سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کے پاکستان دورے کا مقصد صہیونی پائلٹ کی رہائی




سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے پاکستان دورے کا مقصد مسئلہ کشمیر پر گفتگو نہیں تھی بلکہ ایک صہیونی پائلٹ کو رہائی دلوانا تھا



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، قطر کے ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے پاکستان دورے کا مقصد مسئلہ کشمیر پر گفتگو نہیں تھی بلکہ ایک صہیونی پائلٹ کو رہائی دلوانا تھا تو پاکستان کی جیل میں قید تھا۔
’’بوغانم‘‘ جو خلیج فارس کے عرب ممالک کے اسرار کو فاش کرنے میں معروف ہیں اور انہوں نے چند ماہ قبل یہ راز بھی فاش کیا تھا کہ حاکم دبئی کی بیوی فرار کر گئی ہے جو بعد میں سچ نکلا، انہوں نے ’’عادل الجبیر‘‘ اور ’’عبداللہ بن زاید آل نہیان‘‘ کے اسلام آباد دورے کے موقع پر یہ راز بھی فاش کیا ہے کہ ان دو وزرائے خارجہ کے پاکستان دورے اور پاکستانی وزیر اعظم ’’عمران خان‘‘ سے ملاقات کا مقصد اسرائیلی پائلٹ کو آزادی دلوانا ہے۔
بوغانم نے ٹویٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور امارات نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی پائلٹ کی رہائی میں ریاض اور ابوظہبی کی وساطت کو خفیہ رکھا جائے۔

الجبیر اور بن زائد ایک ہی فلائٹ سے اسلام آباد گئے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے الجبیر اور بن زائد کا کیا استقبال

خیال رہے کہ رواں سال کے شروع میں ہند و پاک کے درمیان ہوئی کشیدگی کے موقع پر بھارت کے دو جنگی ہیلی کاپٹروں نے لائن آف کنٹرول کو پار کر کے پاکستان میں گولہ باری کرنے کی کوشش کی جبکہ پاکستان نے میزائل ڈیفنس سسٹم کے ذریعے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق گرفتار شدہ دو پائلٹوں میں سے ایک ہندوستانی تھا جبکہ دوسرا اسرائیلی تھا۔
بھارتی پائلٹ کو کچھ دنوں بعد رہا کر دیا گیا جبکہ دوسرے پائلٹ کے بارے میں پاکستان نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

بھارتی پائلٹ کی رہائی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳