماجی امور کو چلانے کی ذمہ داری سنبھالتا ہے اور اس کا دینی، معنوی اور الہی مقامات کا حامل ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

لیکن اسی کے مقابلے میں اسی عرب معاشرے کے اندر کچھ ایسے افراد بھی موجود تھے جو قبائلی معاشرتی نظام سے باہر آ چکے تھے اور انہوں نے قبائلی معیاروں کو الہی معیاروں پر ترجیح نہیں دی، وہ پیغمبر اکرم کی جانشینی کو دنیوی امور میں منحصر نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے ایک الہی اور دینی منصب شمار کرتے تھے۔ لہذا انہوں نے پیغمبر اکرم کی جانشینی کے لیے ’’امامت‘‘ کی تعبیر استعمال کی۔ امام وہ ہوتا ہے جو اسلامی معاشرے کے سماجی سیاسی امور کی دیکھ بھال کے علاوہ الہی اور دینی منصب کا بھی حامل ہوتا ہے اور اس کا مقصد نبی کے راستے اور مقصد کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔

اس زاویہ نگاہ میں زمین کا آسمان سے رابطہ ختم نہیں ہو جاتا اگر چہ وحی کے نزول کا سلسلہ رک جاتا ہے لیکن وحی کی حقیقی تفسیر امام معصوم کے ذریعے انجام پاتی رہتی ہے اور امام معصوم کے قرآن ناطق ہونے کے یہی معنی ہیں۔

اس موضوع کو اس اعتبار سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دور کا اسلامی معاشرہ ’’عوام کی امن طلبی اور خواص کی خیانت‘‘ کے اصول پر استوار تھا۔ یعنی رحلت پیغمبر(ص) کے بعد وہ خواص جنہوں نے پیغام غدیر کو حاصل کیا انہوں نے رسالت کے ساتھ خیانت کی اور وہ عوام جو انہی خواص کے ذریعے پیغام غدیر کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے خواص کی خیانت پر امن و شانتی کے باقی رہنے کی خاطر رضامند ہو گئے اور اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے انحراف کی اصلاح کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

جاری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی

[۱] . رجوع کریں : تشـیع در مسـیر تاریخ: تحلیل و بررسـی علل پیدایش تشیع و سیر تکوین آن در اسلام، حسین جعفري، ترجمه محمدتقی آیت­اللهی، ص ۱۸-۳۸، تهران، دفتر نشر فرهنگ اسلامی، .۱۳۵

[۲] . رجوع کریں: البدایه و النهایه ج۶ ص۳۴۲-۳۴۴؛ شرح نهج البلاغه ج۱۷ ص۲۰۳؛ بحار ج۳۰ ص۴۷۲؛ تاریخ الاسلام الذهبی ج۳ ص۲۷؛ تاریخ الطبری ج۲ ص۴۷۴٫

[۳]  شرح نهج البلاغه ج۱۷ ص۲۰۹

[۴] – اعلام الوری، ج۱، ص۲۲۱؛ مناقب آل ابی طالب، ج۱، ص۱۷۸٫

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰۳