قطر کے سیاسی تجزیہ نگار سے خیبر کی خصوصی گفتگو;

ایران کی دفاعی قوت امریکی جارحیت کے آگے رکاوٹ/ یمن کے بحران کے خاتمے کے لیے سعودیوں کی کوشش: قطری تجزیہ نگار




افسوس کے ساتھ علاقے کے حالات خصوصا صدی کی ڈیل کے پیش نظر، ہر کوئی صہیونی ریاست کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کی بات کرتا ہے جو یقینا فلسطینی کاز کی نسبت خیانت ہے۔ اس وقت ہم کھلے عام اسرائیل میں رفت و آمد اور کھلمکھلا ملاقاتیں دیکھ رہے ہیں۔ اور خلیجی ممالک اور صہیونی ریاست کے درمیان سرکاری دوروں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ لہذا غاصب ریاست کی جانب سے بیت المقدس کے خلاف جو بھی ظالمانہ اقدام ہوا یا ہو گا اس میں عربوں کی خیانت شامل ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ چند ہفتوں سے علاقے کے حالات ایک بار پھر کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ صہیونی ریاست نے لبنان، عراق اور شام کو ایک ساتھ حملوں کا نشانہ بنا کر علاقے کو ایک خطرناک جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی اور اعلان کیا کہ ہم ان ممالک میں ایران کے بڑھتے ہوئے نفوذ کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ عراق میں حشد الشعبی کے ٹھکانے پر اسرائیل کی جانب سے کئے گئے حملے کے بعد نیویورک ٹائمز نے لکھا کہ یہ حملہ امریکہ کی حمایت سے انجام پایا ہے۔
لبنان میں حزب اللہ کے میڈیا سینٹر پر حملہ کیا گیا تو حزب اللہ نے اس کا دندان شکن جواب دے دیا، یمن میں سعودیہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست کھا کر پسپائی اختیار کرنا پڑی، اور اب کوشش کر رہے ہیں کہ یمنیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ بیٹھیں۔
انہی سب موضوعات کے پیش نظر خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ نے قطر کے اخبار ’’الشرق‘‘ کے تجزیہ نگار ’صالح غریب‘ کے ساتھ گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے:
۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ صہیونی ریاست نے امریکہ کی حمایت میں حالیہ دنوں عراق، شام اور لبنان میں مزاحمتی محاذ کو نشانہ بنایا لیکن اسے منہ توڑ جواب کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ اس وقت مزاحمتی محاذ کی طاقت و توانائی کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
عراق میں امریکہ کا کردار اس کے اتحادیوں کے ذریعے ادا کیا جا رہا ہے اور درحقیقت ایک طرح کی نیابتی جنگ چھیڑی جا رہی ہے۔ شائد الحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے ذریعے کیا گیا حملہ، ایک طرح سے ایران کے لیے پیغام ہو کہ اصلی مقصد ایران ہے نہ کہ عراق۔ انہوں نے عراق کو اسرائیلی اور امریکی جنگی طیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس لیے کہ مقصد ایک ہی ہے اور وہ عربی ممالک اور ایران کے خلاف مصوبوں کو عملی جامہ پہنانا۔ ان تمام منصوبوں کا اصلی ٹارگٹ ایران ہے۔ اس لیے کہ امریکہ نہیں چاہتا ایران ایک عظیم طاقت کی صورت میں علاقے میں سر اٹھائے لیکن ایران کی طاقت اس کی عوام کی طاقت میں پوشیدہ ہے اور اسے کسی دوسرے ملک کی حمایت کی ضرورت نہیں۔
۔ گزشتہ سالوں اور مہینوں میں علاقے میں مزاحمتی محاذ اور صہیونی امریکی محاذ کے درمیان کئی جھڑپیں ہوئی ہیں اور ان جھڑپوں کا نقطہ عروج ایران کے ذریعے امریکی ڈرون مار گرایا جانا تھا۔ آپ کی نظر میں ان تمام جھڑپوں میں کامیابی کس کو حاصل ہوئی ہے مزاحمتی محاذ کو یا امریکہ کو؟
امریکہ نے حالیہ مہینوں علاقے میں کئی اقدامات انجام دیئے؛ ایران کے خلاف سخت سے سخت پابندیوں سے لے کر بین الاقوامی پانیوں میں سعودی اور اماراتی اتحادیوں کی مدد سے کشتیوں میں دھماکے اور پھر ایرانی آئل ٹینکر کی توقیف، نیز ایران میں آشوب برپا کرنے اور اسے اپنے آگے جھاکنے کی بھر پور امریکی کوشش۔ میری نظر میں یہ تمام پالیسیاں بھاری شکست سے دوچار ہوئیں۔ اور امریکی اور اس کے اتحادی کسی ایک مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر کو ایران کے سلسلے میں اپنا لہجہ بھی بدلنا پڑا اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے متعدد بار خواہش کا اظہار کرنا پڑا۔ اس لیے کہ اسے پتہ چل گیا کہ دباؤ سے ایران جھکنے والا نہیں ہے۔ عرب ممالک سے تو امریکہ کا مقصد صرف پیسے ہڑپنا ہے۔ میری نظر میں امریکی ایران کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ انہوں نے اپنا لہجہ بدل کر بھی ایرانیوں کو اپنے سے قریب کرنے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ ناکام ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ امریکیوں کے تمام منصوبے ہمیشہ شکست سے دوچار ہوں گے۔
۔ آپ نے مغربیوں کی جانب سے مزاحمتی محاذ پر بڑھائے جانے والے دباؤ اور پابندیوں کی طرف اشارہ کیا۔ مزاحمتی محاذ خصوصا ایران پر دن بدن پابندیوں کا اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے باوجود ایران نے میزائلی سسٹم ۳۷۳ کی رونمائی کی اور یمن نے کئی ڈرونز تیار کر لئے۔ آپ کا اس دفاعی ترقی کے حوالے سے کیا تجزیہ ہے؟
بے شک ایران کا طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل سسٹم ۳۷۳ کی رونمائی کا مطلب علاقے میں دشمن کے جنگی طیاروں مخصوصا امریکی ڈرونز کی نابودی ہے۔ یہ اقدام دفاعی توانائی کے میدان میں ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی چیز امریکہ کی تشویش کا باعث ہے اور اسی وجہ سے امریکہ ایران پر اپنا دباو بڑھا رہا ہے اور اس کے لیے علاقے میں ایسے بحرانی مواقع فراہم کر رہا ہے کہ ایران ان میں خواستہ نخواستہ ٹوٹ پڑے اور پھر دنیا والوں سے کہے کہ ایران علاقے میں آشوب کی جڑ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خود دھشتگردی اور آشوب کا اصلی عامل ہے وہ اس طریقے سے اپنے ہتھیاروں کو علاقے مخصوص خلیجی ممالک کو فروخت کرنا چاہتا ہے۔ ایران کا میزائل سسٹم امریکی منصوبوں کو علاقے میں ناکام بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
۔ یمن کی میزائلی طاقت میں ترقی اور سعودیہ کے مراکز کو حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟ کیا سعودی جارحین نے علاقے مخصوصا قطر کے محاصرے سے پسپائی اختیار کر لی ہے؟
یمن میں صورتحال مختلف ہے۔ سعودیوں اور اماراتیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ یمن کی قانونی حکومت کی حمایت میں حوثیوں اور ایران کے یمن میں نفوذ کے خلاف وارد جنگ ہوئے ہیں۔ لیکن ۵ سال کے عرصے میں نقشہ پلٹ گیا استعماری طاقتوں کی سازشیں برملا ہوئیں۔ ان کا مقصد یمن سے ایران کو باہر نکالنا تھا۔ لیکن حوثیوں نے جنگ کا نقشہ پلٹ دیا۔ سعودی عرب کے اصلی مراکز جیسے آرامکو، یا ریاض، جنوبی شہر عسیر، ابہا اور جازان کو حملوں کا نشانہ بنا کر اپنا لوہا منوا لیا۔ دوسری جناب سے ابوظہبی اور دبئی پر حملے بھی متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں کے لیے سخت لہجے میں انتباہ تھا۔ اس لیے کہ امریکہ کو چاہیے کہ اب یمن میں اپنے سپاہیوں کے لیے کوئی پناہ گاہ تلاش کرے۔
یہ تمام چیزیں سبب بنی ہیں کہ سعودی یمن کے بحران سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کریں۔ اس لیے کہ یمن کے بحران اور قطر کے محاصرے نے ان کے لیے بہت ساری مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ سعودی اب یہ چاہتے ہیں کہ یمن کے دلدل سے نکل کر قطر کے محاصرے کو بھی ہٹائیں اور قطر کے ساتھ دوبارہ روابط برقرار کریں لیکن اس درمیان اماراتی نہیں چاہتے کہ سعودیہ کے قطر کے ساتھ روابط معمول پر آئیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ سعودیوں کو قطر کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کے لیے ایک نیا صفحہ کھولنا پڑے گا۔
۔ بیت المقدس کو یہودی شہر بنائے جانے اور اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کرنے میں صہیونی غاصبوں کے ظالمانہ اقدامات کا کیسے مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟
افسوس کے ساتھ علاقے کے حالات خصوصا صدی کی ڈیل کے پیش نظر، ہر کوئی صہیونی ریاست کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کی بات کرتا ہے جو یقینا فلسطینی کاز کی نسبت خیانت ہے۔ اس وقت ہم کھلے عام اسرائیل میں رفت و آمد اور کھلمکھلا ملاقاتیں دیکھ رہے ہیں۔ اور خلیجی ممالک اور صہیونی ریاست کے درمیان سرکاری دوروں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ لہذا غاصب ریاست کی جانب سے بیت المقدس کے خلاف جو بھی ظالمانہ اقدام ہوا یا ہو گا اس میں عربوں کی خیانت شامل ہے۔ اور عرب باعث بنے ہیں کہ بیت المقدس پر صہیونی اپنا تسلط قائم کر سکیں اور فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳