موبائل اور کمپیوٹر سافٹ ویئرز اسرائیلی جاسوسی کے ہتھکنڈے




بظاہر یہ سافٹ ویئر کے میدان میں خود کو مستقل قرار دینے والی دنیا کی معروف کمپنیاں ہیں لیکن صہیونی ادارے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہو پاتی کہ جو سائٖٹ ویئر انسان کے موبائل فون میں ہے اس کے ذریعے صہیونی ادارے اس کی تمام معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل سے وابستہ بہت ساری کمپنیوں نے کمپیوٹر اور موبائل فون کے لیے ایسے سافٹ ویئر تیار کئے ہیں جن کے ذریعے وہ بآسانی صارفین کی جاسوسی کر سکتے ہیں۔ ان کمپنیوں کا بظاہر جاسوسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں اسرائیلی جاسوسی ادارے انہیں خطیر رقم دے کر ان سے ایسے سافٹ ویئر تیار کرواتے ہیں جن کے ذریعے وہ جاسوسی کر سکیں۔ بظاہر یہ سافٹ ویئر کے میدان میں خود کو مستقل قرار دینے والی دنیا کی معروف کمپنیاں ہیں لیکن صہیونی ادارے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہو پاتی کہ جو سائٖٹ ویئر انسان کے موبائل فون میں ہے اس کے ذریعے صہیونی ادارے اس کی تمام معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
حال ہی میں سافٹ ویئر بنانے والی چند امریکی کمپنیوں کے بارے میں کچھ معلومات سامنے آئی ہیں جن سے معلوم ہوا ہے کہ بظاہر یہ امریکی کمپنیاں ہیں لیکن ان کو چلانے والے صہیونی یہودی ہیں جو اس سے پہلے وہ اسرائیلی فوج کے سائبری اداروں میں ملازم رہے ہیں۔
اوناوو(Onavo) کمپنی
اوناوو کمپنی سافٹ ویئر بنانے والی وہ کمپنی ہے جس کی اسرائیلی فوج کے سپاہیوں نے بنیاد ڈالی۔ یہ کمپنی شروع شروع میں اسرائیل میں ایک مستقل کمپنی دکھائی دیتی تھی۔ اور فیس بوک نے ۲۰۱۳ میں اسے خرید لیا تھا۔ لیکن بعد میں جب فیس بوک کے صارفین نے اوناوو کمپنی کے جاسوسی کمپنی ہونے کا راز فاش کیا تو فیس بوک اس کے سافٹ ویئر ڈیلیٹ کرنے پر مبجور ہو گیا۔ (۱)
NSO Group
Omri Lavie نے اس کمپنی کی بنیاد ڈالی۔ جریدہ فوربز کی رپورٹ کے مطابق، امری لاوی بھی اسرائیلی فوج کا آدمی ہے۔ جس نے آج تک کسی نامہ نگار کو انٹرویو نہیں دیا۔ اور اس کے بارے میں بہت کم اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ (۲) اس کی کمپنی اسرائیلی جاسوسی ادارے Ability Inc کے ساتھ بھرپور تعاون رکھتی ہے۔
اس سے قبل نیویورک ٹائمز نے بھی رپورٹ دی تھی کہ متحدہ عرب امارات نے اس کمپنی کے سافٹ ویئرز کے ذریعے قطری حکمرانوں کی جاسوسی کی ہے۔(۳)


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ۱۳ مئی ۲۰۱۹ کو اعلان کیا کہ این ایس او گروپ اپنی مصنوعات انسانی حقوق کو پامال کرنے والے ممالک کو بیچتا ہے جن کے ذریعے وہ اپنے مخالفین کی جاسوسی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس گروپ سے جاسوسی سرگرمیوں کو خاتمہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ (۴)
کینیڈا کی ٹورینٹو یونیورسٹی نے اپنی ایک تحقیق میں اعلان کیا کہ این ایس او گروپ اپنی مصنوعات کو بحرین، قزاقستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کو دیتا ہے جو اپنے شہریوں کی جاسوسی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔(۵)
Palo Alto
پالو الٹو کمپنی بھی نیر زوک (Nir Zuk) نامی ایک اسرائیلی شخص کے ذریعے وجود میں لائی گئی۔ نیرزوک تل ابیب کے جنوبی علاقے میں پیدا ہوئے، انہوں نے ۱۹۹۰ سے ۱۹۹۴ تک اسرائیلی فوج کے سائبری شعبہ میں ٹریننگ حاصل کی۔ بعد از آں انہوں نے ۲۰۰۵ میں پالو آلٹو نامی کمپنی کی بنیاد ڈالی۔ اس کمپنی کا اصلی دفتر کیلیفرنیا میں ہے۔ اس کمپنی کا مقصد سائبری حملوں کے مقابلے میں حفاظتی نٹ ورک قائم کرنا ہے۔ یہ کمپنی دنیا کے ۱۵۰ ملکوں میں ۶۰ ہزار کمپنیوں کو اپنا تعاون دیتی ہے۔ انتفاضہ الکٹرونیک ویبگاہ کے مطابق اس کمپنی کے مالک نے چونکہ اسرائیلی فوج کے سائبری شعبہ میں ٹریننگ حاصل کی ہے لہذا جو سافٹ ویئر یہ کمپنی تیار کر رہی ہے یقینا ان کے ذریعے جاسوسی کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ (۶)

حواشی
[۱] https://www.haaretz.com/.premium-facebook-buys-israeli-startup-onavo-for-150m-1.5273370

[۲] https://www.forbes.com/sites/thomasbrewster/2016/08/25/everything-we-know-about-nso-group-the-professional-spies-who-hacked-iphones-with-a-single-text/#3af074d73997

[۳] https://www.nytimes.com/2018/08/31/world/middleeast/hacking-united-arab-emirates-nso-group.html

[۴] https://www.amnesty.org/en/latest/news/2019/05/israel-amnesty-legal-action-stop-nso-group-web-of-surveillance/

[۵] https://citizenlab.ca/2018/09/hide-and-seek-tracking-nso-groups-pegasus-spyware-to-operations-in-45-countries/

[۶] https://electronicintifada.net/content/are-israels-spies-stealing-your-data/28051

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳