سلطنت برطانیہ بحری ڈاکؤوں کی یادگار؛ (2)

وہ زمانہ جب بحری قزاق الیزبتھ کے اخراجات پورے کرتے تھے




الیزبتھ بر سر اقتدار آئی تو انگلستان کی معاشی حالت ناگفتہ بہ تھی اور دربار کے اخراجات اس زمانے میں تین لاکھ پونڈ تک پہنچ چکے تھے جنہیں پورا کرنا مشکل ہورہا تھا چنانچہ ملکہ برطانیہ نے سب سے آسان راستے کا انتخاب کیا اور یہ آسان راستہ بحری قزاقوں کے ساتھ معاہدہ اور سمجھوتہ کرکے دوسری سرزمینوں پر قبضے کا منصوبہ تھا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: گزشتہ سے پیوستہ

الیزبتھ کے برسراقتدار آنے کے وقت انگلستان کی آبادی بیس لاکھ سے بھی کم تھی اور الیزبتھ کی سلطنت کے آغاز میں لندن کی آبادی ۹۰۰۰۰ نفوس پر مشتمل تھی جو کہ اس کی سلطنت کے آخر میں ڈیڑھ سے دو لاکھ تک بڑھ گئی اور آبادی میں یہ اضافہ ہزاروں بحری قزاقوں اور بحر اوقیانوس کے پار علاقوں پر قبضے کے شوقین مہم جوؤں کی وسیع نقل مکانی کا نتیجہ تھا۔ لندن ان دنوں شدید طبقاتی نظام سے متاثر تھا جس کے مغرب میں صاحب ثروت لوگوں کا بسیرا تھا جبکہ مشرقی علاقہ بےشمار غرباء اور مساکین کا مسکن بنا ہوا تھا اور اس کی واحد بندرگاہ بھی دریائے ٹیمز ([۱]) کے ساحل پر واقع تھا جس کی مالک ایسٹ انڈیا کمپنی تھی۔

الیزبتھ بر سر اقتدار آئی تو انگلستان کی معاشی حالت ناگفتہ بہ تھی اور دربار کے اخراجات اس زمانے میں تین لاکھ پونڈ تک پہنچ چکے تھے جنہیں پورا کرنا مشکل ہورہا تھا چنانچہ ملکہ برطانیہ نے سب سے آسان راستے کا انتخاب کیا اور یہ آسان راستہ بحری قزاقوں کے ساتھ معاہدہ اور سمجھوتہ کرکے دوسری سرزمینوں پر قبضے کا منصوبہ تھا۔

ملکہ کے درندہ کتّے کون تھے؟

بحری جہاز لوٹنے کے سلسلے میں ملکہ الیزبتھ اول کے دو اصلی اتحادی سر جان ہاکنز ([۲])  و سر فرانسس ڈریک ([۳]) تھے اور یہ دونوں کیریبین سمندر کے قزاقوں میں شامل تھے اور چالیس سال تک سمندروں میں ملکہ الیزبتھ اول کے درندہ کتے سمجھے جاتے تھے۔

ہاکنز ـ جس کو جنوبی امریکہ کے ساتھ برطانیہ کی آزاد تجارت کا بانی کہا جاتا ہے۔ غلاموں کی تجارت کی سرپرستی الیزبتھ کی طرف سے اسی شخص کو سونپ دی گئی تھی۔ اس شخص نے پہلی بار سنہ ۱۵۶۳ع‍ میں ملکہ الیزبتھ کے شخصی حکم اور لندن مارکیٹ کے سرمائے پر، تین جہازوں اور ۱۰۰ ملاحوں کے ساتھ افریقی ملک سیرالیون ([۴]) سے ۵۰۰ افراد کو غلام بنا کر یا اغوا کرکے، ہیٹی ([۵]) میں فروخت کردیا اور پھر اپنے جہازوں پر سامان تجارت لاد کر لیورپول ([۶])  پہنچا دیا۔ ہاوکینز کا اگلا سفر گینیا [۷] کے سواحل کی جانب تھا۔ اس “سامان تجارت” پر ۳۰۰۰ پاؤنڈ سرمایہ کاری کی گئی تھی جس کا ایک تہائی حصہ ملکہ الیزبتھ نے ادا کیا تھا اور اس تجارت کی کمائی میں وہ براہ راست شریک تھی۔ یہ غلاموں کی برطانوی تجارت کا آغاز تھا جو انیسویں صدی عیسوی کے وسط تک جاری رہی۔ [اور آج بھی مختلف شکل و صورت میں جاری ہے، کیونکہ کسی وقت قزاقوں کی سلطنت کو تیسری دنیا کے انسانوں کی جسمانی طاقت کی ضرورت ہے اور آج ان کی فکری اور فنی طاقت کی ضرورت ہے جس سے وہ آج بھی فائدہ اٹھا رہی ہے]۔

دوسری طرف سے فرانسس ڈریک بھی الیزبتھ کی سرپرستی اور سرمایہ کاری کے سائے میں بحری رہزنی میں مصروف تھا۔ ڈریک ـ جس نے اپنے کام کا آغاز ایک باربردار بحری جہاز سے کیا تھا ـ ہسپانوی جہازوں کو لوٹنے کے لئے ایک بیڑا تشکیل دیا اور ہسپانوی جہازوں پر حملوں اور قتل و غارت اور لوٹ مار کا آغاز کیا۔ اس بیڑے کی تشکیل کے لئے مجموعی سرمایہ ۵۰۰۰ پاؤنڈ تک پہنچتا تھا جس کا آدھا حصہ ملکہ الیزبتھ نے ادا کیا جس سے قزاقوں کی سلطنت کی ملکہ نے چھ لاکھ پاؤنڈ کا خطیر سرمایہ کمایا۔

ڈریک نے صرف ایک حملے میں ایک پسپانوی جہاز کو لوٹ کر ۲۵۰۰۰ پیسو ([۸]) خالص سونا ہتھیا لیا۔ نیز یہ شخص غلاموں کی تجارت میں بھی کردار ادا کرتا تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے پرتگال کی افریقی نوآبادیوں کے دیہی علاقوں کو لوٹ لیا کرتا تھا۔ ہسپانوی قافلوں پر ڈریک کے مسلسل حملوں کے باعث شاہ ہسپانیہ نے اس کے سر کے لئے انعام مقرر کیا جبکہ دوسری طرف سے ملکہ انگلستان نے سنہ ۱۵۸۰ع‍ میں  اس کو “سر Sir” کا خطاب عطا کیا اور ۱۵۸۸ع‍ میں یہ سمندری ڈاکو برطانوی بحریہ کا نائب کمانڈر مقرر ہوا۔

جیمز مل ([۹]) لکھتا ہے کہ فرانسس ڈریک سنہ ۱۵۸۰ع‍ میں انگلستان واپس آیا تو ملکہ الیزبتھ نے اس کا استقبال کیا جبکہ ڈریک ہسپانوی جہازوں سے لوٹی ہوئی ۵۰۰۰۰۰ پاؤنڈ سونا اور بڑی مقدار میں مال و اسباب ساتھ لایا تھا اور یوں ملکہ صاحبہ کے دربار کے پورے سال کے اخراجات پورے ہو گئے۔

مؤرخ ارنسٹ مینڈل ([۱۰]) لکھتا ہے: سنہ ۱۵۵۰ع‍ کے لگ بھگ، انگلستان کو سرمائے کی شدید قلت کا سامنا تھا؛ تو پسپانیہ کے بحری بیڑوں کے لوٹنے کے لئے برطانیہ کی طرف سے بحری قزاقی ـ جو کارپوریشنوں اور مشترکہ کمپنیوں کی صورت میں انجام پاتی تھی ـ نے اس صورت حال کو اچھی طرح سے بدل دیا۔ انجام پانے والے تخمینوں کے مطابق برطانیہ کے سرکاری بحری ڈاکؤوں نے ملکہ الیزبتھ کے زمانے میں ایک کروڑ بیس لاکھ پاؤنڈ کی براہ راست دولت اس ملک کے خزآنے میں منتقل کردی۔

قدم بڑھاؤ نئی دنیاؤں پر قبضہ کرنے کے لئے

ملکہ الیزبتھ کا دوسرا اقدام ـ جو پھر بھی سمندری قزاقوں اور داکؤوں کی مدد سے شروع ہوسکا ـ جیووانی کابوتو کی مہم جوئیوں کے تسلسل میں نئی سرزمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی ۔ سنہ ۱۵۸۵ع‍  میں سر والٹر ریلے ([۱۱]) نے ملکہ الیزبتھ کی براہ راست حمایت کے بدولت موجودہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرزمین پر پہلی برطانوی نوآبادی پر قبضہ کیا اور ملکہ الیزبتھ اول ـ جو اس وقت کنواری ملکہ!! ([۱۲]) کہلواتی تھی ـ کے اس لقب کی مناسبت سے اس نوآبادی کا نام “ورجنیا” ([۱۳]) رکھا۔

ریلے نے سرمائے جمع کرنے کے لئے متعدد کمپنیاں قائم کی گئیں جن میں سب سے پہلی کمپنی ورجینیا کمپنی تھی جس نے پہلی بار زرعی کھیتیاں افریقہ سے لائے گئے غلاموں کی افرادی قوت کی بنیاد پر تشکیل دیں۔ ان ہی دریافتوں کے تسلسل میں نیو فاؤنڈ لینڈ، برمودا، بارباڈوس، بہاماس، میساچوسٹس، اینٹیگوا، بیلیز اور جمیکا سمیت بےشمار نوآبادیاں دریافت ہوئیں۔

حواشی

[۱]۔ River Thames

[۲]۔ John Hawkins (naval commander)

[۳]۔ Francis Drake

[۴]۔ Sierra Leone

[۵]. Haiti

[۶]۔ Liverpool

[۷]۔ Guinea

[۸]۔ Peso

[۹]۔ James Mill

[۱۰]۔ Ernest Mandel

[۱۱]۔ Walter Raleigh

[۱۲]۔ Virgin Queen

[۱۳]۔ Virginia

…………..

جاری؍۱۰۱