بغل میں چھوری منہ میں رام رام/ ترکی نے فلسطینیوں پر کیا عرصہ حیات تنگ




ترکی کے دارالحکومت استنبول میں مقیم شامی مہاجرین کو آئندہ منگل تک شہر چھوڑنے کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد انھیں زبردستی ترکی بدر کر دیا جائے گا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ترک حکام نے استنبول میں غیر اندارج شدہ مہاجرین کو کہا ہے کہ جن صوبوں میں ان کے ناموں کا اندارج کیا گیا تھا وہ ان صوبوں میں لوٹ جائیں۔

اطلاعات کے مطابق، انھیں زبردستی شام کے صوبے ادلب بھیجا جا رہا ہے جہاں پر حالیہ دنوں میں لڑائی میں تیزی آئی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بہت سے مہاجرین سے زبردستی ‘رضا کارانہ’ ترکی چھوڑنے کی ایسی دستاویزات پر دستخط کرائے جا رہے ہیں جن کی زبان بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔

استنبول چھوڑنے کا حکم جولائی میں جاری کیا گیا تھا جس میں ایک ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔

پانچ لاکھ کے قریب شامی مہاجرین استنبول میں رجسٹر ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین غیر قانونی طور پر استنبول میں رہ رہے ہیں جو دوسرے صوبوں میں اندراج کے بعد استنبول آ کر آباد ہو گئے ہیں۔

سنہ ۲۰۱۸ء کو خلیجی ممالک میں حکومتوں کی پابندیوں کے باعث غزہ اور غرب اردن کے ۱۱۰ خاندان ترکی پہنچے مگر اب انہیں مشکل حالات کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ۲۰۱۸ء میں ترکی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد ۲۴۲۹ تھی جن میں سے ۱۹۰۰ فلسطینی پناہ گزین شام سے ھجرت کرکے ترکی آئے تھے۔

بے دخلی کے فیصلے اور اقدامات

استنبول چھوڑنے کا حکام جاری کرتے ہوئے شامی مہاجرین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی شناختی دستاویزات ہر لمحہ اپنے ساتھ رکھیں کیونکہ ان کی شہر میں چلتے پھرتے کسی وقت بھی چیکنگ کی جا سکتی ہے۔

ترکی اس بات پر فخر کرتا ہے کہ اس نے دنیا میں سب سے زیادہ ۳۶ لاکھ مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی ہے۔ لیکن اب ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی قانون غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی ملک بدری کی اجازت نہیں دیتا۔ ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ جو شامی مہاجرین واپس لوٹ رہے ہیں وہ اپنی مرضی سے اور ان علاقوں میں جا رہے ہیں جن کو ترک فوج نے شدت پسندوں سے صاف کر دیا ہے۔

استنبول کے ان علاقوں میں جہاں مہاجرین کی اکثریت مقیم ہے وہاں ایسے مہاجرین کی کہانیاں عام ہیں جنھیں ترکی چھوڑ نے پر مجبور کر دیا گیا اور ان سے واپسی جانے کی دستاویزات پر زبردستی دستخط کرا لیے گئے اور ان دستاویزات کو انھیں پڑھنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔

نامہ نگاروں کو ایک ترکی سے بے دخل کیے جانے والے ایک شامی مہاجر نے بتایا کہ جب انھوں نے سرحد عبور کی تو انہوں نے ترکی کے پرچم کو دیکھا تو انھیں ترکی سے نفرت سی محسوس ہوئی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ترکی ایک نسل پرست ملک ہے۔

ایک اور شامی مہاجر نے کہا کہ ترکی کے عوام شام کی نظر میں شامی مہاجرین ان کیڑوں کی طرح ہیں جو ترکی کا خون نچوڑ رہے ہیں۔

شام میں آٹھ سال سے جاری جنگ کے بعد سے اب ترکی کے دروازے شامی مہاجرین پر بند ہوتے جا رہے ہیں اور اب انھیں خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔

اگست کے شروع میں بارہ ہزار شامی مہاجرین کو استنبول سے زبردستی ان صوبوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا اندراج کیا گیا تھا جبکہ چھبیس سو مہاجرین کو ایسے کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا جو وزارتِ داخلہ کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ فلسطینی مہاجرین کے ساتھ یہ سلوک ایسے حال میں کیا جا رہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوگان دنیا والوں کو دکھانے کے لیے فلسطین کی حمایت میں بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں جبکہ خود فلسطینیوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں۔ سادہ لوح مسلمانوں کی نگاہ میں ترکی فلسطین کا حامی ہے لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ترکی کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ اسرائیل کا سفارتخانہ آنقرہ اور ترکی کا سفارتخانہ تل ابیب میں موجود ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳