سلطنت برطانیہ بحری ڈاکؤوں کی یادگار؛ (1)

بحری قزاقوں نے کس طرح جزیرہ انگلینڈ کو سلطنت برطانیہ میں تبدیل کیا؟




یہ ایک چمکتی دمکتی تصویر ہے جو کہ ظاہری پرفریبیوں کے برعکس تاریخی واقعات سے زمین و آسمان کے فاصلے جتنی مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی سلطنت نہ صرف بحری قزاقوں کی دشمن نہیں ہے بلکہ اعلانیہ طور پر ـ اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے کے لئے ـ بحری قزاقوں کی حلیف بن جاتی ہے۔



انگریزوں نے یہودی مربیوں کی مدد سے دنیا کے بہت سے ممالک پر قبضہ کرکے انہیں نوآبادیات میں تبدیل کیا اور عشروں نہیں بلکہ صدیوں تو ان کے وسائل کو لوٹا، یہ سب کو معلوم ہے مگر برطانوی حکومت ـ جو اب ایک ڈوبتے ہوئے جزیرے تک محدود ہوچکی ہے مگر دنیا بھر کی شرانگیزیوں میں بدستور کردار ادا کررہی ہے، دعوی کرتی ہے کہ اس کے اسلاف نے ان ممالک کو آباد کیا ہے اور ان پر قبضہ چھوٹی سی شیطانی حکومت کے لئے مفید نہیں بلکہ نقصان دہ رہا ہے!!! لیکن حال ہی میں ایک بھارتی نژاد امریکی پروفیسر نے اعداد و شمار کی مدد سے ثابت کیا کہ صرف برصغیر سے برطانیہ نے ۴۵ ٹریلین ڈالر کی دولت غارت کردی ہے اور یوں یہ رسوائے زمانہ سلطنت ـ جس کو بوڑھا استعمار یا بوڑھی لومڑی یا بوڑھا لگڑبگڑ بھی کہا جاتا ہے ـ مزید رسوا ہوگئی؛ لیکن کم ہی کسی کو معلوم ہے کہ یہ اس سلطنت کی بنیاد بحری قزاقوں کی مدد سے رکھی گئی ہے اور صنعتی انقلاب کے دور میں اس کی عظمت سمندری قزاقوں کی لوٹ مار اور ملکہ الیزبتھ کے ساتھ ان کے باہمی سازباز کی مرہون منت ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: “کیریبین سمندر کے قزاق” ([۱]) کی فلم سیریز ہالی ووڈ کا مقبول ترین فلمی سلسلہ اور دنیا بھر میں بحری سفر کی تاریخ کا ایک حصہ ہے جس میں تخیل کا ذائقہ بھی ملا دیا گیا ہے۔ نمی میں ڈوبے ہوئے جنوبی امریکی سواحل، ان قلعوں کے ساتھ جہاں سے سلطنت برطانیہ کے سپاہی ـ اور یقینی طور پر بحری قزاق ـ بحرالہند کے اہم ساحلی علاقوں پر فرمانروائی کرتے تھے اور عشرتکدوں میں جاکر لوٹے ہوئے مال سے حاصل آمدنی کو اڑا دیتے تھے۔

یہ ایک چمکتی دمکتی تصویر ہے جو کہ ظاہری پرفریبیوں کے برعکس تاریخی واقعات سے زمین و آسمان کے فاصلے جتنی مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی سلطنت نہ صرف بحری قزاقوں کی دشمن نہیں ہے بلکہ اعلانیہ طور پر ـ اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے کے لئے ـ بحری قزاقوں کی حلیف بن جاتی ہے۔ اور ان حلیف قوتوں (یعنی سلطنت برطانیہ اور بحری قزاق) نے نہ صرف دنیا کے پانیوں پے برطانوی تسلط کو یقینی بنایا بلکہ اس اتحاد نے برطانیہ کے مہنگے شاہی دربار کے اخراجات برداشت کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

یورپیوں کے ہاتھ لاطینی امریکہ سے ایک ٹریلین ڈالر کی چوری

بحری قزاقوں کی عجیب داستان کا نقطہ آغاز گرینیڈا یا غرناطہ میں پایا جاسکتا ہے۔ جب کاسٹیلا ([۲]) کی ملکہ ایزابیلا دوم ([۳]) نے ۲ جنوری ۱۴۹۲ع‍ کو اپنے شوہر فرمانڈو ([۴]) کے ہمراہ جزیرہ نمائے ایبری ([۵]) میں ـ نو مہینوں سے جاری محاصرے کے بعد ـ مسلمانوں کی حکمرانی کی آخری نشانیوں کو بھی مٹا کر رکھ دیا۔ سات مہینے بعد اگست ۱۴۹۲ع‍ کو کریسٹوفر کولمبس ([۶]) نامی اطالوی مہم جو ایزاببلا اور فرمانڈو کی طرف سے سمندری مہم پر روانہ ہوا تا کہ افسانوی ہندوستان کو لوٹ کر برطانوی بادشاہوں کے خزانے کو مالامال کرسکے۔ ہندوستان اس سرزمین کا نام تھا جس کی تصویر صلیبی جنگوں کے زمانے سے یورپی شہسواروں کے ذہن میں ابھرتی رہی تھی۔

جزیرہ نمائے ایبری کے دوسرے گوشے میں پرتگال کے بادشاہ مانوئیل ([۷]) نے ـ جو ایزابیلا اور فرمانڈو کے نقشے کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا ـ سنہ ۱۴۹۸ع‍ میں ـ کولمبس کی مہم کے پانچ سال بعد، واسکو ڈے گاما ([۸]) کی مدد سے ہندوستان کا راستہ تلاش کیا۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس تاریخ سے دنیا بھر میں بحری تسلط کی بنیاد پر یورپیوں کی لوٹ مار کی تاریخ کا نیا دور شروع ہوا ہے۔

واسکو ڈے گاما براعظم افریقہ کا چکر کاٹ کر اس خشکی کے آخری نقطے کو نیک امیدوں کا راس ([۹]) کا نام دے کر مشرقی افریقہ کی پر رونق بندرگاہوں تک پہنچا۔ مشرقی افریقہ میں ممباسا ([۱۰]) اور مالنڈی ([۱۱]) تھے جہاں سے وہ ہندوستان کے مالابار ([۱۲]) کے علاقے کی کالی کوٹ ([۱۳]) بندرگاہ تک پہنچا اور آخرکار سنہ ۱۴۹۹ع‍ میں عظيم دولت لے کر لزبن ([۱۴]) واپس آیا۔ اس کے بعد پرتگالی بادشاہ نے تیرہ جہازوں پر مشتمل ایک بڑا بحری بیڑا “پیدرو کابرال” ([۱۵]) نامی مہم جو کی سرکردگی میں مشرق کی طرف روانہ کیا اور اس بار یہ بیڑا سنہ ۱۵۰۰ع‍ میں برازیل پہنچا اور کابرال نے اس سر زمین کو پرتگال کے بادشاہ کے نام سے متبرک کیا!!!

بحر ہند اور لاطینی امریکہ میں بحری سلطنت قائم کرنے کے سلسلے میں پرتگالیوں کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ہسپانویوں نے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ سنہ ۱۵۱۸ع‍ میں ہسپانوی مہم جو ہرنان کورٹیس ([۱۶]) نے اپنا سفر مغرب کی طرف کولمبس کے راستے پر شروع کیا۔ وہ ابتداء میں انٹیلیز اکبر ([۱۷]) تک پہنچا اور ۱۳ مارچ ۱۵۱۹ع‍ کو ۵۰۰ مسلح افراد کے ساتھ میکسیکو کے ساحل پر اترا۔ یہ حملہ لاطینی امریکہ میں آزتکوں ([۱۸]) کی صاحب ثروت سلطنت کے خلاف ایک طویل جنگ کا آغاز ثابت ہوا۔ آزتک سلطنت سائنسی اور اقتصادی حصولیابیوں کے لحاظ سے پورے یورپ سے بہت آگے تھی لیکن ان کے پاس بندوق نہ تھی اور یہ مسئلہ یورپیوں کے ہاتھوں آزتک سلطنت کے زوال اور مقامی باشندوں کے اجتماعی قتل پر منتج ہوا۔ اسی تسلسل میں ایک ہسپانوی فوجی فرانسسکو پیزارو ([۱۹]) نے پرو ([۲۰]) پر قبضہ جمایا۔ یوں پورا بر اعظم امریکہ دو یورپی سلطنتوں یعنی ہسپانیہ اور پرتگال کے زیر نگیں آیا اور اس علاقے میں قتل اور لوٹ مار کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔

ان ممالک سے لوٹی گئی دولت کے سلسلے میں واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے لیکن بعض تاریخی تخمینوں کے مطابق لاطینی امریکہ سے چوری ہونے والے سونے اور جواہرات کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرتی ہے۔

اس عظیم دولت پر ـ جو چھینی گئی یا لوٹی گئی یا چوری کی گئی ـ جدید یورپی تہذیب کی بنیاد رکھی گئی  جس کو یورپی بڑے فخر سے نشاۃ ثانیہ ([۲۱]) کا نام دیتے ہیں! اور تشخص باختہ مشرقی اقوام بھی اس سے مرعوب ہوجاتی ہیں۔

ایک استعماری طاقت میں تبدیل ہونے کے لئے انگریزوں کا پہلا قدم

اسی زمانے میں ایک ملک اور بھی تھا جو لاطینی امریکہ اور ہندوستان کی عظیم دولت لوٹنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ برطانوی بادشاہ ہینری ہشتم ([۲۲]) نے ـ جو اپنے پرتگالی اور ہسپانوی ہم منصبوں کے حسد میں مبتلا ہوچکا تھا ـ وینس کے رہائشی اطالوی مہم جو جیووانی کابوتو ([۲۳]) کو یورپ کے دوسرے بندرگاہی شہر بریستول ([۲۴]) کے تاجروں کے ہمراہ بحر اوقیانوس ([۲۵]) روانہ کیا۔ یہ اطالوی مہم جسے انگریز اپنی تاریخ میں جیووانی کابوتو کا نام دیتے ہیں،  ہینری ہشتم کے حکم پر سمندروں میں اترا تا کہ ہر اس سرزمین پر قبضہ کرلے جو مشرکین [یعنی غیر عیسائیوں] کے قبضے میں تھی۔

کایوتو نے نوا اسکوشیا ([۲۶]) میں واقع کینیڈا کے جزیرے کیپ برتون کیپ بریٹن ([۲۷]) پہنچ کر اس کو ہینری ہشتم کے نام پر اپنی ملکیت میں لے لیا۔ اس کے باوجود پرتگال اور ہسپانیہ کے ساتھ رقابت و مسابقت کے سلسلے میں برطانیہ کی انتہائی سنجیدہ کوششوں کا دور الیزبتھ اول ([۲۸]) کے زمانے سے شروع ہوا ایک ایسی لڑکی جو انگلستان میں کیتھولک مذہب کے خاتمے کی ہینروی ہشتم کی کوششوں کا ثمرہ تھی اور اسی ہی کے زمانے میں امریکی ساحلی علاقوں میں برطانوی کالونیاں قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں شروع ہوئیں۔

حواشی

[۱]۔ Pirates of the Caribbean

[۲]۔ Castilla

[۳]۔ Isabella II of Spain

[۴]۔ Francisco de Asís María Fernando de Borbón

[۵]۔ Iberian Peninsula

[۶]۔ Christopher Columbus

[۷]۔ Manuel I, the Fortunate

[۸]۔ Vasco da Gama

[۹]۔ The Cape of Good Hope (“Cabo de Boa Esperanca”).

[۱۰]۔ Mombasa

[۱۱]۔ Malindi

[۱۲]۔ Malabar region

[۱۳]۔ Calicut

[۱۴]۔ Lisbon

[۱۵]۔ Pedro Álvares Cabral

[۱۶]۔ Hernán Cortés

[۱۷]۔ Greater Antilles

[۱۸]۔ Aztecs

[۱۹]۔ Francisco Pizarro

[۲۰]۔ Peru

[۲۱]۔ Renaissance

[۲۲]۔ Henry VIII of England

[۲۳]۔ Giovanni Caboto انگریزی میں: John Cabot

[۲۴]۔ Bristol

[۲۵]۔ Atlantic Ocean

[۲۶]۔ Nova Scotia

[۲۷]۔ Cape Breton Island

[۲۸]۔ Elizabeth I of England

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری؍۱۰۱